کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس امت سے تعلق رکھنے والے ، جنت مین داخل ہونے والے افراد کی کثرت کا مزید بیان
حدیث نمبر: 18686
عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي مِائَةَ أَلْفٍ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَهَكَذَا " وَأَشَارَ بِيَدِهِ . قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا ، قَالَ : " وَهَكَذَا " . قَالَ عُمَرُ : قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ : " مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابٍ " . قَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ [ وَاحِدَةٌ ] . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَّقَ اللَّهُ عُمَرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ایک لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے سے مزید کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات کہی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اس طرح ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر ! آپ کے لئے اتنا کافی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب ! ہمارا اور تمہارا کیا واسطہ ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک ہی لپ ( یعنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر جو بنایا جاتا ہے ) کے ذریعے تمام لوگوں کو جنت میں داخل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18687
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَمِائَةِ أَلْفٍ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَهَكَذَا " وَجَمَعَ كَفَّيْهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مزید کروائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس طرح ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ( اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18688
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا " . قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لِكُلِّ رَجُلٍ سَبْعُونَ أَلْفًا " . قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَانَ عَلَى كَثِيبٍ فَحَثَا بِيَدَيْهِ ، قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هَذِهِ " فَحَثَا بِيَدَيْهِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَبْعَدَ اللَّهُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ بَعْدَ هَذَا ، رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر ایک فرد کے ساتھ ، ستر ہزار لوگ ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ہو گا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا لیں ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے جو اس کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18689
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ] قَالَ : سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَاسْتَزَدْتُهُ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، فَقُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرَ أُمَّتِي ؟ قَالَ : إِذًا أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی تو اس نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ، جو چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، میں نے اس سے مزید کی درخواست کی ، تو اس نے مجھے مزید ، ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ عطا کیے ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اگر میری امت کے مہاجرین اتنی تعداد میں نہ ہوئے ؟ تو پروردگار نے فرمایا : میں دیہاتیوں کے ذریعے تمہارے لئے اس تعداد کو مکمل کر دوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں اختصار کے ساتھ ایک روایت منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18690
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : آيَةٌ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي فَارِعٍ ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ - . قُلْتُ : قِصَّةُ الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی گونج سنی ، وہ یہ کہہ رہے تھے : ایک نشانی ظاہر ہوئی ہے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ” فارع “ میں تھے ، میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھ کر نکلی اور عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث روایت نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا ، پچاس ہزار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، اے اللہ ! تو اسے ان میں شامل کر دے ، اے لوگو ! میرے ( منبر سے ) نیچے اترنے سے پہلے تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، یہ وہی شخص تھا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کا واقعہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباس بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباس بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18691
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ثَلَاثَمِائَةِ أَلْفٍ " . فَقَالَ عُمَيْرٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ : " هَكَذَا " . فَقَالَ عُمَيْرٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ عُمَرُ : حَسْبُكَ يَا عُمَيْرُ ! فَقَالَ : مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ الْجَنَّةَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ - أَوْ حَثْيَةٍ - وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ عَمَرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن عمیر ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے تین لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ۔ “ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمارے لئے مزید کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس طرح ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے لئے مزید کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمیر ! تمہارے لئے اتنا کافی ہے ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب ! ہمارا اور آپ کا کیا واسطہ ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل کر دے گا ، تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی لپ کے ذریعے جنت میں داخل کر سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکر بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکر بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔