کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ، جنت میں داخل ہونے والوں کی کثرت کا بیان
حدیث نمبر: 18675
عَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي [ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ : فَكَبَّرْنَا . ثُمَّ قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ " . قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے یہ امید ہے کہ میری امت میں سے جو لوگ میری پیروی کریں گے ، قیامت کے دن وہ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے تکبیر کہی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگوں کا ( یعنی اہل جنت کا ) ایک تہائی حصہ ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے تکبیر کہی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ وہ ( یعنی میری امت کے افراد ، اہل جنت کا ) نصف ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اسی طرح ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اسی طرح ہیں ۔
حدیث نمبر: 18676
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، أُمَّتِي مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا ، وَسَائِرُ الْأُمَمِ أَرْبَعُونَ صَفًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اُن میں سے میری امت کی اسّی صفیں ہوں گی اور باقی تمام امتوں کی چالیس صفیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18677
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبْعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ لَكُمْ رُبْعُهَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا ؟ " . فَقُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثُهَا ؟ " . قَالُوا : فَذَاكَ أَكْثَرُ [ قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشِّطْرُ ؟ " قَالُوا : فَذَلِكَ أَكْثَرُ ] . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْرَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اہل جنت کا چوتھا حصہ ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ تمہیں اس کا ایک چوتھائی مل جائے ، اور باقی سب لوگوں کو اس کا تین چوتھائی ملے ، ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ایک تہائی ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نصف ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور ان میں سے تمہاری اسّی صفیں ہوں گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18678
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، ثَمَانُونَ مِنْهَا أُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ، جن میں سے اسّی میری امت کی ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید دمشقی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید دمشقی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18679
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ صَفًّا ، أَنْتُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا ، وَالنَّاسُ سَائِرُ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ( جن میں سے ) تمہاری اسّی صفیں ہوں گی اور باقی صفیں دیگر تمام لوگوں کی ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عیسیٰ جہنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عیسیٰ جہنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18680
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَوْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اہل جنت کا ایک تہائی ، یا اہل جنت کا نصف ہو گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18681
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ الدُّؤَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن خالد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، خالد نے ان سے اس سب سے زیادہ نرم بات کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : خبردار ! تم سب جنت میں داخل ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جیسے اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد دؤلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد دؤلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18682
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى ، كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا ، مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ( یعنی اس امت کا ہر فرد جنت میں داخل ہو جائے گا ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس میں صرف انتہائی بدنصیب ہی جائے گا ۔ “ یعنی وہ شخص اس چیز کی تکذیب کرے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور اس سے منہ پھیر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18683
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ أَكْتَعُونَ ، إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ يَسِيرٍ فِي بَعْضِهِمْ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْمَنَاقِبِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سب کے سب جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے ، جیسے اونٹ سرکشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ ان میں سے کچھ میں ، معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب المناقب میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ ان میں سے کچھ میں ، معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب المناقب میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 18684
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا رَدَّ عَلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِضَاضِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا ، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : شفاعت کے بارے میں آپ کا پروردگار آپ کو کیا جواب دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سے ، تم سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے ، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تمہیں علم کے حصول کی شدید خواہش ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، ان کا جنت کے دروازوں پر ہجوم میرے نزدیک میری شفاعت سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا دل ، اس کی زبان کی تصدیق کرے اور اس کی زبان ، اس کے دل کی تصدیق کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاویہ بن معتب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاویہ بن معتب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18685
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ مِثْلَ اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ زُمْرَةً جَمِيعًا ، تَخْبِطُونَ الْأَرْضَ ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : لَمَا جَاءَ مَعَ مُحَمَّدٍ أَكْثَرُ مِمَّا جَاءَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم میں سے کچھ لوگوں کو جنت کی طرف یوں بھیجے گا کہ وہ گروہ کی شکل میں ، تاریک رات کی مانند ہوں گے ، تم لوگ زمین کو بھر دو گے اور فرشتے کہیں گے : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں وہ اُن سے زیادہ ہیں ، جتنے لوگ دیگر تمام انبیاء کے ساتھ آئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔