کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: قدر و منزلت کے اعتبار سے ، سب سے کم مقام والے جنتی کا بیان اور ( اہل جنت میں سے ) کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا ؟
حدیث نمبر: 18665
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " آخِرُ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنَ النَّارِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَهُوَ أَشَدُّ حَسْرَةً . ¤ وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ " . قَالَ : " فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلَ مِنْ ثِمَارِهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ، ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا [ وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ] ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟[ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ] فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا ،[ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ] ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَأَغْدَقُ مَاءً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَذِهِ [ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَ ] أَقِرَّنِي تَحْتَهَا [ فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُّ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدُنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ] ، فَيُدْنِيهِ تَحْتَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَلَّا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا . فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلَا يَتَمَالَكُ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : سَلْ وَتَمَنَّ ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا ، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى ، فَإِذَا فَرَغَ قَالَ : [ ابْنَ آدَمَ ] لَكَ مَا سَأَلْتَ " . ¤ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : " وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ : " وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ " . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری دو آدمی جو جہنم سے نکلیں گے ، اللہ تعالیٰ اُن دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی ؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! تو اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور اہل جہنم میں وہ سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، اللہ تعالیٰ دوسرے شخص سے دریافت کرے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کا کام کیا ؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں اے میرے پروردگار ! ( میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ) تاہم میں تجھ سے امید رکھتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس شخص کے سامنے ایک درخت آئے گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پی لوں ، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کرتا رہے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے گا ، پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا ، جو پہلے والے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس ( دوسرے والے ) درخت کے نیچے ٹھہرا دے ، میں تجھ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ، میں اس کے سائے میں آ جاؤں گا اور اس کے پھل کو کھاؤں گا اور اس کے پانی کو پی لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے میرے ساتھ یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں اب اس کے علاوہ تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے نیچے ٹھہرا دے گا ، اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا ، پھر اس شخص کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک درخت آئے گا ، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے اس کے علاوہ نہیں مانگوں گا ، تو مجھے اس کے نیچے ٹھہرا دے ، تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پیوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے مجھ سے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس درخت کے نیچے کر دے گا اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا ، وہ شخص اہل جنت کی آوازیں سنے گا ، تو اسے خود پر ق ابونہیں رہے گا اور وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت میں داخل کر دے ! ( جب وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا تو پروردگار فرمائے گا تم مانگو ! اور تمنا کرو ! وہ شخص دنیا کے دنوں کے حساب سے تین دن تک مانگتا رہے گا اور تمنا کرتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ان چیزوں کے بارے میں بھی تلقین کرے گا ، جن کے بارے میں اسے علم بھی نہیں تھا ، وہ مانگے گا اور تمنا کرے گا ، جب وہ فارغ ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملا ! سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملا ۔ “ جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید دس گنا ملا ۔ “ ان دونوں میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا: آپ وہ بیان کریں جو آپ نے سنا ہے اور میں وہ بیان کروں گا ، جو میں نے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی مانند دس گنا ۔ “ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اس کی مانند الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی مانند دس گنا ۔ “ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اس کی مانند الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18666
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً إِنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ ، وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ فَوْقَهُ وَالسَّابِعَةِ ، وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَمِائَةِ خَادِمٍ ، وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ بِثَلَاثِمِائَةِ صَحْفَةٍ - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : مِنْ ذَهَبٍ ، فِي كُلِّ صَحْفَةٍ مَا لَيْسَ فِي الْأُخْرَى ، وَإِنَّهُ لِيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ ، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ ، وَسَقَيْتُهُمْ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ ، وَإِنَّ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً ، [ سِوَى أَزْوَاجِهِ ] وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُنَّ لَتَأْخُذُ مَقْعَدَهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کم مقام کا مالک وہ شخص ہو گا ، جس کے سات درجات ہوں گے اور وہ چھٹے درجے پر ہو گا ، ساتواں درجہ اس کے اوپر ہو گا ، اس کے تین سو خادم ہوں گے ، اس کے پاس صبح و شام تین سو پیالے لائے جائیں گے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) سونے کے بنے ہوئے پیالے لائے جائیں گے ، اور ہر پیالے میں دوسرے پیالے سے مختلف کھانا ہو گا ، اور وہ پہلے سے بھی اسی طرح لذت محسوس کرے گا ، جس طرح آخری سے لذت محسوس کرے گا اور وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام اہل جنت کو کھانا کھلاؤں اور انہیں مشروب پلاؤں ، تو بھی میرے پاس جو کچھ موجود ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی اور اس شخص کو حورعین میں سے بہتر بیویاں ملیں گی جو اس کی دنیاوی بیویوں کے علاوہ ہوں گی ، اور ان میں سے ایک کے بیٹھنے کی جگہ زمین کے ایک میل جتنی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18667
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حَظًّا - أَوْ نَصِيبًا - قَوْمٌ يُخْرِجُهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ فَيَرْتَاحُ لَهُمُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، فَيَبْدُونَ بِالْعَرَاءِ ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَتِ الْأَرْوَاحُ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالُوا : رَبَّنَا ، كَالَّذِي أَخْرَجْتَنَا مِنَ النَّارِ ، وَرَجَّعْتَ الْأَرْوَاحَ إِلَى أَجْسَادِنَا ، فَاصْرِفْ وُجُوهَنَا عَنِ النَّارِ " . قَالَ : " فَيَصْرِفُ وُجُوهَهُمْ عَنِ النَّارِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حصے کے اعتبار سے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) اہل جنت میں سب سے کم مرتبہ کا مالک وہ ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نکالے گا ، اللہ تعالیٰ ان پر یہ مہربانی اس لیے کرے گا کیونکہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیتے ہوں گے ، پھر وہ یوں اُگیں گے جیسے سبزی اُگتی ہے یہاں تک کہ جب ارواح ان کے جسموں میں داخل ہو جائیں گی ، تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! جس طرح تو نے ہمیں جہنم سے نکال دیا ہے اور ارواح کو ہمارے جسموں کی طرف لوٹا دیا ہے ، تو تُو ہمیں جہنم کی طرف سے پھیر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اللہ تعالی ان کے چہرے جہنم سے پھیر دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18668
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حِلْيَةً عَدَلَتْ حِلَيَتُهُ عَلَيْهِ أَهْلَ الدُّنْيَا جَمِيعًا ، لَكَانَ مَا يُعْطِيهِ اللَّهُ فِي الْآخَرِةَ أَفْضَلُ مِنْ حِلْيَةِ أَهْلِ الدُّنْيَا جَمِيعًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اہل جنت کے سب سے کم تر فرد کے زیور کا تمام اہل دنیا کے زیورات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس شخص کو جو زیور عطا کرے گا وہ تمام اہل دنیا کے زیورات سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18669
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِهِ أَلْفَيْ سَنَةٍ يُرَى أَقْصَاهُ كَمَا يُرَى أَدْنَاهُ ، يَنْظُرُ إِلَى أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِي أَسَانِيدِهِمْ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کمتر شخص جو ہو گا وہ اپنی ملکیت میں دو ہزار سال ( کی مسافت ) تک نظر کر سکے گا اور وہ دور کے حصے کو بھی یوں دیکھ لے گا جس طرح نزدیکی حصے کو دیکھ سکے گا اور وہ اپنی بیویوں اور خدمت گاروں کو بھی دیکھ سکے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان کی اسانید میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان کی اسانید میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 18670
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَسْفَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِينَ دَرَجَةً لَمَنْ يَقُومُ عَلَى رَأْسِهِ عَشَرَةُ الْآفٍ ، بِيَدِي كُلِّ وَاحِدٍ صَحِيفَتَانِ ، وَاحِدَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالْأُخْرَى مِنْ فِضَّةٍ ، فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى مِثْلُهُ ، يَأْكُلُ مِنْ آخِرِهَا مِثْلَ مَا يَأْكُلُ مِنْ أَوَّلِهَا ، يَجِدُ لِآخِرِهَا مِنَ الطِّيبِ وَاللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي يَجِدُ لِأَوَّلِهَا ، ثُمَّ يَكُونُ ذَلِكَ رِيحَ الْمِسْكِ الْأَذْفَرِ ، لَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ ، إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل جنت میں جو سب سے کم مرتبہ کا شخص ہو گا اس کے سرہانے بھی دس ہزار ملازمین موجود ہوں گے جن میں سے ہر ایک کے ہاتھوں میں دو دو برتن ہوں گے ، ان میں سے ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا ہو گا اور ان میں سے ہر ایک میں مختلف قسم کا کھانا ہو گا وہ شخص آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کھائے گا ، جس طرح پہلے میں سے کھائے گا اور اسے آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کی خوشبو اور لذت محسوس ہو گی جس طرح کی پہلے برتن میں سے محسوس ہوئی تھی ( یعنی زیادہ کھانے کی وجہ سے اس کی خوشبو یا لذت میں کمی نہیں ہو گی ) اور پھر وہ سب کھانا مشک اذفر کی طرح کی خوشبو میں تبدیل ہو جائے گا ، اہل جنت کو پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہیں ہو گی اور نہ انہیں بلغم تھوکنے کی ضرورت ہو گی ، وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18671
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا : رَجُلٌ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ زَحْزِحْنِي عَنِ النَّارِ ، وَلَا يَقُولُ : أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَإِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، بَقِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، مَا لِي هَهُنَا ؟ قَالَ : ذَاكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي ! قَالَ : فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهُ شَجَرَةً عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي أَنْ أُزَحْزِحَكَ عَنِ النَّارِ ؟ فَلَا يَزَالُ يَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : اذْهَبْ فَلَكَ مَا بَلَغَتْ قَدَمَاكَ ، وَرَأَتْ عَيْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " هَذَا مَا كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَدَتْ لَهُ شَجَرَةٌ مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ دَاخِلَةً الْجَنَّةَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي ! قَالَ : يَا رَبِّ أَيْنَ مِثْلُكَ ؟ فَلَمْ يَزَلْ يَرَى شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ شَيْءٍ ، وَيَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : اذْهَبْ فَلَكَ مَا سَعَتْ قَدَمَاكَ ، وَمَا رَأَتْ عَيْنَاكَ ، فَيَسْعَى حَتَّى يَكَدَّ أَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ : هَذَا وَهَذَا ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، فَيَرْضَى حَتَّى يَرَى أَنَّهُ أَعْطَاهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : لَوْ أُذِنَ لِي أَدْخَلْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ طَعَامًا ، وَشَرَابًا ، وَكِسْوَةً مِمَّا أَعْطَانِي اللَّهُ ، وَلَا يَنُقُصُنِي ذَلِكَ شَيْئًا " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اُس شخص کے بارے میں پتا ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا ، وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے جہنم سے دور کر دے ، وہ یہ نہیں کہے گا : تو مجھے جنت میں داخل کر دے ، جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم ، جہنم میں داخل ہو جائیں گے اور صرف وہ شخص باقی رہ جائے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں ؟ پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت کے قریب کر دے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے مانگنا نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کے پاس اس کے لیے ایک درخت پیدا کرے گا ، وہ شخص یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں رہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو صرف مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ میں تمہیں جہنم سے دور کر دوں ، وہ شخص مسلسل مانگتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس سے کہا: جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب ملتا ہے ، جہاں تک کہ تمہارے قدم پہنچیں گے اور جہاں تک تمہاری آنکھیں دیکھیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم مجھ سے مانگ رہے تھے ، اسی دوران اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت نظر آئے گا ، جو جنت کے اندرونی حصے میں ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آ جاؤں ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے ( مزید کچھ ) مانگنا نہیں تھا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری مثال کہاں ہے ، تو وہ شخص مسلسل یہی کرتا رہے گا کہ جب زیادہ بہتر چیز دیکھے گا تو وہ مانگنا شروع کر دے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ کہا: جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب کچھ ملتا ہے ، جہاں تک تمہارے قدم جائیں اور جو تمہاری آنکھیں دیکھیں ، تو وہ دوڑے گا ، یہاں تک کہ وہ تھک جائے گا ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے کہے گا : یہ اور یہ ، تو اُسے کہا: جائے گا : یہ تمہیں ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے ، تو وہ راضی ہو جائے گا ، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے ، وہ اہل جنت میں سے کسی کو عطا نہیں کیا ، وہ کہے گا : اگر مجھے اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دیا ہے ، میں اُس میں سے اہل جنت کو کھانا ، مشروب اور لباس فراہم کروں ، پھر بھی جو کچھ میرے پاس ہے ، اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم مجھ سے مانگ رہے تھے ، اسی دوران اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت نظر آئے گا ، جو جنت کے اندرونی حصے میں ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آ جاؤں ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے ( مزید کچھ ) مانگنا نہیں تھا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری مثال کہاں ہے ، تو وہ شخص مسلسل یہی کرتا رہے گا کہ جب زیادہ بہتر چیز دیکھے گا تو وہ مانگنا شروع کر دے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ کہا: جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب کچھ ملتا ہے ، جہاں تک تمہارے قدم جائیں اور جو تمہاری آنکھیں دیکھیں ، تو وہ دوڑے گا ، یہاں تک کہ وہ تھک جائے گا ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے کہے گا : یہ اور یہ ، تو اُسے کہا: جائے گا : یہ تمہیں ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے ، تو وہ راضی ہو جائے گا ، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے ، وہ اہل جنت میں سے کسی کو عطا نہیں کیا ، وہ کہے گا : اگر مجھے اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دیا ہے ، میں اُس میں سے اہل جنت کو کھانا ، مشروب اور لباس فراہم کروں ، پھر بھی جو کچھ میرے پاس ہے ، اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18672
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ آخِرَ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ : رَجُلٌ يَتَقَلَّبُ عَلَى الصِّرَاطِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، كَالْغُلَامِ يَضْرِبُهُ أَبُوهُ ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ يَعْجَزُ عَنْ عَمَلِهِ أَنْ يَسْعَى ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، بَلِّغْ بِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي ، إِنْ نَجَّيْتُكَ مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخَلْتُكَ الْجَنَّةَ أَتَعْتَرِفُ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ ؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَئِنْ نَجَّيْتَنِي مِنَ النَّارِ لَأَعْتَرِفَنَّ لَكَ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ ، فَيَجُوزُ الْجِسْرَ ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ : لَئِنِ اعْتَرَفْتُ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ لَيَرُدُّنِي إِلَى النَّارِ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي اعْتَرِفْ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ أَغْفِرْهَا لَكَ ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ [ لَا ] : وَعَزَّتِكَ ، مَا أَذْنَبْتُ ذَنْبًا قَطُّ ، وَلَا أَخْطَأْتُ خَطِيئَةً قَطُّ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي ، إِنَّ لِي عَلَيْكَ بَيِّنَةً ، فَيَلْتَفِتُ الْعَبْدُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَلَا يَرَى أَحَدًا فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَرِنِي بَيِّنَتَكَ ، فَيُنْطِقُ اللَّهُ جِلْدَهُ بِالْمُحَقَّرَاتِ ، فَإِذَا رَأَى ذَلِكَ الْعَبْدُ يَقُولُ : يَا رَبِّ عِنْدِي وَعَزَّتِكَ الْمُضْمَرَاتُ ، فَيُوحِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ : عَبْدِي ، أَنَا أَعْرَفُ بِهَا مِنْكَ ، اعْتَرِفْ لِي بِهَا أَغْفِرْهَا لَكَ ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ ، فَيَعْتَرِفُ الْعَبْدُ بِذُنُوبِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، يَقُولُ : هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، فَكَيْفَ بِالَّذِي فَوْقَهُ ؟ ! " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَضُعَفَاءُ فِيهِمْ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص وہ ہو گا جو پل صراط پر یوں لوٹ رہا ہو گا ، جیسے کسی لڑکے کی اس کا باپ پٹائی کرے اور وہ لڑکا اس سے بھاگنا چاہتا ہو ، اس شخص کا عمل اسے اس قابل نہیں رہنے دے گا کہ وہ دوڑ سکے ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت تک پہنچا دے اور مجھے جہنم سے نجات دیدے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! اگر میں نے تجھے جہنم سے نجات دیدی اور میں نے تجھے جنت میں داخل کر دیا ، تو کیا تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے گا ؟ بندہ جواب دے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ! اگر تو نے مجھے جہنم سے نجات عطا کر دی تو میں تیرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لوں گا ، وہ پل صراط کو پار کر لے گا ، پھر وہ شخص یہ سوچے گا اگر میں نے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لیا ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم کی طرف واپس بھیج دے گا ، اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے تاکہ میں تیری مغفرت کر دوں اور تجھے جنت میں داخل کر دوں ، تو بندہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! میں نے کبھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خطا نہیں کی ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تمہارے خلاف میرے پاس ایک ثبوت ہے ، وہ بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا ، اُسے کوئی نظر نہیں آئے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو اپنا ثبوت مجھے دکھا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو گویائی عطا کرے گا ، تو وہ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں کا اعتراف کرے گی ، جب بندہ یہ صورتحال دیکھے گا تو وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری عزت کی قسم میرے کچھ ایسے گناہ بھی ہیں ، جو پوشیدہ ہیں ، تو پروردگار اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! میں ان کے بارے میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، تم میرے سامنے ان کے حوالے سے اعتراف کر لو ، میں ان کے حوالے سے تمہاری مغفرت کر دوں گا اور تمہیں جنت میں داخل کر دوں گا ، تو بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لے گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اس شخص کا حال ہے جو اہل جنت میں سب سے کم تر مرتبہ کا ہو گا ، تو اس کا کیا حال ہو گا ؟ جو اس سے اوپر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان میں ضعیف راوی ہیں جن کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان میں ضعیف راوی ہیں جن کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18673
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ : رَجُلٌ مَرَّ بِهِ رَبُّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ لَهُ : قُمْ . فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَابِسًا ، فَقَالَ : وَهَلْ أَبْقَيْتَ لِي شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ . لَكَ مِثْلُ مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هُبَيْرَةَ بْنِ مَرْيَمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ طَوِيلٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ذَكَرْتُهُ فِي بَابٍ جَامِعٍ فِي الْبَعْثِ ، وَهُوَ أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جنت میں داخل ہونے والا آخری فرد وہ ہو گا جس کے پاس سے اس کا پروردگار گزرے گا اور اس سے فرمائے گا : تم اُٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، تو وہ ماتھے پر بل ڈال کر اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا : کیا تو نے میرے لیے کوئی چیز باقی رہنے دی ہے ؟ پروردگار فرمائے گا : جی ہاں ! تمہیں اس کی مانند ملتا ہے ، جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہبیرہ بن یریم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ایک ” صحیح “ طویل حدیث گزر چکی ہے جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، میں نے اُسے باب : دوبارہ زندہ کیے جانے ( سے متعلق روایات ) کا مجموعہ میں ذکر کیا ہے اور وہ ان روایات سے زیادہ واضح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہبیرہ بن یریم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ایک ” صحیح “ طویل حدیث گزر چکی ہے جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، میں نے اُسے باب : دوبارہ زندہ کیے جانے ( سے متعلق روایات ) کا مجموعہ میں ذکر کیا ہے اور وہ ان روایات سے زیادہ واضح ہے ۔