کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18552
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ ; فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ : ابْنِي ابْنِي ، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ ! قَالَ : فَخَفَّضَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " وَلَا ، وَاللَّهُ مَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ اصحاب کا گزر ہوا ، راستے میں ایک بچہ موجود تھا ، جب اس کی ماں نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو اسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بچہ پیروں تلے نہ آ جائے ، وہ دوڑتی ہوئی آئی ، وہ یہ کہہ رہی تھی : میرا بچہ ، میرا بچہ ، اُس نے دوڑ کے آ کے اس بچے کو پکڑ لیا ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالے گی راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18553
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ سَبْيٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : - وَبَلَغَنِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ أَخَذُوا فَرْخَ طَيْرٍ ، فَأَقْبَلَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِي الَّذِي أَخَذَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَعْجَبُونَ لِهَذَا الطَّيْرِ ؟ أَخَذَ فَرْخَهُ فَأَقْبَلَ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَاللَّهِ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِخَلْقِهِ مِنْ هَذَا الطَّيْرِ بِفَرْخِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ قیدی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے دوران سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کسی پرندے کے بچے کو پکڑ لیا ، اُس بچے کے ماں باپ میں سے کوئی ایک آیا اور اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ، جس نے اس بچے کو پکڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس پرندے پر حیران نہیں ہو رہے ہو ؟ اس کے بچے کو پکڑا گیا ، تو یہ آیا اور آ کر اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ( جس نے اس کے بچے کو پکڑا تھا ) اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنا یہ پرندہ اپنے بچے پر رحم کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18554
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا ، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ ، فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَوَانُ . يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيِّينَ ، لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَعَرَّسَهُمْ وَأَطْعَمَهُمْ ، وَسَقَاهُمْ ، وَلَحَفَهُمْ " . وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ : " وَلَزَوَّجَهُمْ لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کچھ لوگ جہنم میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک اللہ کو منظور ہو گا کہ وہ اس میں رہیں ، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں اُس ( جہنم ) میں سے نکال دے گا ، وہ لوگ جنت کے قریب آئیں گے اور ایک نہر میں غسل کریں گے ، جس کا نام ” حیوان “ ہو گا ( جنت میں ) اہل جنت انہیں ” جہنمی “ کا نام دیں گے ( اور ان کا عالم یہ ہو گا ، جو جہنم سے نکل کر جنت میں آئیں گے ) کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص چاہے تو تمام اہل دنیا کو مہمان بنا لے ، انہیں بستر فراہم کرے ، انہیں کھانا کھلائے ، انہیں پلائے ، انہیں لحاف فراہم کرنے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اور اُن کی شادیاں کروا دے ، تو بھی اس ( جہنم سے جنت میں آ جانے والے فرد کو ، جنت میں ملنے والی نعمتوں ) میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 18555
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَتَمَجَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا احْتَرَقُوا ، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يَشْفَعُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر بھی مہربانی کرے گا ، جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ہو گی اور انہیں جہنم سے نکال دے گا ، اس کے بعد کہ وہ جل چکے ہوں گے ، اور ( اللہ تعالیٰ ) اپنی رحمت کے وسیلے سے شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کے بعد انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18556
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُخْرَجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيُسَمَّوْنَ : الْجَهَنَّمِيُّونَ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَدْعُونَ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُحَوِّلَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ ، فَيَمْحُوهُ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَإِذَا خَرَجُوا مِنَ النَّارِ " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم سے کچھ لوگ نکلیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے ، جنت میں انہیں ” جہنمی “ کا نام دیا جائے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے کہ ان کا یہ نام تبدیل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ ان کا یہ نام مٹا دے گا جب وہ جہنم سے نکل آئے ہوں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18557
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ ، فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ : رُدُّوهُ . فَيَرُدُّونَهُ فَيَقُولُ لَهُ : لِمَ الْتَفَتَّ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ " . قَالَ : " فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِنِّي لَوْ أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا " . قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں حضرات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخلوق کا فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا تو دو آدمی باقی رہ جائیں گے ، انہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، اُن دونوں میں سے ایک مڑ کے دیکھے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : اسے واپس لاؤ ! فرشتے اُسے واپس لائیں گے ، پروردگار اس سے دریافت کرے گا : تم نے مڑ کے کیوں دیکھا تھا ؟ وہ کہے گا : مجھے یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اس کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا ( اور جنت میں اسے اتنی زیادہ نعمتیں نصیب ہوں گی ) وہ شخص کہے گا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا کچھ عطا کیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانا کھلا دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اُس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ حدیث ذکر کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خوشی کا اظہار ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہوں گی ، جو اہل جنت میں سب سے کم قدر و منزلت کا مالک ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہوں گی ، جو اہل جنت میں سب سے کم قدر و منزلت کا مالک ہو گا ۔
حدیث نمبر: 18558
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ رَجُلَانِ ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، وَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً ، وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " هَلْ خِفْتَنِي ؟ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخر میں دو افراد ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لئے کیا تیاری کی تھی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ کیا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ وہ شخص جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! اُسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور وہ اہل جہنم میں سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، وہ ( پروردگار ) دوسرے سے دریافت کرے گا : تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ یا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ تو وہ شخص کہے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ( جہنم سے ) نکال دیا ہے ، تو مجھے دوبارہ اس میں نہیں ڈالے گا ( راوی کہتے ہیں ) یعنی جنت میں داخل ہونے والا ، وہ آخری فرد ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا تم مجھ سے ڈرے تھے ؟ “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” کیا تم مجھ سے ڈرے تھے ؟ “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 18559
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عَبْدًا لَيُنَادِي فِي النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ : يَا حَنَّانُ ، يَا مَنَّانُ ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا . فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُنْكَبِّينَ يَبْكُونَ ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُخْبِرُهُ ، فَيَقُولُ : ائْتِنِي بِهِ ; فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ : يَا عَبْدِي ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَرُّ مَكَانٍ وَشَرُّ مَقِيلٍ ، فَيَقُولُ : رُدُّوا عَبْدِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تُعِيدَنِي فِيهَا . فَيَقُولُ : دَعُوا عَبْدِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک ” یا حنان یا منان “ پکارتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا : تم جاؤ اور میرے اس بندے کو میرے پاس لے کر آؤ ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام جائیں گے ، وہ اہل جہنم کو پائیں گے ، وہ سر جھکا کر ( یا اوندھے ہو کر ) رو رہے ہوں گے ، وہ ( یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام ) اپنے پروردگار کے پاس واپس آئیں گے اور اس کو یہ بات بتائیں گے ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اُس ( بندے ) کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ فلاں فلاں مقام پر ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اسے ساتھ لائیں گے اور اس کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑا کر دیں گے ، پروردگار دریافت کرے گا : اے میرے بندے ! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! سب سے بری جگہ اور سب سے برا ٹھکانہ ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو واپس لے جاؤ ! وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اگر تو مجھے اس میں سے نکال دے گا ، تو مجھے واپس اس میں بھیج دے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو چھوڑ دو !“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال کا معاملہ مختلف ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال کا معاملہ مختلف ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18560
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمُونَ قَدْرَ رَحْمَةِ اللَّهِ لَاتَّكَلْتُمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَلَيْهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مقدار ( یعنی اس کی عظمت اور وسعت کے بارے میں ) جان لو تو تم اُسی ( یعنی رحمت کی وسعت ) پر تکیہ کر لو ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18561
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، رَحْمَةٌ مِنْهَا قَسَمَهَا بَيْنَ الْخَلَائِقِ ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا کی ہیں ، اُن میں سے ایک رحمت ، اس نے مخلوق کے درمیان تقسیم کی ہے اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کے بارے میں کچھ احادیث کتاب التوبہ میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کے بارے میں کچھ احادیث کتاب التوبہ میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 18562
وَعَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، وَإِنَّهُ قَسَّمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ ، وَدَخَرَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ، اس نے ایک رحمت اہل زمین کے درمیان تقسیم کی ہے اور وہ اُن کی زندگی بھر کے لیے کافی ہے اور اس نے ننانوے رحمتیں ، قیامت کے دن اپنے دوستوں کے لئے محفوظ کر لی ہیں ۔ “
یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ، اس نے ایک رحمت اہل زمین کے درمیان تقسیم کی ہے اور وہ اُن کی زندگی بھر کے لیے کافی ہے اور اس نے ننانوے رحمتیں ، قیامت کے دن اپنے دوستوں کے لئے محفوظ کر لی ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 18563
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . رَوَاهُ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت اور اس سے پہلی روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت اور اس سے پہلی روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18564
وَرُوِيَ عَنْ جُلَاسٍ ،
محمد محی الدین
جلاس کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 18565
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ مِثْلَهُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18566
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَرَحْمَةٌ بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا ، وَادَّخَرَ لِأَوْلِيَائِهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا کی ہیں ( جن میں سے ) ایک رحمت اس کی مخلوق کے درمیان ہے ، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور ننانوے رحمتیں اُس نے اپنے اولیاء کے لیے محفوظ رکھی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مخیس بن تمیم ہے اور وہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مخیس بن تمیم ہے اور وہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18567
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَسَّمَ رَبُّنَا رَحْمَتَهُ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهَا جُزْءًا فِي الْأَرْضِ ، فَهُوَ الَّذِي يَتَرَاحَمُ بِهِ النَّاسُ ، وَالطَّيْرُ ، وَالْبَهَائِمُ ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ مِائَةُ رَحْمَةٍ ، إِلَّا رَحْمَةً وَاحِدَةً لِعِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ يَحْيَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے پروردگار نے اپنی رحمت کو ایک سو اجزاء میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک جزء زمین میں نازل کر دیا ، اسی کی وجہ سے لوگ ، پرندے اور جانور ، ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، باقی ننانوے رحمتیں ( یعنی رحمت کے بقیہ ننانوے اجزاء ) پروردگار کے پاس ہیں ، جو قیامت کے دن اس کے بندوں کے لئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ۔