حدیث نمبر: 18568
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ : " مَا لِي لَا أَرَى مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ ؟ ! " . قَالَ : مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْمَدَنِيِّينَ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي بُعْدِ قَعْرِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا : کیا وجہ ہے میں نے نے میکائیل کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جب سے جہنم پیدا ہوئی ہے سیدنا میکائیل علیہ السلام کبھی نہیں ہنسے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسماعیل بن عیاش کی اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال سے ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہنم کی گہرائی کے بارے میں ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (224/3)»
حدیث نمبر: 18569
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ " . قَالُوا لِيَعْلَى ، قَالَ : أَلَا تَرَوْنَ [ أَنَّ ] اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ، قَالَ : لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ ، لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سمندر ، جہنم ہے ۔ “ لوگوں نے سیدنا یعلیٰ سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے یہ چیز نہیں دیکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایسی آگ ( یا جہنم ) ، جس کی دیواریں انہیں گھیرے ہوئے ہوں گی ۔ “ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں یعلیٰ کی جان ہے ، میں اس میں ( یعنی سمندر میں ) کبھی داخل نہیں ہوؤں گا ، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر دیا جائے اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں ( یعنی میں مرتے دم تک ایسا نہیں کروں گا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (223/4)»
حدیث نمبر: 18570
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَوْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتٍ ، وَهُوَ عَلَى حَائِطِ الْمَسْجِدِ الْمُشْرِفِ عَلَى وَادِي جَهَنَّمَ وَاضِعًا صَدْرَهُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقُلْتُ : أَبَا الْوَلِيدِ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ : هَذَا الْمَكَانُ الَّذِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ رَأَى فِيهِ جَهَنَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَيَزِيدُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوسورہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ اس وقت مسجد کی دیوار پر موجود تھے انہوں نے اپنا سینہ اس پر رکھا ہوا تھا اور وہ وادی جہنم ( نامی جگہ ) کی طرف جھانک کر دیکھ کر رو رہے تھے ، میں نے کہا: اے ابوالولید ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جہنم کو دیکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت میں ضعیف راوی پائے جاتے ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18571
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطَالَ بِنَا الْقِيَامَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى خَفَّفَ فِي قِيَامِهِ ، وَفِي ذَلِكَ نَسْمَعُ مِنْهُ يَقُولُ : " يَا رَبِّ ، وَأَنَا فِيهِمْ ؟ ! " . ثُمَّ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكَعَ ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ رَابَكُمْ طُولُ قِيَامِي " . قُلْنَا : أَجَلْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ : " يَا رَبِّ ، وَأَنَا فِيهِمْ ؟ ! " . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا وُعِدْتُمْ فِي الْآخِرَةِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ حَتَّى النَّارُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ مِنْهَا حَتَّى حَاذَى بِمَكَانِي ، فَخِفْتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، وَأَنَا فِيهِمْ ؟ ! فَصَرَفَهَا اللَّهُ عَنْكُمْ ، فَأَقْبَلَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ ، وَأَشْرَفْتُ فِيهَا إِشْرَافَةً ، فَإِذَا فِيهَا عَمْرُو بْنُ حُرْثَانَ : أَخُو بَنِي غِفَارٍ مُنْكَبًّا عَلَى قَوْسِهِ فِي جَهَنَّمَ ، وَإِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ : صَاحِبَةُ الْقِطِّ الَّذِي رَبَطَتْهُ ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ وَلَمْ تَسْقِهِ ، وَلَمْ تُسَرِّحْهُ يَبْتَغِي مَا يَأْكُلُ حَتَّى مَاتَ عَلَى ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِي الْكَبِيرِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَكَذَلِكَ بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ، آپ نے طویل قیام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو آپ مختصر قیام کیا کرتے تھے ، اس نماز کے دوران ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا ، یوں جیسے آپ کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے ، اس کے بعد آپ نے جلدی نماز ادا کر لی ، جب آپ نے سلام پھیرا اور تشریف فرما ہوئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پتا ہے کہ تم میرے طویل قیام کی وجہ سے پریشان تھے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! اور ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آخرت کے بارے میں تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ، وہ میرے سامنے پیش کی گئی ، یہاں تک کہ جہنم کو بھی پیش کیا گیا ، تو اس میں سے کچھ میری طرف آیا ، یہاں تک کہ وہ میری جگہ کے مدمقابل آ گیا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں ہی نہ ڈھانپ لے ، تو اس وقت میں نے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تم سے دور کر دیا ، اس کا ایک ٹکڑا آیا تھا جو بچھونے کی مانند تھا ، میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں عمرو بن حرثان موجود تھا ، جس کا تعلق بنو غفار سے تھا ، وہ جہنم میں اپنی کمان کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اس میں حمیر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت بھی موجود تھی ، جو ایک بلی کی مالک تھی ، اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا ، وہ اس کو کھانے کے لئے اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی ، اور اسے کھلا بھی نہیں چھوڑتی تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی ، یہاں تک کہ وہ بلی اسی حالت میں مر گئی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں اور معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، بکر بن سہل کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18572
وَعَنْ عُمَرَ : أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِينًا لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ يَا جِبْرِيلُ ، حَزِينًا ؟ ! " . فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ لَفْحَةً مِنْ رُوحِي فَلَمْ تَرْجِعْ إِلَيَّ بَعْدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَلَفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غمگین حالت میں آئے ، انہوں نے اپنا سر نہیں اٹھایا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے ؟ میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں ، انہوں نے بتایا : میں نے جہنم کا ایک شعلہ دیکھا ہے تو اس کے بعد میری روح میری طرف واپس نہیں آئی ( یعنی اس کے بعد میری پریشانی ختم نہیں ہوئی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن خلف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18573
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِينٍ غَيْرِ حِينِهِ الَّذِي كَانَ يَأْتِيهِ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ؟ " . فَقَالَ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِمَفَاتِيحِ النَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ صِفْ لِيَ النَّارَ وَانْعَتْ لِي جَهَنَّمَ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَ بِجَهَنَّمَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَأُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ عَامٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ ، فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ لَا يُضِيءُ شَرَرُهَا وَلَا يُطْفَأُ لَهَبُهَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ قَدْرَ ثُقْبِ إِبْرَةٍ فُتِحَ مِنْ جَهَنَّمَ لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْ حَرِّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ خَازِنًا مِنْ خَزَنَةِ جَهَنَّمَ بَرَزَ إِلَى أَهْلِ الدُّنْيَا فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، لَمَاتَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ مِنْ قُبْحِ وَجْهِهِ ، وَمِنْ نَتَنِ رِيحِهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ أَنَّ حَلْقَةً مِنْ حَلْقَةِ سِلْسِلَةِ أَهْلِ النَّارِ الَّتِي نَعَتَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وُضِعَتْ عَلَى جِبَالِ الدُّنْيَا لَارْفَضَّتْ وَمَا تَقَارَّتْ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبِي يَا جِبْرِيلُ ، لَا يَنْصَدِعُ قَلْبِي فَأَمُوتُ " . قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : " تَبْكِي يَا جِبْرِيلُ ، وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ بِهِ ؟ ! " . فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي ؟ أَنَا أَحَقُّ بِالْبُكَاءِ ، لَعَلِّي أَكُونُ فِي عِلْمِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمَا ابْتُلِيَ بِهِ إِبْلِيسُ ، فَقَدْ كَانَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي أُبْتَلَى بِمِثْلِ مَا ابْتُلِيَ بِهِ هَارُوتُ وَمَارُوتُ . قَالَ : فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَكَى جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَمَا زَالَا يَبْكِيَانِ حَتَّى نُودِيَا أَنْ : يَا جِبْرِيلُ ، وَيَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَمَّنَكُمَا أَنْ تَعْصِيَاهُ . فَارْتَفَعَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَضْحَكُونَ وَيَلْعَبُونَ ، فَقَالَ : " أَتَضْحَكُونَ وَوَرَاءَكُمْ جَهَنَّمُ ؟ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَمَا أَسَغْتُمُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَا تُقَنِّطْ عِبَادِي ، إِنَّمَا بَعَثْتُكَ مُيَسِّرًا ، وَلَمْ أَبْعَثْكَ مُعَسِّرًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، یہ اس وقت کی بات ہے جس وقت میں وہ عام طور پر نہیں آیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری رنگت تبدیل ہے ( یعنی تم پریشان نظر آ رہے ہو ) سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے پاس اُس وقت تک نہیں آیا جب تک اللہ تعالیٰ نے جہنم کی کنجیوں کے بارے میں حکم نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! تم آگ ( یا جہنم ) کی صفت ( یعنی حلیہ ) میرے سامنے بیان کرو اور جہنم کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! سیدنا جبرائیل ! علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالی نے جہنم کے بارے میں حکم دیا ، تو ایک ہزار سال تک اسے دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئی ، پھر اس جہنم کے بارے میں حکم دیا گیا ، اسے ایک ہزار سال تک مزید دہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئی ، پھر اس نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک ہزار سال تک مزید ہکایا گیا ، یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئی ، تو اب وہ سیاہ تاریک ہے ، اس کے شراروں میں روشنی نہیں ہے ، اور اس کے انگارے بجھتے نہیں ہیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، اگر جہنم میں سے سوئی کے ناکے جتنی جگہ کو کھول دیا جائے تو اس کی تپش کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جہنم کے کپڑوں میں سے کوئی ایک کپڑا اگر آسمان اور زمین کے درمیان لٹکا دیا جائے تو اس کی تپش کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر جہنم کے نگران فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ اہل دنیا کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ لوگ اُس کی طرف دیکھیں ، تو اس کے چہرے کی ہیبت ناکی اور اس کی بو کی تیزی کی وجہ سے روئے زمین پر موجود سب لوگ مر جائیں ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر اہل جہنم کی زنجیروں کی کوئی ایک کڑی ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ، اگر اُسے دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو وہ سب اپنی جگہ سے ہل جائیں ، اور کوئی جما نہ رہے ، یہاں تک کہ وہ سب سے نیچے والی زمین تک چلے جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! میرے لئے اتنا کافی ہے ، ایسا نہ ہو کہ میرا دل پھٹ جائے اور میں مر جاؤں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا جو رو رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں مخصوص مقام حاصل ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں کیوں نہ روؤں ؟ میں رونے کا زیادہ حقدار ہوں ، کیونکہ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں میری حالت اس سے مختلف ہو ، جو اس وقت ہے ، میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے بھی اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے ، جس طرح کی آزمائش میں ابلیس کو مبتلا کیا گیا ، وہ بھی تو پہلے فرشتوں میں سے تھا ، میں نہیں جانتا ، ہو سکتا ہے کہ مجھے اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا کر دیا جائے جس میں ہاروت اور ماروت کو مبتلا کیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رونے لگے اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی رونے لگے ، یہ دونوں حضرات مسلسل روتے رہے ، یہاں تک کہ پکار کر یہ کہا: گیا ہے : اے جبرائیل اور محمد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ دونوں اس کی نافرمانی کرو ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام اوپر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ کا گزر انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو ہنس رہے تھے اور کھیل کود کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ جبکہ جہنم تمہارے آگے موجود ہے ، جو میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ رویا کرو ، اور تم سیر ہو کر کھایا پیا نہ کرو ، اور تم ویرانوں کی طرف نکل جاؤ ، تاکہ تم اللہ کی پناہ حاصل کرو ۔ تو پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! تم میرے بندوں کو مایوس نہ کرو ! بے شک میں نے تمہیں آسانی فراہم کرنے والا بنا کر مبعوث کیا ہے میں نے تمہیں تنگی کا شکار کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان لوگوں سے ) ارشاد فرمایا : ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2604)»
حدیث نمبر: 18574
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ غَرْبًا مِنْ جَهَنَّمَ جُعِلَ وَسَطَ الْأَرْضِ لَآذَى نَتَنُ رِيحِهِ وَشِدَّةُ حَرِّهِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، وَلَوْ أَنَّ شَرَرَةً مِنْ شَرَرِ جَهَنَّمَ بِالْمَشْرِقِ لَوُجِدَ حَرُّهَا بِالْمَغْرِبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ تَمَّامُ بْنُ نَجِيحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ أَحْسَنُ حَالًا مِنْ تَمَّامٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر جہنم کا کوئی ڈول زمین کے درمیان میں رکھ دیا جائے تو اس کی بو اور اس کی گرمی کی شدت ، مشرق اور مغرب کے درمیان موجود سب ( لوگوں ) کو اذیت کا شکار کر دے اور اگر جہنم کے شراروں میں سے کوئی ایک شرارہ ، مشرق میں رکھ دیا جائے تو اس کی گرمی مغرب میں محسوس کی جا سکے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی تمام بن نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے رجال ، تمام کے مقابلے میں زیادہ بہتر حالت کے مالک ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ ( یعنی دنیاوی آگ ) جہنم کے ایک سو اجزاء میں سے ایک جزء ہے ( یعنی جہنم کی آگ ، دنیاوی آگ سے ننانوے گنا زیادہ شدید ہے ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (379/2)»
حدیث نمبر: 18576
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَدْرُونَ مَا مَثَلَ نَارِكُمْ هَذِهِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ؟ لَهِيَ أَشَدُّ [ سَوَادًا ] مِنْ دُخَانِ نَارِكُمْ هَذِهِ بِسَبْعِينَ ضِعْفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ جہنم کی آگ کے مقابلے میں ، تمہاری اس آگ کی مثال کیا ہے ؟ وہ ( یعنی جہنم کی آگ ) تمہاری اس آگ کے مقابلے میں ستر گنا زیادہ سیاہ دھویں والی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (489)»
حدیث نمبر: 18577
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ نَارَ جَهَنَّمَ فَقَالَ : " إِنَّهَا لَجُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، وَمَا وَصَلَتْ إِلَيْكُمْ حَتَّى - أَحْسَبُهُ قَالَ : - نُضِحَتْ مَرَّتَيْنِ بِالْمَاءِ لِتُضِيءَ لَكُمْ ، وَنَارُ جَهَنَّمَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ضُعَفَاءُ عَلَى تَوْثِيقٍ لَيِّنٍ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” یہ ( یعنی دنیاوی آگ ) جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، اور یہ ( آگ ) تم لوگوں کے پاس اُس وقت پہنچی ہے جب اسے پانی کے ذریعے دو مرتبہ چھینٹے مارے گئے ، تاکہ یہ تمہارے لیے روشنی کرے ، جبکہ جہنم کی آگ سیاہ تاریک ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ضعیف ہیں ، اگرچہ ان میں ایسے ہیں ، جن کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3489)»
حدیث نمبر: 18578
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى ، وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَإِنَّ نَارَكُمْ - يَعْنِي هَذِهِ - جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ سَمُومِ جَهَنَّمَ ، وَمَا دَامَ الْعَبْدُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نیک خواب خوشخبری ہوتے ہیں اور وہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ، اور تمہاری آگ ( یعنی یہ دنیاوی آگ ) جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، اور بندہ جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے ، وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے جب تک اسے حدث لاحق نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3490)»
حدیث نمبر: 18579
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ - يَعْنِي فِي شِدَّةِ الْحَرِّ - وَشَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي كُلِّ عَامٍ ، فَنَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ الزَّمْهَرِيرُ ، وَنَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ السَّمُومُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارِ شِكَايَةِ النَّارِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گرمی کی شدت جہنم کی تفتیش کا حصہ ہے ، تم نماز کے وقت اُسے ٹھنڈا کرو ! ( راوی کہتے ہیں : یعنی گرمی کی شدت کے وقت ایسا کرو ) جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! میرا ایک حصہ ، دوسرے کو کھا جاتا ہے ، تو پروردگار نے اسے ہر سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ، اُس کی ایک سانس سردیوں کے موسم میں ہوتی ہے جو شدید سردی کی شکل میں ہوتی ہے اور ایک سانس گرمیوں کے موسم میں ہوتی ہے ، جو شدید گرمی کی شکل میں ہوتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے جس میں صرف جہنم کے شکایت کرنے کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، جس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3492)»
حدیث نمبر: 18580
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا قَالَتْ : رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ; فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ : نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا ، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زِيَادُ النُّمَيْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا جاتا ہے ، تو پروردگار نے اس کے لئے دو سانسیں مقرر کیں ، تو اس کی ایک سانس گرمی کے موسم میں ہوتی ہے اور ایک سانس سردی کے موسم میں ہوتی ہے ، اس کی گرمی کی وجہ سے تمہیں شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے تمہیں شدید سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد نمیری ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4303)»
حدیث نمبر: 18581
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ جَهَنَّمَ قَالَتْ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِي نَفَسٍ ; فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أَقْبِضَ عَلَى خَلْقِكَ ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّتَيْنِ ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِهَا ، وَشِدَّةُ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے ! کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں تیری مخلوق کو گرفت میں لے لوں گی ، تو پروردگار نے اسے ہر سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ، تو گرمی کی شدت اس کی تپش کی وجہ سے ہوتی ہے اور سردی کی شدت اُس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3491)»
حدیث نمبر: 18582
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُجَاءُ بِجَهَنَّمَ تُقَادُ بِسَبْعِينَ أَلْفَ زِمَامٍ ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( قیامت کے دن ) جہنم کو یوں لایا جائے گا کہ ستر ہزار لگاموں کے ذریعے اسے کھینچا جا رہا ہو گا ، اور ہر ایک لگام کے ہمراہ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حفص بن عمر بن صباح کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10426)»
حدیث نمبر: 18583
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ مَقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر ( یعنی جہنم کا ) لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اور دونوں گروہ ( یعنی انسان اور جنات ) اُس کے لیے اکٹھے ہو جائیں ، تو وہ اُسے زمین سے ہٹا نہیں سکیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1388) اخرجه احمد فى المسند (29/3)»
حدیث نمبر: 18584
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِمَقْمَعٍ مِنْ حَدِيدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ( یعنی جہنم کے ) لوہے کے گرز کے ذریعے پہاڑ پر ضرب لگائی جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا اور پھر وہ پہلے کی طرح ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اگر اللہ نے چاہا تو آگے آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1377) أخرجه احمد فى المسند (83/3)»
حدیث نمبر: 18585
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ ؟ قَالَ : " وَادٍ فِي جَهَنَّمَ ، إِنَّ جَهَنَّمَ لَتَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ ذَلِكَ الْوَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَمِائَةِ مَرَّةٍ ، يُلْقَى فِيهِ الْغَرَّارُونَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْغَرَّارُونَ ؟ قَالَ : " الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب حزن “ سے اللہ کی پناہ مانگو ! لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ” جب حزن “ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم میں موجود ایک وادی ہے ، اور اس وادی کے شر سے جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہے اور اس میں ” غرارون “ کو ڈالا جائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ” غرارون “ سے مراد کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا میں اپنے اعمال کے حوالے سے دکھاوا کرنے والے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف