کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18367
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّلَاةُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، وَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّدَقَةُ . فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصِّيَامُ . فَيَقُولُ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنْتَ السَّلَامُ ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ ، وَبِكَ أُعْطِي . قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ : " وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَيَقُولُ اللَّهُ : " إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ " . وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی : جب وہ اور ہم مدینہ منورہ میں موجود تھے انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن اعمال آئیں گے ، نماز آئے گی اور عرض کرے گی : اے میرے پروردگار ! میں نماز ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، صدقہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں صدقہ ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر روزہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں روزہ ہوں ، پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، اسی طرح مختلف اعمال آتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا رہے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر اسلام آئے گا اور عرض کرے گا : اے پروردگار ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے اور میں اسلام ہوں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : بے شک تم بھلائی پر ہو اور تمہاری وجہ سے آج میں گرفت کروں گا اور تمہاری وجہ سے آج میں عطا کروں گا ۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے : جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین ، اسلام ہے ۔ “ ( ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عباد بن راشد ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6231) اخرجه احمد فى المسند (362/2)»
حدیث نمبر: 18368
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ النَّاسَ جُمِعُوا لِلْحِسَابِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہیں حساب کے لیے جمع کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5524)»
حدیث نمبر: 18369
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ، ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي ، ثُمَّ سِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ بِالشَّامِ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ : قُلْ لَهُ : جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ : النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - حُفَاةً عُرَاةً ، غُرْلًا بُهْمًا " . ¤ قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ ، حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا ؟ ! قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : بِمِصْرَ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، وَحَدِيثُ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي بَابِ جَامِعِ الْبَعْثِ قَبْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے ایک صاحب کے بارے میں پتہ چلا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہوئی ہے تو میں نے ایک اونٹ خریدا ، اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ طے کر کے ان صاحب کے پاس پہنچا ، یہاں تک کہ شام میں ، میں ان کے پاس آ گیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا: تم اُن سے کہو کہ دروازے پر جابر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : وہ جو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر آئے اور انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور میں نے انہیں گلے لگا لیا ، میں نے کہا: مجھے ایک حدیث کے بارے میں یہ پتہ چلا تھا کہ آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہوا ہے اور وہ قصاص کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اس حدیث کو سننے سے پہلے آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں کو برہنہ پاؤں برہنہ جسم ختنے کے بغیر ” بہم “ حالت میں زندہ کرے گا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : ” بہم “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی ، پھر انہیں ایک منادی پکار کر یہ کہے گا ، اس پکار کو دور کا آدمی بھی اسی طرح سن لے گا جس طرح قریب کا آدمی اسے سن سکے گا ، وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، میں ” دیان “ ( یعنی فیصلہ کرنے والا ، یا اچھے برے کا بدلہ دینے والا ) ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے جبکہ اس نے اہل جنت میں سے کسی سے کوئی حق وصول کرنا ہو ، تو جب تک میں اس کو اس کا حق نہیں دلوا دیتا ( یعنی اس وقت تک یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ) اور اہل جنت میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ اس نے اہل جہنم میں سے کسی سے حق وصول کرنا ہو ، جب تک میں اس کا حق اس دوسرے سے اُسے نہیں دلوا دیتا ، یہاں تک کہ تھپڑ مارنے تک کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ ہم برہنہ حالت میں ، ختنہ کے بغیر ، کسی چیز کے بغیر ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیکیوں اور برائیوں ( کے حساب ) سے لین دین ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مصر میں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس باب میں گزر چکی ہے جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق روایات کا مجموعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (495/3)»
حدیث نمبر: 18370
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَعَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ فِيمَا أَنْفَقَهُ ، وَمِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ ، وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ مَعَ أَنَّهُ يَشْتُمُ السَّلَفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن بندے کے پاؤں اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بسر کیا ؟ اس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں اسے خرچ کیا اور کیسے اس کو کمایا ؟ اور اس کی ہمارے ساتھ ( یعنی اہل بیت کے ساتھ ) محبت کے بارے میں ( اس سے حساب لیا جائے گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اگرچہ وہ اسلاف کو برا کہتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11177)»
حدیث نمبر: 18371
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعَةٍ : عَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ ، وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا عَلَامَةُ حُبِّكُمْ ؟ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ دُونَ قَوْلِهِ: "وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ". وَمَا بَعْدَهُ. وَجَعَلَ الرَّابِعَةَ: "وَعَلَّمَهُ مَاذَا عَمِلَ بِهِ". وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، وَيُقَالُ لَهُ: الْمَعْكُوفُ، قَالَ صَاحِبُ الْمَيْزَانِ: أَتَى بِخَبَرٍ بَاطِلٍ، وَبَاقِيهِمْ ثِقَاتٌ. ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) بندے کے قدم اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لیا جاتا ، اُس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کیسے اسے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اور ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ( اس سے حساب لیا جائے گا ) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کے ساتھ محبت کی علامت کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر لگایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ اور اس کے بعد والا حصہ نقل نہیں کئے ہیں : ” ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ۔ “ انہوں نے چوتھی چیز نقل کی ہے : ” اُس سے علم کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا ۔ “ طبرانی کی سند میں ایک راوی حارث بن محمد کوفی ہے جسے معکوف کہا: جاتا ہے ” میزان“ کے مصنف نے یہ کہا: ہے : یہ جھوٹی روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18372
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَزُولَ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن آدمی کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اُس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے کمایا اور کس کام میں خرچ کیا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 18373
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَزُولَ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ : عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَامِتِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ، اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے اس کو کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے کہاں تک اس پر عمل کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صامت بن معاذ اور عدی بن عدی کندی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3437) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (60/20)»
حدیث نمبر: 18374
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَعَا اللَّهُ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِهِ فَيُوقِفُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيَسْأَلُهُ عَنْ جَاهِهِ كَمَا يَسْأَلُهُ عَنْ مَالِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ يُونُسَ : أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْأَفْطَسِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ایک بندے کو بلائے گا اسے اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس سے اس کے جاہ و منصب کے بارے میں حساب لے گا ، جس طرح وہ اس سے اس کے مال کے بارے میں حساب لے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یونس ہے جو ابومسلم افطس کا بھائی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18374
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (18) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (451)»
حدیث نمبر: 18375
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ ، وَلَا تَرْجُمَانٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ عنقریب اللہ تعالیٰ یوں کلام کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اور اُس شخص کے درمیان کوئی حجاب یا کوئی ترجمان نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18375
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3440)»
حدیث نمبر: 18376
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ قَبْلَ الْكَلَامِ ، فَقَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّ رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - سَيَخْلُو بِهِ كَمَا يَخْلُو أَحَدُكُمْ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا غَرَّكَ بِي ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا غَرَّكَ بِي ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمَتْ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا ، وَرَوَى بَعْضَهُ مَرْفُوعًا فِي الْأَوْسَطِ : " عَبْدِي ، مَا غَرَّكَ بِي ؟ مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ فِيهِمْ شَرِيكٌ أَيْضًا ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس مسجد میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے گفتگو سے پہلے قسم کے ذریعے اپنے کلام کا آغاز کیا اور پھر یہ فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا پروردگار انفرادی طور پر یوں کلام کرے گا جس طرح چودھویں رات میں ، تم میں سے کسی ایک کے سامنے چودھویں کا چاند اکیلا ہوتا ہے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اس کا کچھ حصہ مرفوع روایت کے طور پر معجم اوسط میں نقل کیا ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” اے میرے بندے ! کس چیز نے تمہیں میری ذات کے بارے میں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ “ ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم اوسط کے رجال میں بھی شریک نامی راوی ہے اس کے علاوہ اسحاق بن عبداللہ تمیمی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18376
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8899)»
حدیث نمبر: 18377
وَعَنْ ثَوْبَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَظَّمَ شَأْنَ الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَاءَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَحْمِلُونَ أَوْثَانَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، لَمْ تُرْسِلْ لَنَا رَسُولًا ، وَلَمْ يَأْتِنَا لَكَ أَمْرٌ ، وَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا ، لَكُنَّا أَطْوَعَ عِبَادِكَ ، فَيَقُولُ لَهُمْ رَبُّهُمْ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ أَتُطِيعُونِي ؟ فَيَأْخُذُ عَلَى ذَلِكَ مَوَاثِيقَهُمْ . فَيَقُولُ : اعْمِدُوا لَهَا فَادْخُلُوهَا ، فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى إِذَا رَأَوْهَا فَرِقُوا فَرَجَعُوا . قَالُوا : رَبَّنَا ، فَرِقْنَا مِنْهَا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَدْخُلَهَا ، فَيَقُولُ : ادْخُلُوهَا دَاخِرِينَ " . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ دَخَلُوهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ فِيمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال ( یعنی حساب ) کے مسئلے کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے انہوں نے اپنے بتوں کو اپنی پشتوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، ان کا پروردگار ان سے سوال کرے گا تو وہ جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمارے لیے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا اور ہمارے پاس تیرا کوئی حکم نہیں آیا ، اگر تو ہماری طرف رسول کو مبعوث کر دیتا تو ہم تیرے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے بن جاتے ، تو پروردگار اُن سے فرمائے گا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو تم میری اطاعت کرو گے ؟ پھر پروردگار اس حوالے سے ان لوگوں سے پختہ عہد لے گا ، پھر وہ فرمائے گا : تم لوگ اس ( یعنی جہنم ) کی طرف جاؤ ! اور اس میں داخل ہو جاؤ ، وہ لوگ روانہ ہوں گے ، یہاں تک کہ جب وہ اسے دیکھیں گے تو اس سے ڈر جائیں گے اور واپس آ جائیں گے اور کہیں گے : ہم اُس سے ڈر گئے ہیں ، ہم اس میں داخل ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ، پروردگار فرمائے گا : تم لوگ ذلیل ہو کر اس میں داخل ہو جاؤ ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ لوگ پہلی مرتبہ میں ، اُس میں داخل ہو جاتے تو وہ اُن کے لیے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو جاتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو ضعیف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے کتاب القدر میں وہ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان لوگوں کے بارے میں ہیں ، جو زمانہ فترت میں فوت ہو گئے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3433)»
حدیث نمبر: 18378
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : خَطَبَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَعْذِرَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ مَعَاذِيرَ ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : يَا آدَمُ ، لَوْلَا أَنِّي لَعَنْتُ الْكَذَّابِينَ ، وَأَبْغَضْتُ الْكَذِبَ وَالْحَلِفَ ، وَأَوْعَدْتُ عَلَيْهِ لَرَحِمْتُ الْيَوْمَ وَلَدَكَ أَجْمَعِينَ مِنْ شِدَّةِ مَا أَعْدَدْتُ لَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ ، وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي : لَئِنْ كُذِّبَتْ رُسُلِي ، وَعُصِيَ أَمْرِي ، لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ ، اعْلَمْ أَنِّي لَا أُدْخِلُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ النَّارَ أَحَدًا ، وَلَا أُعَذِّبُ بِالنَّارِ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ بِعِلْمِي أَنِّي لَوْ رَدَتْتُهُ إِلَى الدُّنْيَا لَعَادَ إِلَى شَرِّ مَا كَانَ فِيهِ ، وَلَمْ يَرْجِعْ وَلَمْ يَعْتِبْ . وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ ، قَدْ جَعَلْتُكَ حَكَمًا بَيْنِي وَبَيْنَ ذَرِّيَّتِكَ ، قُمْ عِنْدَ الْمِيزَانِ فَانْظُرْ مَا يُرْفَعُ إِلَيْكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ ، فَمَنْ رَجَحَ مِنْهُمْ خَيْرُهُ عَلَى شَرِّهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، حَتَّى تَعْلَمَ أَنِّي لَا أُدْخِلُ النَّارَ مِنْهُمْ إِلَّا ظَالِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے تین امور کے حوالے سے وجہ بیان کرے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی ہے اور میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نے اس حوالے سے وعید بیان کی ہے تو آج کے دن میں نے تمہاری ساری اولاد پر رحم کر دینا تھا ، اس عذاب کی شدت کی وجہ سے جو میں نے اُن کے لئے تیار کیا ہے ، لیکن میری طرف سے یہ بات حق ہے کہ اگر میرے رسولوں کی تکذیب کی گئی اور میرے حکم کی نافرمانی کی گئی تو میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! تم یہ بات جان لو ! کہ میں تمہاری اولاد میں سے جہنم میں کسی فرد کو داخل نہیں کروں گا اور ان میں سے کسی فرد کو آگ کا عذاب نہیں دوں گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس کے بارے میں مجھے یہ علم ہو کہ اگر میں نے اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا تو وہ پہلے سے زیادہ بدتر عمل کرے گا ، وہ رجوع نہیں کرے گا اور ٹھیک نہیں ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! میں تمہیں اپنے اور تمہاری ذریت کے درمیان ثالث مقرر کرتا ہوں ، تم میزان کے پاس کھڑے ہو جاؤ اور اس بات کا جائزہ لو کہ ان کے اعمال میں سے کیا تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے ؟ جس شخص کی بھلائی اس کے شر سے ذرے کے وزن جتنی زیادہ ہوئی تو اسے جنت مل جائے گی تاکہ تمہیں یہ بات پتہ چل جائے کہ میں اُن میں سے جہنم میں صرف ظالموں کو داخل کروں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (855)»
حدیث نمبر: 18379
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ : فَظُلْمٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ ، وَظُلْمٌ يَغْفِرُهُ ، وَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ . فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ ، قَالَ اللَّهُ : إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ . وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ لِأَنْفُسِهِمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَبِّهِمْ . وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا ، حَتَّى يَدِينَ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ قَدْ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ظلم تین قسم کا ہوتا ہے ، ایک ظلم وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ایک ظلم وہ ہے جس کی وہ مغفرت کر دے گا اور ایک ظلم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے ، جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ شرک ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔ “ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت کر دے گا تو یہ بندوں کا وہ ظلم ہے جو انہوں نے اپنے اوپر کیا ہو گا جو ان کے اور ان کے پروردگار کے مابین معاملات کے حوالے سے ہو گا ۔ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کو اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر کیا ہوا ظلم ہے ( اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا ) جب تک وہ بندوں کو ایک دوسرے سے بدلہ نہیں دلوا دیتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن مالک قشیری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس ، روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3439)»
حدیث نمبر: 18380
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ لَا يُتْرَكُ ، وَذَنْبٌ يُغْفَرُ . فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَذَنْبُ الْعَبْدِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَذَنْبُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا اور ایک گناہ وہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ بندے کا وہ گناہ ہے جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین معاملے کے حوالے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ( ظلم و زیانی کے طور پر ) کیا ہوا گناہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سفیان بن عبداللہ بن رواحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18380
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (102) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6133)»
حدیث نمبر: 18381
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَنْبٌ يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ يُجَازَى بِهِ . فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَعَمَلُكَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَبِّكَ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي تُجَازَى بِهِ فَظُلْمُكَ أَخَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کا بدلہ دلوایا جائے گا ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، تو وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ تمہارا وہ عمل ہے جس کا تعلق تمہارے اور تمہارے پروردگار کے مابین معاملے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے ، جس کا بدلہ دلوایا جائے گا تو وہ تمہارا اپنے بھائی پر ظلم کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18381
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 18382
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَةٌ : فَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا ، وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا ، وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ . فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ . وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ ، مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ ، أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ ذَلِكَ ، وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ . وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا ، الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دواوین ( یعنی اعمال نامے ) اللہ تعالیٰ کے پاس تین قسم کے ہوں گے ، ایک دیوان وہ ہو گا جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، ایک دیوان وہ ہو گا جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان وہ ہو گا جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا ۔ “ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، تو وہ بندے کا اپنے اوپر وہ ظلم کرنا ہے جو اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان معاملات کے حوالے سے ہو ، جیسے اس نے کسی دن کا روزہ ترک کر دیا ہو یا نماز ترک کر دی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا اور درگزر کرے گا ، اگر وہ چاہے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے ، جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی بھی چیز نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے اس کا لازمی طور پر قصاص ( یعنی بدلہ ) ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں : صدقہ بن موسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی اور وہ صدوق تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (240/6)»
حدیث نمبر: 18383
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَيْلٌ لِلْمَالِكِ مِنَ الْمَمْلُوكِ ، وَوَيْلٌ لِلْمَمْلُوكِ مِنَ الْمَالِكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مملوکوں کے حوالے سے مالکان کے لیے بربادی ہے اور مالکان کے حوالے سے مملوکوں کے لئے بربادی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18383
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3441)»
حدیث نمبر: 18384
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْلٌ لِلْمَالِكِ مِنَ الْمَمْلُوكِ ، وَوَيْلٌ لِلْمَمْلُوكِ مِنَ الْمَالِكِ ، وَوَيْلٌ لِلْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ ، وَوَيْلٌ لِلْفَقِيرِ مِنَ الْغَنِيِّ ، وَوَيْلٌ لِلشَّدِيدِ مِنَ الضَّعِيفِ ، وَوَيْلٌ لِلضَّعِيفِ مِنَ الشَّدِيدِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْمِيزَانِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مملوک کے حوالے سے مالک کے لئے بربادی ہے اور مالک کے حوالے سے مملوک کے لئے بربادی ہے ، غریب کے حوالے سے امیر کے لئے بربادی ہے اور امیر کے حوالے سے غریب کے لئے بربادی ہے ، کمزور کے حوالے سے طاقتور کے لئے بربادی ہے اور طاقتور کے حوالے سے کمزور کے لئے بربادی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن لیث کے حوالے سے نقل کی ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس راوی کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے ” میزان الاعتدال “ میں اس کا تذکرہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18384
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3442) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4009)»
حدیث نمبر: 18385
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَخْتَصِمَنَّ كُلُّ شَيْءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَتَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن ہر چیز اپنا مقدمہ پیش کرے گی ، یہاں تک کہ وہ دو بکریاں بھی جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے ( وہ بھی اس بارے میں اپنا مقدمہ پیش کریں گی ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18385
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (390/2)»
حدیث نمبر: 18386
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لِيَخْتَصِمَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَتَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن ( ہر کوئی اپنا ) مقدمہ پیش کرے گا ، یہاں تک کہ دو بکریوں نے ایک دوسرے کو جو سینگ مارے ہوں گے ، اُس بارے میں ( وہ بھی اپنا مقدمہ پیش کریں گی ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1400) اخرجه احمد فى المسند (29/3)»
حدیث نمبر: 18387
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ایک دوسرے کے پہلے مقابل فریق ، دو پڑوسی ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (151/1)»
حدیث نمبر: 18388
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَخْتَصِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ ، وَاللَّهِ مَا يَتَكَلَّمُ لِسَانُهَا وَلَكِنْ يَدَاهَا وَرِجْلَاهَا تَشْهَدَانِ عَلَيْهَا بِمَا كَانَتْ تَعِيبُ لِزَوْجِهَا ، وَتَشْهَدُ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ بِمَا كَانَ يُولِيهَا ، ثُمَّ يُدْعَى الرَّجُلُ وَخَدَمُهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُدْعَى أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَمَا يُوجَدُ ثَمَّ دَوَانِيقُ وَلَا قَرَارِيطُ ، وَلَكِنْ حَسَنَاتُ هَذَا تُدْفَعُ إِلَى هَذَا الَّذِي ظُلِمَ ، وَسَيِّئَاتُ هَذَا الَّذِي ظَلَمَهُ تُوضَعُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَبَّارِينَ فِي مَقَامِعَ مِنْ حَدِيدٍ فَيُقَالُ : أَوْرِدُوهُمْ إِلَى النَّارِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي يَدْخُلُونَهَا ، أَوْ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقَالَ : كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن مقدمہ پیش کرنے والے پہلے افراد ، آدمی اور اس کی بیوی ہوں گے ، اللہ کی قسم ! عورت کی زبان کلام نہیں کرے گی بلکہ اس کے ہاتھ اور اس کے پاؤں کلام کریں گے اور عورت کے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ شوہر کی غیر موجودگی میں کیا کرتی تھی ؟ اور آدمی کے دونوں ہاتھ اور اس کے دونوں پاؤں گواہی دیں گے جس کا وہ ارتکاب کرتا تھا ، پھر آدمی کو اور اس کے خدمت گاروں کو بلایا جائے گا ، ان کے ساتھ بھی اسی طرح ہو گا ، پھر بازار والوں کو بلایا جائے گا اور وہاں جو سکے اور قیراط ہوتے تھے ( انہیں بھی بلایا جائے گا ) اس ( یعنی ظالم ) کی نیکیاں اُس کو دے دی جائیں گی جو مظلوم ہو گا اور مظلوم کی برائیاں اس ظالم کے ذمے ڈال دی جائیں گی ، پھر ظالموں ( یا متکبرین ) کو لوہے کے بنے ہوئے طوقوں میں لایا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا : انہیں جہنم پر وارد کرو ! تو اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس میں داخل ہوں گے یا ویسا ہو گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے ہر ایک اس ( جہنم ) پر وارد ہو گا ، یہ تمہارے پروردگار کے ذمہ حتمی و طے شدہ بات ہے ، پھر ہم پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس ( جہنم میں ) گھٹنوں کے بل ( جھکا ہوا ) چھوڑ دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے اور وہ ضعیف ہے ، سعید بن منصور نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : امام مالک اس سے راضی تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3969)»
حدیث نمبر: 18389
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدًا لَا ذَنْبَ لَهُ فَيَقُولُ : بِأَيِّ الْأَمْرَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَجْزِيَكَ ؟ بِعَمَلِكَ أَوْ بِنِعْمَتِي عِنْدَكَ ؟ قَالَ : رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَعْصِكَ . قَالَ : خُذُوا عَبْدِي بِنِعْمَةٍ مِنْ نِعَمِي ، فَلَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا اسْتَغْرَقَتْهَا تِلْكَ النِّعْمَةُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، نِعْمَتَكَ وَرَحْمَتَكَ . فَيَقُولُ : بِنِعْمَتِي وَرَحْمَتِي . وَيُؤْتَى بِعَبْدٍ مُحْسِنٍ فِي نَفْسِهِ لَا يَرَى أَنَّ لَهُ ذَنْبًا . فَيُقَالُ لَهُ : هَلْ كُنْتَ تُوَالِي أَوْلِيَائِي ؟ قَالَ : كُنْتُ مِنَ النَّاسِ سَلْمًا . قَالَ : فَهَلْ كُنْتَ تُعَادِي أَعْدَائِي ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ شَيْءٌ . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَا يَنَالُ رَحْمَتِي مَنْ لَمْ يُوَالِ أَوْلِيَائِي وَيُعَادِ أَعْدَائِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک ایسے بندے کو زندہ کرے گا ، جس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دو میں سے کون سا معاملہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ یہ کہ میں تمہیں تمہارے عمل کی جزا دے دوں ؟ یا جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی تھیں ( اُن کا حساب لے لوں ؟ ) بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری کوئی نافرمانی نہیں کی ، پروردگار فرمائے گا : میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے حساب کے حوالے سے میرے بندے کو پکڑ لو ( یا اس کا حساب لو ) تو وہ ایک نعمت ہی اس کی ساری نیکیوں کو ختم کر دے گی ، بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری نعمت اور تیری رحمت ( کا میں محتاج اور طلبگار ہوں ) تو پروردگار فرمائے گا : میری نعمت اور میری رحمت ( کی بدولت میں تمہیں نجات ملے گی ) پھر ایک بندے کو لایا جائے گا جو یہ سمجھتا ہو گا کہ وہ اچھائی کرنے والا ہے ، اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ، پروردگار اس سے دریافت کرے گا : کیا تم میرے دوستوں کے ساتھ محبت رکھتے تھے ؟ وہ جواب دے گا : میں لوگوں کے حوالے سے سلامتی میں رہا ( یعنی میں اُن سے لاتعلق رہا ) پروردگار دریافت کرے گا : کیا تم میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی رکھتے تھے ؟ وہ بندہ جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میرے اور کسی شخص کے درمیان کوئی ( دشمنی نہیں تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : میری رحمت ایسے شخص کو نصیب نہیں ہو گی جو میرے دوستوں کے ساتھ محبت نہ رکھتا ہو اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہ رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے اور اس پر روایات ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18389
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (59/22)»
حدیث نمبر: 18390
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُؤْتَى بِالْمَلِيكِ وَالْمَمْلُوكِ ، وَالزَّوْجِ وَالزَّوْجَةِ ، فَيُحَاسَبُ الْمَلِيكُ وَالْمَمْلُوكُ ، وَالزَّوْجُ وَالزَّوْجَةُ ، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ : شَرِبْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا عَلَى لَذَّةٍ ، وَيُقَالَ لِلزَّوْجِ : خَطَبْتَ فُلَانَةَ مَعَ خُطَّابٍ فَزَوَّجْتُكَهَا وَتَرَكْتُهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيِّ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( قیامت کے دن ) مالک اور مملوک ، شوہر اور بیوی کو لایا جائے گا ، مالک اور مملوک سے ، شوہر اور بیوی سے حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ آدمی سے یہ کہا: جائے گا : تم نے فلاں فلاں دن لذت کی خاطر مشروب پیا تھا اور شوہر سے یہ کہا: جائے گا : تم نے دیگر لوگوں کے ہمراہ فلاں عورت کو شادی کا پیغام دیا تھا تو میں نے تمہاری شادی اس عورت سے کروا دی اور دوسرے لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے سعید بن مسلمہ اموی کی لیث بن ابوسلیم سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3443)»
حدیث نمبر: 18391
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْأَوْسَطِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص سے حساب میں تفتیش کی جائے گی وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، معجم اوسط کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، صرف عمرو بن ابوعاصم نبیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3436)»
حدیث نمبر: 18392
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُحَاسَبُ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُغْفَرُ لَهُ ، يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : " فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” قیامت کے دن کسی سے حساب لے کر اس کی مغفرت نہیں ہو گی ، مسلمان اپنی قبر میں ہی اپنا عمل دیکھ لے گا ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس دن انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۔ “ ” مجرم لوگ اپنی نشانی کے حوالے سے پہچانے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (103/6)»
حدیث نمبر: 18393
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَارُ وَالتَّخْزِيَةُ تَبْلُغُ مِنِ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا يَتَمَنَّى الْعَبْدُ أَنْ يُؤْمَرَ بِهِ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي شِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَنَّ هَذَا فِي حَقِّ الْكَافِرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے دوران ابن آدم کو اتنی عار اور شرمندگی محسوس ہو گی کہ بندہ یہ آرزو کرے گا : کہ اُسے جہنم میں لے جانے کا حکم دے دیا جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ایسا کافر کے حق میں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18393
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1776)»
حدیث نمبر: 18394
وَعَنْ أَنَسٍ - يَرْفَعُهُ - قَالَ : " مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِالْمِيزَانِ ، فَيُؤْتَى بِابْنِ آدَمَ فَيُوقَفُ بَيْنَ كِفَّتَيِ الْمِيزَانِ ، فَإِنْ ثَقُلَ مِيزَانُهُ نَادَى مَلَكٌ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : سَعِدَ فُلَانٌ سَعَادَةً لَا يَشْقَى بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَإِنْ خَفَّ مِيزَانُهُ نَادَى مَلَكٌ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : شَقِيَ فُلَانٌ شَقَاوَةً لَا يَسْعَدُ بَعْدَهَا أَبَدًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ایک فرشتے کو میزان کے پاس مقرر کیا گیا ہے ، ابن آدم کو لا کر میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا ، اگر اس کا میزان بھاری ہو گا تو فرشتہ ایسی آواز میں پکار کر کہے گا جو ساری مخلوق سن سکے گی ، فلاں شخص ایسا سعادتمند ہوا کہ وہ اس کے بعد کبھی بدنصیب نہیں ہو گا ، اور اگر اس کا میزان ہلکا ہوا تو فرشتہ اتنی بلند آواز میں پکار کر کہے گا ، جس کو ساری مخلوق سن سکے گی : فلاں شخص ایسا بدنصیب ہوا کہ اب وہ اس کے بعد کبھی بھی سعادت مند نہیں ہو سکے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3445)»
حدیث نمبر: 18395
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصُحُفٍ مُخَتَّمَةٍ ، فَتُنْصَبُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : أَلْقُوا هَذِهِ وَاقْبَلُوا هَذِهِ . فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : وَعِزَّتِكَ ، مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا . فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّ هَذَا كَانَ لِغَيْرِ وَجْهِي ، وَإِنِّي لَا أَقْبَلُ الْيَوْمَ إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهِي " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن مہر لگے ہوئے صحیفوں کو لایا جائے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو ایک طرف کر دو اور اس کو قبول کر لو ، فرشتے عرض کریں گے : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ( جس صحیفے کو تو نے ایک طرف کرنے کا حکم دیا ہے ) اس میں ہمیں صرف بھلائی دکھائی دے رہی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ ( یعنی اس صحیفے میں درج عمل ) میری ذات کے علاوہ کسی اور کے لئے تھا اور آج میں صرف اس کو قبول کروں گا ، جس کے ذریعے میری ذات ( کی رضامندی ) مراد لی گئی تھی ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18395
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3435)»
حدیث نمبر: 18396
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : وَعِزَّتِكَ ، مَا كَتَبْنَا إِلَّا مَا عَمِلَ ! قَالَ : صَدَقْتُمْ إِنَّ عَمَلَهُ كَانَ لِغَيْرِ وَجْهِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” فرشتے کہیں گے : تیری عزت کی قسم ہے ہم نے صرف وہ چیز نوٹ کی جو اس نے عمل کیا تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم نے سچ کہا: ہے ، اس کا عمل میرے علاوہ کسی اور کے لئے تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18396
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 18397
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ خَالِصًا ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ رِيَاءً ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ ، فَإِذَا جَمَعَهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لِلَّذِي كَانَ يَسْتَأْكِلُ النَّاسَ : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ فَيَقُولُ : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ أَسْتَأْكِلُ بِهِ النَّاسَ . قَالَ : لَمْ يَنْفَعْكَ مَا جَمَعْتَ شَيْئًا تَلْجَأُ إِلَيْهِ ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى النَّارِ . ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي كَانَ يَعْبُدُ رِيَاءً : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي ، مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ قَالَ : بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ رِيَاءَ النَّاسِ ، قَالَ : لَمْ يَصْعَدْ إِلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى النَّارِ . ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي كَانَ يَعْبُدُهُ خَالِصًا : بِعِزَّتِي وَجَلَالِي مَا أَرَدْتَ بِعِبَادَتِي ؟ قَالَ : بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، أَنْتَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ، أَرَدْتُ بِهِ ذِكْرَكَ وَوَجْهَكَ ، قَالَ : صَدَقَ عَبْدِي ، انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَرَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آخری زمانہ آئے گا تو میری امت تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا تاکہ لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرے ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انہیں جمع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے یہ فرمائے گا جو اس عبادت کے ذریعے لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرتا تھا ( اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا : ) میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم نے کس مقصد کے تحت میری عبادت کی ؟ وہ بندہ جواب دے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ! میں اس کے ذریعے لوگوں سے مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم نے جو کچھ بھی اکٹھا کیا ، وہ تمہیں یہ فائدہ نہیں دے گا کہ اب تم اس کی پناہ لے سکو ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا ) اس کو جہنم کی طرف لے جاؤ ! ۔ پھر اللہ تعالیٰ ریاکاری کے طور پر عبادت کرنے والے سے فرمائے گا : میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم نے میری عبادت کے ذریعے کیا مراد لیا ؟ ( یعنی میری عبادت کے حوالے سے تمہارا مقصد کیا تھا ؟ ) تو وہ شخص عرض کرے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ، لوگوں کے لئے دکھاوا ( میرا مقصد تھا ) پروردگار فرمائے گا : اس میں سے کوئی بھی عمل مجھ تک نہیں پہنچا ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا ) اس کو جہنم کی طرف لے جاؤ ! ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا جو خالص طور پر اس کی عبادت کرتا تھا ، میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! تم میری عبادت کے ذریعے کیا مراد لیتے تھے ؟ وہ عرض کرے گا : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ! تو اس بارے میں مجھ سے بہتر جانتا ہے ، میں نے اس کے ذریعے تجھے یاد کرنا اور تیری رضامندی مراد لیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے نے سچ کہا: ہے ( پھر فرشتوں کو حکم ہو گا : ) اسے جنت کی طرف لے جاؤ ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابوحاتم رازی اس سے راضی تھے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18397
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18398
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عُرِفَ الْكَافِرُ بِعَمَلِهِ فَجَحَدَ وَخَاصَمَ ، فَقِيلَ لَهُ : هَؤُلَاءِ جِيرَانُكَ يَشْهَدُونَ عَلَيْكَ ، فَيَقُولُ : كَذَبُوا . فَيَقُولُ : أَهْلُكَ وَعَشِيرَتُكَ . فَيَقُولُ : كَذَبُوا . فَيَقُولُ : احْلِفُوا ، فَيَحْلِفُونَ ، ثُمَّ يُصْمِتُهُمُ اللَّهُ ، وَتَشْهَدُ أَلْسِنَتُهُمْ ، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ النَّارَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو کافر کو اس کے عمل کی شناخت کروائی جائے گی ، وہ انکار کرے گا اور جھگڑا کرے گا تو اس سے کہا: جائے گا : یہ تمہارے پڑوسی ہیں ، جو تمہارے خلاف گواہی دے رہے ہیں ، وہ کہے گا : یہ جھوٹ بول رہے ہیں ، پروردگار فرمائے گا : ( یا فرشتہ کہے گا : ) یہ تمہارے اہل خانہ اور تمہارے خاندان کے لوگ ( یہ تمہارے خلاف گواہی دے رہے ہیں ) وہ کہے گا : یہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، وہ ( یعنی پروردگار یا فرشتہ ) فرمائے گا : تم لوگ حلف اٹھاؤ ! وہ لوگ حلف اٹھا لیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ انہیں خاموش کروائے گا اور پھر اُن ( کافر ) لوگوں کی ( اپنی ) زبانیں ( ان کے خلاف ) گواہی دیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18398
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1392)»
حدیث نمبر: 18399
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ عَظْمٍ مِنَ الْإِنْسَانِ يَتَكَلَّمُ يَوْمَ يُخْتَمُ عَلَى الْأَفْوَاهِ فَخِذُهُ مِنَ الرِّجْلِ الشِّمَالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس دن منہ پر مہر لگا دی جائے گی اس دن انسان کی جو ہڈی سب سے پہلے کلام کرے گی وہ بائیں ٹانگ کا زانو ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18399
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (333/17) اخرجه احمد فى المسند (151/4)»
حدیث نمبر: 18400
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لِي أَمْسِكُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ؟ أَلَا إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - دَاعِيَّ ، وَإِنَّهُ سَائِلِي : هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي ؟ وَإِنِّي قَائِلٌ : رَبِّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُهُمْ ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ، إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ " . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا دِينُنَا ؟ قَالَ : " هَذَا دِينُكُمْ وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پہلو سے پکڑ کر جہنم میں جانے سے روکتا ہوں ، خبردار ! میرے پروردگار نے مجھے بلانا ہے اور مجھ سے دریافت کرنا ہے : کیا تم نے میرے بندوں تک تبلیغ کر دی تھی ؟ اور میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میں نے ان کو تبلیغ کر دی تھی ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا : ) تم میں سے موجود افراد ، غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ، پھر تمہیں ( قیامت کے دن ) بلایا جائے گا اور تمہارے منہ بند کر دیے جائیں گے اور تم میں سے کسی ایک کی طرف سے جو چیز پہلے بیان کرے گی وہ اس کا زانو اور اس کی ہتھیلی ہو گی ۔ “
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمارا دین ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا دین ہے ، تم جہاں بھی اچھائی کرو گے وہ تمہارے لیے کفایت کرے گی ( یا یہ دین تمہارے لیے کفایت کرے گا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1679) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (407/19) اخرجه احمد فى المسند (446/4)»