حدیث نمبر: 18401
قَالَ : النَّاسَ - عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا " . قَالَ : قُلْنَا : وَمَا بُهْمًا ؟ قَالَ : " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ : أَنَا الدَّيَّانُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ ، حَتَّى اللَّطْمَةُ " . قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً ، غُرْلًا ، بُهْمًا ؟ ! قَالَ : " الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ " . وَهُوَ عِنْدَ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں کو برہنہ جسم حالت میں ، ختنے کے بغیر ” بہم “ حالت میں زندہ کرے گا ، ہم نے دریافت کیا : ” بہم “ حالت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی ، پھر ایک منادی ( یعنی پروردگار ) بلند آواز میں انہیں مخاطب کر کے کہے گا ، جس آواز کو دور کا فرد بھی اسی طرح سن سکے گا جس طرح نزدیک کا فرد سن سکے گا ( وہ فرمائے گا ) میں ” دیان “ ہوں ( یعنی فیصلہ کرنے والا یا بدلہ دینے والا ہوں ) میں بادشاہ ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے ، جبکہ اس نے اہل جنت میں سے کسی ایک سے کوئی حق لینا ہو ، جب تک میں اسے بدلہ نہیں دلوا دیتا ، اہل جنت میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جبکہ اہل جہنم میں سے کسی کا حق اس کے پاس ہو ، جب تک میں اسے بدلہ نہیں دلوا لیتا ، یہاں تک کہ طمانچہ مارنے ( کا بدلہ بھی میں دلواؤں گا ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : جب ہم برہنہ جسم ہوں گے ، ختنے کے بغیر ہوں گے اور ہمارے پاس کوئی چیز بھی نہیں ہو گی ( تو بدلہ کیسے دیا جائے گا ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نیکیوں اور برائیوں ( کے ذریعے بدلہ دیا جائے گا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18402
وَعَنْ عَائِشَةَ ، وَبَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي ، وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي ، وَأَضْرِبُهُمْ وَأَشْتُمُهُمْ ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِحَسَبِ مَا خَانُوكَ ، وَعَصَوْكَ ، وَكَذَبُوكَ ، وَعِقَابِكَ إِيَّاهُمْ ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا ، لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمُ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ " . فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْتِفُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ ؟ مَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ : " وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا لِي مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي عَبِيدَهُ - أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ . قُلْتُ : حَدِيثُ عَائِشَةَ وَحْدَهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِ الصَّحَابِيِّ الَّذِي لَمَّ يُسَمَّ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ أَيْضًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ایک صحابی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ غلام ہیں ، جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ، وہ میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں ، وہ میری نافرمانی کرتے ہیں ، میں اُنہیں مارتا ہوں اور انہیں برا کہتا ہوں ، یا رسول اللہ ! تو اُن کے ساتھ میرا یہ رویہ کیسا شمار ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وہ لوگ تمہارے ساتھ جو خیانت کرتے ہیں ، تمہاری جو نافرمانی کرتے ہیں ، تمہاری جو تکذیب کرتے ہیں ( ان کا ) یہ عمل اور تمہارا انہیں سزا دینا ( ان دونوں کا جائزہ لیا جائے گا ) اور اگر تمہاری اُنہیں دی ہوئی سزا اُن کے جرم سے کم ہوئی تو یہ چیز تمہارے لئے اضافی ہو گی اور اگر تمہاری اُنہیں دی ہوئی سزا اُن کے جرم کے مطابق ہو گی تو پھر معاملہ برابری کی بنیاد پر ہو گا ، نہ تمہارے حق میں کوئی چیز ہو گی نہ تمہارے ذمہ کوئی چیز لازم ہو گی ، اور اگر تمہارا انہیں سزا دینا ، ان کے جرم سے زیادہ ہو گا تو تمہاری طرف سے جو چیز اضافی ہو گی اس کے حوالے سے تم سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر رونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ کیا تم نے اللہ کی کتاب میں یہ نہیں پڑھا ہے : ” اور ہم قیامت کے دن عدل کا ترازو رکھیں گے تو کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ، اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے وزن جتنی بھی ہو گی ، تو ہم اس کو لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں ۔ “ اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی صورت نہیں ملتی جو میرے حق میں اُن سے علیحدگی اختیار کرنے سے زیادہ بہتر ہو ، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں صحابی کا نام بیان نہیں کیا گیا اس سند میں ایک اور ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں صحابی کا نام بیان نہیں کیا گیا اس سند میں ایک اور ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18403
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَعْتَلِفَانِ ، فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لِيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، دو بکریاں چر رہی تھیں ، اُن دونوں میں سے ایک نے دوسری کو سینگ مار کر اسے پرے کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں ہنستے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس پر حیرانی ہوئی ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن اُسے بدلہ دلوایا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 18404
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَا انْتَطَحَتَا ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِالرِّوَايَةِ الْأُولَى ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ ، وَفِيهَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ ابْنِ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِيهَا رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بکریوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو سینگ مار رہی تھیں ، آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم اس بارے میں جانتے ہو ؟ یہ جو ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے اور وہ عنقریب ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے گا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے پہلی روایت نقل کی ہے امام طبرانی نے اسی طرح کی روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد ابن عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18405
وَعَنْ عُثْمَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْجَمَّاءَ لَتَقْتَصُّ مِنَ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَوَّامِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن سینگ کے بغیر والی بکری کو ، سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن أحمد نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ہزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عوام بن مزاحم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن أحمد نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ہزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عوام بن مزاحم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18406
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُقْتَصُّ لِلْخَلْقِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ حَتَّى لِلْجَمَّاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ ، وَحَتَّى لِلذَّرَّةِ مِنَ الذَّرَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مخلوق کو ایک دوسرے سے بدلہ دلوایا جائے گا ، یہاں تک کہ سینگ کے بغیر والی بکری کو ، سینگ والی بکری سے ، اور ایک چیونٹی کو دوسری چیونٹی سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18407
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَوَّلَ خَصْمٍ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْزَانِ : ذَاتُ قَرْنٍ ، وَغَيْرُ ذَاتِ قَرْنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا صادق و مصدوق ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ” بے شک پہلے دو فریق قیامت کے دن ، جن کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ، وہ دو بکریاں ہوں گی ، ایک سینگ والی ہو گی اور ایک سینگ کے بغیر ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18408
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَيَبْلُغُ مِنْ عَدْلِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقْتَصَّ لِلْجَمَّاءِ مِنْ ذَاتِ الْقَرْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا عدل یہاں تک جائے گا کہ بغیر سینگ والی بکری کو ، سینگ والی سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی عطا بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی عطا بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 18409
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي وَكَانَ بِيَدِهِ سِوَاكٌ ، فَدَعَا وَصِيفَةً لَهُ - أَوْ لَهَا - حَتَّى اسْتَبَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى الْحُجُرَاتِ فَوَجَدَتِ الْوَصِيفَةَ وَهِيَ تَلْعَبُ بِبَهْمَةٍ ، فَقَالَتْ : أَلَا أَرَاكِ تَلْعَبِينَ بِهَذِهِ الْبَهْمَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكِ ؟ فَقَالَتْ : لَا . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا خَشْيَةُ الْقَوَدِ لَأَوْجَعْتُكِ بِهَذَا السِّوَاكِ " .
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، آپ کے دست مبارک میں مسواک تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو بلایا ( وہ نہیں آئی ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غضب کے آثار نمایاں ہوئے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اُٹھ کر کمرے کے اندر گئیں ، تو انہوں نے اس کنیز کو پایا کہ وہ بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہاں بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہی ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں ، اس کنیز نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے آپ کی آواز نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر بدلہ دیے جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اس مسواک کے ذریعے مارنا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 18410
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَوْلَا الْقِصَاصُ لَضَرَبْتُكِ بِهَذَا السِّوَاكِ " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر قصاص نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اس مسواک کے ذریعے مارنا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 18411
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَوْلَا مَخَافَةُ الْقِصَاصِ لَأَوْجَعْتُكِ بِهَذَا السَّوْطِ " . رَوَى هَذَا كُلَّهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : دَعَا وَصِيفَةً لَهُ ، وَلَمْ يَشُكَّ ، وَقَالَ : " لَوْلَا مَخَافَةُ الْقَوَدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر قصاص کا خوف نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اس لکڑی کے ذریعے تکلیف پہنچانی تھی ۔ “ یہ تمام روایات امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہیں ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو بلایا ۔ “ یہ الفاظ کسی شک کے بغیر ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اگر قیامت کے دن بدلہ دیے جانے کا خوف نہ ہوتا ۔ “ امام ابویعلیٰ اور طبرانی کی نقل کردہ روایت کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18412
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَضْرِبُ عَبْدًا لَهُ إِلَّا أُقِيدَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے غلام کو مارے گا کہ قیامت کے دن ، اس غلام کو اس سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18413
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ ضَرَبَ سَوْطًا ظُلْمًا اقْتُصَّ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ظلم کے طور پر ایک چھڑی مارے گا کہ قیامت کے دن اس سے بدلہ دلوایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18414
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُقْبِلُ الْجَبَّارُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَثْنِي رِجْلَهُ عَلَى الْجِسْرِ فَيَقُولُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَا يُجَاوِزُنِي ظُلْمُ ظَالِمٍ ، فَيَنْصِفُ الْخَلْقَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَنْصِفُ الشَّاةَ الْجَمَّاءَ مِنَ الشَّاةِ الْعَضْبَاءِ بِنَطْحَةٍ تَنْطَحُهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن جب ” جبار تبارک و تعالیٰ “ آئے گا اور پل پر اپنی ٹانگ موڑ لے گا اور یہ فرمائے گا ، میری عزت اور میرے جلال کی قسم ہے ، کسی ظالم کا ظلم میرے آگے سے نہیں گزر سکے گا ، پھر وہ مخلوق کے درمیان ان کے باہمی معاملات کے حوالے سے انصاف کرے گا ، یہاں تک کہ وہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوائے گا ، جو سینگ اُس نے اسے مارا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18415
وَعَنْ سَلْمَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْحَسَنَاتِ بِمَا يَرْجُو أَنَّهُ يَنْجُو بِهَا ، فَلَا يَزَالُ رَجُلٌ يَجِيءُ قَدْ ظَلَمَهُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَيُعْطَى الْمَظْلُومُ حَتَّى لَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، ثُمَّ يَجِيءُ مَنْ يَطْلُبُهُ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ ، فَيُؤْخَذُ مِنْ سَيِّئَاتِ الْمَظْلُومِ فَتُوضَعُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ایک شخص اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ وہ یہ گمان کرے گا کہ ان کی وجہ سے وہ نجات پا جائے گا ، لیکن پھر کوئی شخص آئے گا جس پر اس نے ظلم کیا ہو گا ، تو اس شخص کی نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی ، یہاں تک کہ اس شخص کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، پھر کوئی اور شخص آئے گا جو اس سے مطالبہ کرے گا لیکن اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی ہو گی تو مظلوم کی برائیاں لے کر اُس کی برائیوں میں شامل کر دی جائیں گی ۔ “
یہ روایت طبرانی اور امام بزار نے عبداللہ بن اسحاق عطار کے حوالے سے خالد بن حمزہ سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت طبرانی اور امام بزار نے عبداللہ بن اسحاق عطار کے حوالے سے خالد بن حمزہ سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18416
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ غَازِيًا ، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِحِمْصَ خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ لِأَشْتَرِيَ مَا لَا غِنًى لِلْمُسَافِرِ عَنْهُ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قُلْتُ : لَوْ أَنِّي دَخَلْتُ فَرَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى ثَابِتِ بْنِ مَعْبَدٍ ، وَمَكْحُولٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا : إِنَّا نُرِيدُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ . فَقَامُوا وَقُمْتُ مَعَهُمْ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ رَقَّ وَكَبِرَ ، وَإِذَا عَقْلُهُ وَمَنْطِقُهُ أَفْضَلُ مِمَّا نَرَى مِنْ مَنْظَرِهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا حَدَّثَنَا أَنْ قَالَ : إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ بَلَاغِ اللَّهِ إِيَّاكُمْ ، وَحُجَّتِهِ عَلَيْكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ ، وَإِنَّ أَصْحَابَهُ قَدْ بَلَّغُوا مَا سَمِعُوا ، فَبَلِّغُوا مَا تَسْمَعُونَ : ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : رَجُلٌ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي جَهَنَّمَ جِسْرًا لَهُ سَبْعُ قَنَاطِرَ ، عَلَى أَوْسَطِهِ الْعُصَاةُ ، فَيُجَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْقَنْطَرَةِ الْوُسْطَى قِيلَ لَهُ : مَاذَا عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ ؟ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : " وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا " . قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ، عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا ، فَيُقَالُ لَهُ : اقْضِ دَيْنَكَ . فَيَقُولُ : مَا لِي شَيْءٌ ، وَمَا أَدْرِي مَا أَقْضِي مِنْهَا ! فَيُقَالُ : خُذُوا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَمَا يَزَالُ يُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، حَتَّى إِذَا فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قِيلَ : قَدْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ . فَيُقَالُ : خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِ مَنْ يَطْلُبُهُ ، فَرَكِّبُوا عَلَيْهِ ، فَلَقَدْ بَلَغَنِي : أَنَّ رِجَالًا يَجِيئُونَ بِأَمْثَالِ الْجِبَالِ مِنَ الْحَسَنَاتِ ، فَمَا يَزَالُ يُؤْخَذُ لِمَنْ يَطْلُبُهُمْ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كُلْثُومُ بْنُ زِيَادٍ ، وَبَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةٌ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن حبیب محاربی بیان کرتے ہیں : میں جنگ میں حصہ لینے کے لیے روانہ ہوا ، جب میرا گزر ” حمص “ سے ہوا تو میں بازار کی طرف گیا تاکہ وہاں سے وہ چیزیں لے لوں جو مسافر کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، جب میں نے مسجد کے دروازے کی طرف دیکھا تو میں نے سوچا کہ اگر میں مسجد کے اندر جا کر دو رکعت ادا کر لوں ( تو یہ مناسب ہو گا ) جب میں مسجد کے اندر آیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ثابت بن معبد ، ابن زکریا اور مکحول ، اہل دمشق سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ موجود تھے ، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ، وہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے ، پھر انہوں نے کہا: ہم سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، وہ لوگ اُٹھے تو ان کے ساتھ میں بھی اُٹھ گیا ، ہم لوگ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ ایک بوڑھے کمزور عمر رسیدہ فرد تھے ، لیکن ان کی ظاہری حالت کی بہ نسبت ان کی عقل اور ان کی گفتگو زیادہ فضیلت رکھتی تھی ، انہوں نے ہمیں جو بات ارشاد فرمائی ، اس میں سب سے پہلی بات یہ تھی ، تمہاری یہ نشست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے تبلیغ ہے اور تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کے ہمراہ معبوث کیا گیا تھا ، آپ نے اس کی تبلیغ کر دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو کچھ سنا تھا ، اُس کی انہوں نے تبلیغ کر دی ، تو تم لوگ جو سنو گے ، تم بھی اس کی تبلیغ کر دینا ! ” تین لوگ ہیں ، جن کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے ، ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات ہے ، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے ، یا پھر اسے اجر اور غنیمت کے ہمراہ واپس لے آئے ، اور ایک وہ شخص جو اپنے گھر میں سلامتی کے ہمراہ داخل ہوتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : جہنم پر پل ہو گا جس میں سات طبقے ہوں گے ، ان میں سے درمیان والے پر نافرمان لوگ ہوں گے ، کسی بندے کو لایا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ درمیانی درجے پر پہنچے گا تو اس سے دریافت کیا جائے گا : تمہارے ذمہ کتنا قرض ہے ؟ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے ۔ “ وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میرے ذمہ اتنا ، اتنا قرض ہے ، تو اُسے کہا: جائے گا : تم اپنا قرض ادا کرو ! وہ کہے گا : میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس چیز کے ذریعے ادائیگی کروں ؟ تو کہا: جائے گا : اس کی نیکیاں لے لو ! اس شخص سے نیکیاں لی جائیں گی ، یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو کہا: جائے گا : اس کی نیکیاں ختم ہو گئی ہیں ، تو یہ کہا: جائے گا : اس سے مطالبہ کرنے والے کے گناہ لو اور اس کے ذمہ ڈال دو ! ( راوی کہتے ہیں : ) مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : کچھ لوگ پہاڑوں جتنی نیکیاں لے کر آئیں گے اور ان سے ( بدلہ ) طلب کرنے والے لوگوں کے لئے اُن کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی ، یہاں تک کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کلثوم بن زیاد اور ایک راوی بکر بن سہل دمیاطی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت پہنچی ہے : کچھ لوگ پہاڑوں جتنی نیکیاں لے کر آئیں گے اور ان سے ( بدلہ ) طلب کرنے والے لوگوں کے لئے اُن کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی ، یہاں تک کہ اس شخص کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کلثوم بن زیاد اور ایک راوی بکر بن سہل دمیاطی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18417
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجِيءُ الظَّالِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِذَا كَانَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ بَيْنَ الظُّلْمَةِ وَالْوُعْرَةِ لَقِيَهُ الْمَظْلُومُ فَعَرَفَهُ وَعَرَفَ مَا ظَلَمَهُ بِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ الَّذِينَ ظُلِمُوا يَقُصُّونَ مِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا حَتَّى يَنْزِعُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ الْحَسَنَاتِ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ حَسَنَاتٌ رُدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ حَتَّى يُورَدَ الدَّرْكَ الْأَسْفَلَ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ظالم آئے گا ، یہاں تک کہ وہ جہنم کے پل کے پاس پہنچے گا ، جہاں تاریکی اور گھبراہٹ ہو گی ، تو مظلوم اس سے ملے گا ، وہ اسے پہچان لے گا ، اس نے جو ظلم اس پر کیا تھا اُسے بھی پہچان لے گا ، پھر ظلم کرنے والوں سے ، مظلوموں کو مسلسل بدلہ دلایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کے ان ظالموں کے پاس جتنی نیکیاں ہوں گی وہ ان سے لے لی جائیں گی اور جب ان کی نیکیاں باقی نہیں رہیں گی ، تو مظلوموں کی برائیاں اُن پر ڈال دی جائیں گی ، یہاں تک کہ انہیں جہنم کے سب سے نیچے والے طبقے میں پہنچا دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18418
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَمْثَالِ الْجِبَالِ مِنْ مَظَالِمِ النَّاسِ بَيْنَهُمْ وَحُقُوقِهِمْ ، فَمَا يَزَالُ اللَّهُ يَقُصُّهَا حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کے پہاڑوں جیسے مظالم لائے جائیں گے جو انہوں نے ایک دوسرے پر کئے ہوں گے اور ان کے حقوق لائے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ مسلسل ان کے حوالے سے بدلہ دلواتا رہے گا ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18419
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَابِسٌ الْغَرِيمَ عَلَى غَرِيمِهِ كَأَشَدِّ مَا حُبِسَ شَيْءٌ عَلَى شَيْءٍ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ أُعْطِيهِ وَقَدْ حَشَرْتَنِي عُرْيَانًا حَافِيًا ، فَمِنْ أَيْنَ ؟ ! فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : سَأُعْطِيهِمْ مِنْ حَسَنَاتِكَ ، فَتُطْرَحُ عَلَى حَسَنَاتِ الْقَوْمِ ، فَإِنْ كَفَتْ وَإِلَّا أَخَذْتَ مِنْ سَيِّئَاتِ الْقَوْمِ فَطُرِحَتْ عَلَى سَيِّئَاتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایک غریم ( یعنی جس کے ذمہ کوئی ادائیگی ہو گی ، اس ) کو دوسرے کے لئے روک لے گا ، اتنی زیادہ سختی کے ساتھ جتنی سختی کی جا سکتی ہے ، وہ کہے گا : اے پروردگار ! میں اسے کیسے کچھ دوں ؟ جبکہ تو نے میرا حشر ایسی حالت میں کیا ہے کہ میں برہنہ ہوں اور برہنہ پاؤں ہوں ، تو ادائیگی کیسے ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہم ان لوگوں کو تمہاری نیکیاں دے دیتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) پھر اس کی نیکیاں لوگوں کو دے دی جائیں گی ، اگر وہ کفایت کر جائیں گی تو ٹھیک ہے ورنہ لوگوں کے گناہ لے کر اُس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18420
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرُّوحِ الْأَمِينِ قَالَ : " قَالَ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : يُؤْتَى بِسَيِّئَاتِ الْعَبْدِ وَحَسَنَاتِهِ فَيُقْتَصُّ أَوْ يُقْضَى ، فَإِنْ بَقِيَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ وُسِّعَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سیدنا روح الامین علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : پروردگار فرماتا ہے : ” بندے کی برائیاں اور نیکیاں لائی جائیں گی اور پھر بدلہ دلوایا جائے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ادائیگیاں کی جائیں گی ، اگر اُس کی ایک بھی نیکی باقی رہ گئی تو وہ اس کے لئے جنت میں گنجائش کر دے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے بعض راویوں میں موجود ضعف کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے بعض راویوں میں موجود ضعف کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18421
وَعَنْ زَاذَانَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَقَدْ سَبَقَ إِلَى مَجْلِسِهِ أَصْحَابُ الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ ، فَقُلْتُ : أَدْنَيْتَ النَّاسَ وَأَقْصَيْتَنِي ، فَقَالَ لِي : ادْنُ ، فَأَدْنَانِي حَتَّى أَقْعَدَنِي عَلَى بِسَاطِهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ يَكُونُ لِلْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا دَيْنٌ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَعَلَّقَانِ بِهِ فَيَقُولُ : أَنَا وَلَدُكُمَا ، فَيَوَدَّانِ أَوْ يَتَمَنَّيَانِ لَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
زاذان بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سے پہلے ریشم اور دیباج والے لوگ ان کے پاس آ چکے تھے ، میں نے کہا: آپ نے لوگوں کو قریب کر لیا ہے اور مجھے دور کر دیا ہے ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم قریب آ جاؤ ! انہوں نے مجھے قریب کیا یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اپنے بچھونے پر بٹھایا ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” والدین کا اپنی اولاد کے ذمہ قرض ہو گا ( یعنی جو قرض والدین نے اپنی اولاد سے وصول کرنا ہو گا ) جب قیامت کا دن ہو گا تو والدین اپنے بچے کے ساتھ متعلق ہو جائیں گے ( یعنی اس سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کریں گے ) وہ کہے گا : میں آپ کا بچہ ہوں ، لیکن ماں باپ کی یہ خواہش ہو گی کہ کاش اُنہوں نے اُس سے زیادہ وصولی کرنی ہوتی ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے )
یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بن مخلد کے حوالے سے ذکریا بن یحیی انصاری سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بن مخلد کے حوالے سے ذکریا بن یحیی انصاری سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18422
وَعَنْ جَهْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، وَمَرَّ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُسْتُمَ فِي مَوْكِبِهِ ، فَقَالَ لِابْنِ أَبِي مَرْيَمَ : إِنِّي لَأَشْتَهِي مُجَالَسَتَكَ وَحَدِيثَكَ ، فَلَمَّا مَضَى قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَغْبِطُوا فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جہم بن اوس بیان کرتے ہیں : میں نے عبداللہ بن ابومریم کو سنا ، عبداللہ بن رستم اپنی سواری پر ان کے پاس سے گزرا اس نے ابن ابومریم سے کہا: میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ کے پاس بیٹھتا اور آپ کے ساتھ بات چیت کرتا ، جب وہ چلا گیا تو ابن ابومریم نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ کسی گناہ گار شخص کی نعمت کے حوالے سے رشک نہ کرو کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ اس نے مرنے کے بعد کس صورتحال کا سامنا کرنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لیے ایک ایسا قاتل ہو گا ( جو اسے قتل کرتا رہے گا ) اور اسے موت نہیں آئے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18423
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا كَانَتْ لِأَخِيهِ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي نَفْسٍ أَوْ مَالٍ ، فَأَتَاهُ فَاسْتَحَلَّهُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ ؟ قَالَ : " أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ فَطُرِحَ عَلَى سَيِّئَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ عِيسَى الْيَزَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ جان یا مال کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہو ، پھر وہ اپنے بھائی کے پاس جائے اور قیامت کے دن سے پہلے اسے معاف کروا لے کیونکہ قیامت کے دن تو کوئی دینار یا درہم نہیں ہو گا وہاں تو نیکیاں ہی ہوں گی ۔ “ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو دوسرے شخص کے گناہ لے کر اس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ یزنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ یزنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔