کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آسمانوں اور زمینوں کا لپیٹ دیا جانا اور زمین کی حالت کا تبدیل ہو جانا
حدیث نمبر: 18365
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : كِلْتَا يَدَيِ اللَّهِ يَمِينَانِ ، فَيَطْوِي السَّمَاوَاتِ فَيَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ قَالَ : ثُمَّ يَأْخُذُ الْأَرَضِينَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ قَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟ " . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ حَمَّادٍ سَجَّادَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، وہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے گا اور پھر یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں : پھر وہ تمام زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا اور یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ عمر بن حمزہ کہتے ہیں : میں نے
یہ روایت سالم بن عبداللہ کو سنائی تو سالم نے بتایا : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹے گا اور انہیں دائیں ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ پھر وہ تمام زمینوں کو لپیٹ کر انہیں بائیں ہاتھ کے ذریعے پکڑ کر پھر یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن حماد سجادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت سالم بن عبداللہ کو سنائی تو سالم نے بتایا : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹے گا اور انہیں دائیں ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ پھر وہ تمام زمینوں کو لپیٹ کر انہیں بائیں ہاتھ کے ذریعے پکڑ کر پھر یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن حماد سجادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18366
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ قَالَ : " أَرْضٌ بَيْضَاءُ ، لَمْ يُسْفَكْ عَلَيْهَا دَمٌ ، وَلَمْ يُعْمَلْ عَلَيْهَا خَطِيئَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ” وہ ایک سفید زمین ہو گی ، جس پر خون نہیں بہایا گیا ہو گا اور جس پر کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔