کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آخرت میں ، اس امت کی کثرت اور اس کی ( مخصوص ) علامت کا بیان
حدیث نمبر: 18360
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَأْتِي مَعِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ السَّيْلِ وَاللَّيْلِ ، فَتَحْطِمُ النَّاسَ حَطْمَةٌ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : لَمَا جَاءَ مَعَ مُحَمَّدٍ أَكْثَرُ مِمَّا جَاءَ مَعَ سَائِرِ الْأُمَمِ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن میری امت میرے ساتھ یوں آئے گی جیسے سیلاب اور رات ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے ہجوم کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو اذیت کا سامنا کرنا ہو گا تو فرشتے یہ کہیں گے : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے لوگ ، اُن سب لوگوں سے زیادہ ہیں ، جو دیگر امتیں آئی ہیں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو لوگ دیگر انبیاء کے ساتھ آئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18361
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ ؟ قَالَ : " أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ، وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن میں دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں انہیں پہچان لوں گا ، جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور سجدوں کے نشانات کی وجہ سے ان کے چہرے میں موجود مخصوص نشانی کی وجہ سے میں انہیں پہچان لوں گا اور میں ان کے نور کی وجہ سے انہیں پہچان لوں گا جو ان کے آگے چل رہا ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 18362
وَفِي رِوَايَةٍ : " يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَيْمَانِهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو ( نور ) اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف چل رہا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18363
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَأَنْظُرُ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ ؟ ! قَالَ : " هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ إِنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى ذُرِّيَّتُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَذَرَارِيُّهُمْ نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جس کو سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جسے یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنے سر کو اٹھائے ، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، اپنے پیچھے بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اپنے دائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اور بائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا نوح علیہ السلام کی امت سے لے کر اپنی امت تک کی امتوں کے درمیان میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ، ان کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے ان کے آگے دوڑتے ہوئے آ رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور ان کے بچے اُن کے آگے نور کی شکل میں ہوں گے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور ان کے بچے اُن کے آگے نور کی شکل میں ہوں گے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18364
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ چمکدار پیشانیوں والے ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہیں ۔