کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیامت کے دن کا مومنین کے لیے ہلکا ہونا
حدیث نمبر: 18347
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَوْمٌ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي رَاوِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ایک ایسا دن جو پچاس ہزار سال کا ہو گا ۔ “ تو یہ دن کتنا زیادہ طویل ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ مومن شخص کے لئے اتنا ہلکا ہو گا ( کہ وہ اس کو اس سے زیادہ مختصر محسوس ہو گا ) جتنی دیر میں وہ دنیا میں فرض نماز ادا کرتا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے راوی میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1390) اخرجه احمد فى المسند (75/3)»
حدیث نمبر: 18348
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ مِقْدَارَ نِصْفِ يَوْمٍ مِنْ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، فَيُهَوَّنُ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَتَدَلِّي الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اُس دن کی نصف کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی اور وہ دن مومن کے لیے اتنا ہلکا ہو گا ( یعنی وہ مومن کو اتنا مختصر محسوس ہو گا ) جتنا سورج جب غروب ہونے کے قریب ہو اُس وقت سے لے کر غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن عبداللہ بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6025)»
حدیث نمبر: 18349
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ . فَقَالَ : " سَلْ عَمَّا شِئْتَ " . قَالَ : كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ وَمَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ ؟ وَهَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا قَوْلُكَ : كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ فَأَلْفُ سَنَةٍ ، لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ . وَأَمَّا قَوْلُكَ : مَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ ؟ فَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ فَرِيقَانِ : فَأَمَّا السَّابِقُونَ فَكَالرَّجُلَيْنِ تَنَاجَيَا فَطَالَتْ نَجْوَاهُمَا ، ثُمَّ انْصَرَفَا ، فَأُدْخِلَا الْجَنَّةَ " . فَقُلْتُ : مَا أَيْسَرَ هَذَا ! " أَمَّا قَوْلُكَ : هَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ ؟ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا حَوْضِي ، شُرُفَاتُهُ عَلَى الْجَنَّةِ ، وَتَضْرِبُ شُرُفَاتُهُ عَلَى النَّارِ ، طُولُهُ شَهْرٌ ، وَعَرْضُهُ شَهْرٌ ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، فِيهِ أَقْدَاحٌ مِنْ فِضَّةٍ وَقَوَارِيرُ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ كَأْسًا لَمْ يَجِدْ عَطَشًا وَلَا حُزْنًا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِيهِ ذِكْرُ الْحَوْضِ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ بِلَالٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جو چاہو سوال کرو ! انہوں نے عرض کی : قیامت کے دن تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے لوگ کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ اور وہ کھڑا رہنا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ اور کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ تو وہ 1000 سال ( کا عرصہ ) ہو گا ، انہیں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ وہ کھڑا ہونا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ تو مومنین کے دو گروہ ہوں گے ، جہاں تک سبقت لے جانے والے لوگوں کا تعلق ہے تو جس طرح دو آدمی سرگوشی میں بات کر رہے ہوں اور ان کی سرگوشی طویل ہو جائے اور پھر وہ دونوں واپس چلے جائیں ( بس اتنا وقت محسوس ہو گا اور انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔ میں نے کہا: یہ تو بہت آسان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل بھی ہے ؟ تو ان دونوں کے درمیان میرا حوض ہے ، اس کا بالائی حصہ جنت سے لگتا ہے اور اس کے بالائی حصے کا ایک حصہ جہنم سے لگتا ہے ، اس کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے اور اس کی چوڑائی بھی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس میں چاندی کے پیالے اور شیشے کے برتن ہوں گے جو اس میں سے ایک گلاس پی لے گا اسے پیاس یا غم محسوس نہیں ہو گا ، جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے حوض کے تذکرے کے بارے میں ایک روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن بلال ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18350
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَمَسَاكِينُهَا ؟ فَيَقُومُونَ فَيَقُولُ : مَاذَا عَمِلْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، ابْتُلِينَا فَصَبَرْنَا ، وَوَلَّيْتَ الْأُمُورَ وَالسُّلْطَانَ غَيْرَنَا . فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : صَدَقْتُمْ - أَوْ نَحْوَ هَذَا - فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِزَمَانٍ . وَيَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الْأُمُورِ وَالسُّلْطَانِ " . قَالُوا : فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " يُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ ، يُظَلِّلُ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ قیامت کے دن اکٹھے ہو گے ، تو یہ کہا: جائے گا : اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے ، ان سے دریافت کیا جائے گا : تم نے کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا تو ہم نے صبر سے کام لیا ، تو نے امور اور حکومت کا نگران ہمارے علاوہ دوسروں کو بنایا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے سچ کہا: ہے ، راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو وہ لوگ دوسرے لوگوں سے ایک مخصوص عرصہ پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور حساب کی شدت ان لوگوں کے لیے باقی رہ جائے گی ( یعنی جو دنیا میں امور اور حکومت سے متعلق افراد تھے ) ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اُس وقت مومنین کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے لیے نور سے بنے ہوئے منبر رکھے جائیں گے ، ان پر بادل سایہ کر دیں گے اور وہ ( یعنی قیامت کا ) دن مومنین کے لیے ( دنیا کے ) دن کے ایک پہر سے زیادہ مختصر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوکثیر زبیدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (211/19)»