کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مطلع کی ہولناکی ، اور قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18332
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ ; فَإِنَّ هَوْلَ الْمَطْلَعِ شَدِيدٌ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ فِي طُولِ الْعُمْرِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” موت کی تمنا نہ کرو ! کیونکہ مطلع کی ہولناکی شدید ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو اس سے پہلے کتاب توبہ میں ، عمر طویل ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18332
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (332/3)»
حدیث نمبر: 18333
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاءُ تَطِشُّ عَلَيْهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور اس وقت آسمان اُن پر ہلکی بارش نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوصہباء ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18333
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (226/3)»
حدیث نمبر: 18334
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ ، وَيَزْدَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تَغْلِي الْقُدُورُ ، يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ تَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن سورج ایک میل کے فاصلے جتنا قریب آ جائے گا اور اس کی تپش اتنی اتنی بڑھ جائے گی یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے اس کی وجہ سے یوں کھول اٹھیں گے جیسے ہنڈیا کھولتی ہے اور لوگ اس صورتحال میں یوں عرق آلود ہوں گے کہ وہ پسینہ ان کے گناہوں کے حوالے سے ہو گا ، وہ ان میں سے کسی کے ٹخنے تک پہنچ رہا ہو گا ، کسی کی پنڈلیوں تک آ رہا ہو گا ، کسی کے وسط تک آ رہا ہو گا ، اور کسی کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7779) اخرجه احمد فى المسند (254/5)»
حدیث نمبر: 18335
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى الْعَجُزِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَلْجَمَهَا فَاهُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشِيرُ هَكَذَا - وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ - وَضَرَبَ بِيَدِهِ وَأَشَارَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) سورج زمین کے اتنا قریب آ جائے گا کہ لوگوں کو پسینے آئیں گے ، کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن کا پسینہ ان کی ایڑیوں تک آ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ اُن کی نصف پنڈلی تک آ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ ان کے گھٹنوں تک پہنچ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ ان کے پیٹ کے نچلے حصے تک پہنچ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ ان کے پہلو تک پہنچ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ ان کے کندھوں تک پہنچ رہا ہو گا ، کچھ کا پسینہ ان کی گردن تک پہنچ رہا ہو گا ، اور کچھ ایسے ہوں گے کہ وہ اس پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی کہ اس کے منہ کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح اشارہ کرتے ہوئے دیکھا کہ کچھ لوگوں کو ان کے پسینے نے ڈھانپ لیا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18335
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (157/4)»
حدیث نمبر: 18336
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ أَنَّهُ : " يَبْلُغُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا : " إِلَى شَحْمَتِهِ " . وَقَالَ الْآخَرُ : " يُلْجِمُهُ " . فَحَطَّ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِإِصْبُعَيْهِ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى فِيهِ ، فَقَالَ : مَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا سَوَاءً . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عامر انصاری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کے پسینے کا کیا عالم ہو گا ؟ اُن دونوں میں سے ایک نے یہ بات ذکر کی کہ کسی شخص کا پسینہ اس کی کانوں کی لو تک ہو گا اور دوسرے صاحب نے یہ بات ذکر کی ، پسینے نے اسے لگام ڈالی ہوئی ہو گی ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اشارہ کر کے بتایا کہ کانوں کی لو سے لے کر اس کے منہ تک ایسے ہو گا ، ابوعاصم نامی راوی نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بتایا کہ ایسے ہو گا اور انہوں نے یہ کہا: میرے خیال میں یہ دونوں صورتیں برابر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن عمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5711) اخرجه احمد فى المسند (90/3)»
حدیث نمبر: 18337
وَعَنِ الْمِقْدَامِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى تَكُونَ مِنَ النَّاسِ قَدْرَ مِيلٍ ، وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا فَتَصْحَرُهُمْ ، فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ الْعَرَقُ إِلَى كَعْبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حِقْوَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا " . وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ : إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عِرْقٍ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن سورج اتنا قریب آ جائے گا کہ وہ لوگوں سے ایک میل کے فاصلے جتنا رہ جائے گا اور اس کی گرمی زیادہ ہو جائے گی ، جو انہیں جلائے گی اور لوگ اس صورتحال میں اپنے اعمال کے حساب سے پسینے کی مختلف مقداروں میں ہوں گے ، کسی شخص کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک آ رہا ہو گا ، کسی کا پسینہ اس کے گھٹنوں تک آ رہا ہو گا ، کسی کا پسینہ اس کے پیٹ کے نچلے حصے تک آ رہا ہو گا اور کسی کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد عرق حمصی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (281/20)»
حدیث نمبر: 18338
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُرَاتٍ قَالَ : اخْتَصَمَ إِلَى مُحَارِبٍ رَجُلَانِ ، قَالَ : فَشَهِدَ عَلَى أَحَدِهِمَا رَجُلٌ ، فَقَالَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ : وَاللَّهِ ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ لَرَجُلُ صِدْقٍ ، وَلَئِنْ سَأَلْتَ عَنْهُ لَيُحْمَدَنَّ أَوْ لَيُزَكَّيَنَّ ، وَلَقَدْ شَهِدَ عَلَيَّ بِبَاطِلٍ ، وَلَا أَدْرِي مَا اجْتِرَاؤُهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهُ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ : يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شَاهِدُ الزُّورِ لَا تَزُولُ قَدَمَاهُ حَتَّى تَجِبَ لَهُ النَّارُ ، وَإِنَّ الطَّيْرَ يَوْمَ تَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَتَرْمِي مَا فِي أَجْوَافِهَا ، مَا لَهَا طِلْبَةٌ " . وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعِظُ رَجُلًا . قُلْتُ : قِصَّةُ شَاهِدِ الزُّورِ رَوَاهَا ابْنُ مَاجَهْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَتَطْرَحُ مَا فِي بُطُونِهَا ، وَلَيْسَتْ عَلَيْهَا مَظْلَمَةٌ ، فَاتَّقِهِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن فرات بیان کرتے ہیں : محارب کے سامنے دو آدمیوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک کے خلاف ایک شخص نے گواہی دیدی ، تو جس شخص کے خلاف گواہی دی گئی تھی اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق یہ ایک سچا آدمی ہے اور اگر آپ اس کے بارے میں تفتیش کریں تو اس کی تعریف کی جائے گی اور اس کی نیکی کا تذکرہ ہو گا ، لیکن اس نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے اور مجھے اندازہ نہیں ہو پایا کہ اسے کس بات نے اس کام کی جرأت دلائی ہے ؟ تو محارب بن دثار نے اس شخص سے کہا: اے شخص ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جھوٹی گواہی دینے والے شخص کے قدم اپنی جگہ سے ہلنے سے پہلے اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے اور قیامت کے دن پرندہ اپنے پر مارے گا اور جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے اُسے نکال دے گا حالانکہ اسے اس کی کوئی حاجت نہیں ہو گی ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کسی شخص کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جھوٹے گواہ والا واقعہ امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پرندے اپنے پیٹوں میں موجود جو کچھ ہے اسے پھینک دیں گے ، حالانکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی “ ( آگے والے الفاظ شاید محارب بن دثار کے ہیں : ) تو تم اس ( جھوٹی گواہی ) سے بچ کے رہو ! اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فرات ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5672)»
حدیث نمبر: 18339
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : الْأَرْضُ كُلُّهَا نَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَالْجَنَّةُ مِنْ وَرَائِهَا كَوَاعِبُهَا ، وَأَكْوَابُهَا ، وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَفِيضُ عَرَقًا حَتَّى تَسِيخَ فِي الْأَرْضِ قَامَتُهُ ، ثُمَّ يَرْتَفِعُ حَتَّى يَبْلُغَ أَنْفَهُ ، وَمَا مَسَّهُ الْحِسَابُ . قَالُوا : مِمَّ ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : مِمَّا يَرَى النَّاسُ يُلْقُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن ساری کی ساری زمین آگ ہو گی اور جنت اس کے پرے ہو گی ، لوگ اس کی حوروں کو اور اس کے برتنوں کو دیکھیں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں عبداللہ کی جان ہے ، کوئی شخص اتنا پسینہ بہائے گا کہ زمین میں ان کا وجود پسینے میں ڈوبا ہو گا اور کسی کا پسینہ اس کی ناک تک پہنچ رہا ہو گا ، حالانکہ ابھی اس کا حساب نہیں ہوا ہو گا ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : وہ صورتحال جس کا لوگ سامنا کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8771)»