حدیث نمبر: 18329
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَرْءُ مَا يَأْتِيهِ بَعْدَ الْمَوْتِ مَا أَكَلَ أَكْلَةً ، وَلَا شَرِبَ شَرْبَةً إِلَّا وَهُوَ يَبْكِي ، وَيَضْرِبُ عَلَى صَدْرِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَرَاسَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر آدمی کو یہ پتہ چل جائے کہ موت کے بعد اس کو کیا صورتحال پیش آئے گی ؟ تو وہ کوئی چیز نہ کھائے کوئی چیز نہ پیے ، صرف روتا رہے اور اپنا سینہ پیٹتا رہے ۔ “ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہراسہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18330
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا الْمَوْتُ فِيمَا بَعْدَهُ إِلَّا كَنَطْحَةِ عَنْزٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے سے بعد والی صورتحال کے مقابلے میں موت ( کی شدت ) صرف یوں ہے جیسے کسی بکری کے بچے نے ٹکر ماری ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18331
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ الْمَوْتُ أَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ ، وَإِنَّهُمْ لَيَلْقَوْنَ مِنْ هَوْلِ ذَلِكَ الْيَوْمِ شِدَّةً حَتَّى يُلْجِمَهُمُ الْعَرَقُ ، حَتَّى إِنَّ السُّفُنَ لَوْ أُجْرِيَتْ فِيهِ لَجَرَتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز عطار ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں اور میرا خیال ہے انہوں نے اس کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ابن آدم کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ، اُس وقت سے لے کر اُس نے کسی ایسی چیز کا سامنا نہیں کیا جو اس کے لئے موت سے زیادہ سخت ہو ، حالانکہ اس کے بعد والی صورتحال کے مقابلے میں موت آسان ہے ، لوگ قیامت کے دن ایسی سخت ہولناکی کا سامنا کریں گے کہ ان کو پسینے کی لگام ڈال دی جائے گی اور وہ پسینہ اتنا ہو گا کہ اگر اس میں کشتیاں چلائی جائیں تو وہ بھی چل پڑیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ایک صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کا اظہار نہیں کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ایک صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کا اظہار نہیں کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔