حدیث نمبر: 18318
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ شَبَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں برہنہ پاؤں ، برہنہ جسم ختنے کے بغیر حالت میں حشر کے دن اٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن شبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن شبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18319
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُشَاةً ، حُفَاةً ، غُرْلًا " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْظُرُ الرِّجَالُ إِلَى النِّسَاءِ ؟ فَقَالَ : " لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِمَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن لوگوں کو پیدل ، برہنہ پاؤں ، ختنے کے بغیر حالت میں اُٹھایا جائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا مرد ، عورتوں کی طرف دیکھیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت ہر شخص کا یہ عالم ہو گا کہ اُس کی توجہ کسی اور کی طرف نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس سے زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں ایک راوی ابراہیم بن حماد بن ابوحازم ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، کبیر کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس سے زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں ایک راوی ابراہیم بن حماد بن ابوحازم ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، کبیر کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18320
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً " . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ يَرَى بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ ؟ فَقَالَ : " شُغِلَ النَّاسُ " . قُلْتُ : مَا شَغَلَهُمْ ؟ قَالَ : " نَشْرُ الصَّحَائِفِ فِيهَا مَثَاقِيلُ الذَّرِّ ، وَمَثَاقِيلُ الْخَرْدَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ پاؤں ، برہنہ جسم حالت میں اٹھایا جائے گا ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی ( دوسروں کی طرف ) توجہ ہی نہیں ہو گی ، میں نے دریافت کیا : اُن کی توجہ کس طرف ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان صحیفوں کی طرف جو کھلے ہوئے ہوں گے اور اُن میں چیونٹی کے وزن جتنی چیز اور رائی کے دانے کے وزن جتنی چیز ( یعنی نیکی یا برائی ) موجود ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوموسیٰ بن عیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوموسیٰ بن عیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18321
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ يَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الْأَبْصَارَ شَاخِصَةٌ " . فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتِي ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ پاؤں ، برہنہ جسم حالت میں اُٹھایا جائے گا ، ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( لوگوں کی ) نگاہیں اوپر کی طرف اُٹھی ہوئی ہوں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران آسمان کی طرف نگاہ اُٹھا لی ، اُس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالٰی سے دعا کیجئے کہ وہ میری پردہ پوشی کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! تو اس کی پردہ پوشی کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مرزبان ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مرزبان ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18322
وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْعَثُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ ، وَبَلَغَ شُحُومَ الْآذَانِ " . فَقُلْتُ : يُبْصِرُ بَعْضُنَا بَعْضًا ؟ ! فَقَالَ : " شُغِلَ النَّاسُ ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) لوگوں کو برہنہ پاؤں ، برہنہ جسم ختنہ کے بغیر حالت میں اُٹھایا جائے گا اور ان کو پسینے کی لگام ڈالی گئی ہو گی جو ان کے کانوں کی لو تک پہنچ رہا ہو گا ۔ “ میں نے کہا: ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی ( ایک دوسرے کی طرف ) توجہ ہی نہیں ہو گی ، ہر شخص کی یہ حالت ہو گی کہ وہ دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18323
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الدَّوَابِّ لِيُوَافُوا الْمَحْشَرَ ، وَيُبْعَثُ صَالِحٌ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَيُبْعَثُ أَبْنَائِي الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى نَاقَتِي الْعَضْبَاءِ ، وَأُبْعَثُ عَلَى الْبُرَاقِ خَطْوُهَا عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهَا ، وَيُبْعَثُ بِلَالٌ عَلَى نَاقَةٍ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ فَيُنَادِي بِالْأَذَانِ مَحْضًا ، وَبِالشَّهَادَةِ حَقًّا ، حَتَّى إِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ شَهِدَ لَهُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ ، فَقُبِلَتْ مِمَّنْ قُبِلَتْ ، وَرُدَّتْ عَلَى مَنْ رُدَّتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : " يُحْشَرُ الْأَنْبِيَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الدَّوَابِّ لِيُوَافُوا مَنْ يَؤُمُّهُمْ لِلْمَحْشَرِ ، وَيُبْعَثُ صَالِحٌ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَأُبْعَثُ عَلَى الْبُرَاقِ ، وَيُبْعَثُ أَبْنَائِي الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى نَاقَتَيْنِ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ " . وَفِيهَا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ كَذَلِكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کا حشر جانوروں پر ہو گا ، تاکہ وہ اپنی قبروں سے نکل کر میدان محشر تک جا سکیں ، سیدنا صالح علیہ السلام اپنی اونٹنی پر جائیں گے ، میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین ، میری اونٹنی عضباء پر جائیں گے ، میں براق پر جاؤں گا ، جس کا ایک قدم حد نگاہ تک ہوتا ہے ، بلال جنت کی ایک اونٹنی پر جائے گا ، وہ محض اذان دے گا ، جو درحقیقت گواہی ہو گی ، یہاں تک کہ جب وہ یہ کہے گا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو پہلے والے اور بعد والے تمام مؤمنین اس بات کی گواہی دیں گے ، تو کسی کی گواہی قبول ہو جائے گی اور کسی کی مسترد ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” قیامت کے دن انبیائے کرام کو مختلف جانوروں پر بٹھایا جائے گا ، تاکہ وہ میدان محشر تک جا سکیں ، سیدنا صالح علیہ السلام کو ان کی اونٹنی پر سوار کیا جائے گا ، مجھے براق پر سوار کیا جائے گا ، میرے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو جنت کی دو اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوصالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی عثمان بن یحیی بن صالح ہے جو اسی طرح ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” قیامت کے دن انبیائے کرام کو مختلف جانوروں پر بٹھایا جائے گا ، تاکہ وہ میدان محشر تک جا سکیں ، سیدنا صالح علیہ السلام کو ان کی اونٹنی پر سوار کیا جائے گا ، مجھے براق پر سوار کیا جائے گا ، میرے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو جنت کی دو اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوصالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی عثمان بن یحیی بن صالح ہے جو اسی طرح ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18324
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ عَلَى أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْشَةٌ فِي الْمَوْتِ ، وَلَا فِي الْقُبُورِ ، وَلَا فِي النُّشُورِ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ عِنْدَ الصَّيْحَةِ يَنْفُضُونَ رُءُوسَهُمْ مِنَ التُّرَابِ ، يَقُولُونَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لا الہ الا اللہ ، والوں پر موت میں یا قبروں میں یا دوبارہ زندہ کیے جانے کے وقت کوئی وحشت نہیں ہو گی ، میں گویا اس وقت بھی ان کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ جب ( صور پھونکے جانے کی ) چیخ ہو گی ، تو وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہوں گے اور یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18325
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ : قُلْنَا لِلْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ : يَا أَبَا كَرِيمَةَ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : بَلَى . وَاللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ ، وَلَقَدْ أَخَذَ بِشَحْمَةِ أُذُنِي هَذِهِ ، وَأَنَا أَمْشِي مَعَ عَمٍّ لِي ، ثُمَّ قَالَ لِعَمِّي : " أَتُرَى أَنَّهُ يَذْكُرُهُ ؟ " . قُلْنَا : يَا أَبَا كَرِيمَةَ ، حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يُحْشَرُ مَا بَيْنَ السِّقْطِ إِلَى الشَّيْخِ الْفَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي خَلْقِ آدَمَ ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ ، وَحُسْنِ يُوسُفَ ، مُرْدًا مُكَحَّلِينَ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِالْكَافِرِ ؟ قَالَ : " يُغَلَّظُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ غِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا ، وَقَرِيضَةُ النَّابِ مِنْ أَسْنَانِهِ مِثْلُ أُحُدٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیم بن عامر کلاعی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوکریمہ ! لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی ہے ، انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کان کی لو کو پکڑ لیا تھا ، میں اپنے چچا کے ساتھ چلتا ہوا آ گیا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے میرے چچا سے فرمایا تھا : کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کا ذکر کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: اے ابوکریمہ ! آپ ہمیں وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ( دنیا میں ) نامکمل پیدا ہونے والے بچے سے لے کر بوڑھے ترین شخص تک سب کو یوں اٹھایا جائے گا کہ اُن کی جسمانی کیفیت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرح ہو گی ، اُن کا دل سیدنا ایوب علیہ السلام کی طرح ہو گا اور ان کی خوبصورتی سیدنا یوسف علیہ السلام کی مانند ہو گی ، وہ داڑھی مونچھ کے بغیر ہوں گے اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کافر کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ارشاد فرمایا : اسے جہنم کے لیے بڑا کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ اُس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی اور اس کے دانتوں میں سے اطراف کا ، ایک دانت احد پہاڑ جتنا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18326
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُحْشَرُ النَّاسُ مَا بَيْنَ السِّقْطِ إِلَى الشَّيْخِ الْفَانِي أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، فِي خَلْقِ آدَمَ ، وَحُسْنِ يُوسُفَ ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ ، مُكَحَّلِينَ ذَوِي أَفَانِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ : أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ( یعنی دنیا میں ) نامکمل پیدا ہونے والے بچے سے لے کر بوڑھے ترین شخص تک سب کو ایسی صورت میں پیدا کیا جائے گا کہ اُن کی عمر 33 برس ہو گی ، اُن کی جسمانی ساخت سیدنا آدم علیہ السلام جیسی ہو گی ، اُن کی خوبصورتی سیدنا یوسف علیہ السلام جیسی ہو گی ان کے دل سیدنا ایوب علیہ السلام جیسے ہوں گے ، اُن کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور بال بھرپور ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ رہاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ رہاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18327
وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسًا فِي صُوَرِ الذَّرِّ ، يَطَؤُهُمُ النَّاسُ بِأَقْدَامِهِمْ ، فَيُقَالُ : مَا هَؤُلَاءِ فِي صُوَرِ الذَّرِّ ؟ فَيُقَالُ : هَؤُلَاءِ الْمُتَكَبِّرُونَ فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھائے گا ، جنہیں لوگ اپنے پاؤں کے ذریعے روند رہے ہوں گے ، تو یہ دریافت کیا جائے گا : ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو چیونٹیوں کی شکل میں ہیں ، تو یہ کہا: جائے گا : یہ وہ لوگ تھے جو دنیا میں تکبر کیا کرتے تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کا حکم بن عبداللہ عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کا حکم بن عبداللہ عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18328
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الذَّرِّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔