حدیث نمبر: 18306
عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النَّافِخَانِ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ ، وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ " أَوْ قَالَ : " رَأْسُ أَحَدِهِمَا بِالْمَغْرِبِ ، وَرِجْلَاهُ بِالْمَشْرِقِ ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ أَنْ يَنْفُخَا فِي الصُّورِ فَيَنْفُخَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَلَى الشَّكِّ ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَبِي مُرَيَّةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَإِنْ كَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَهُوَ مُتَّصِلٌ مُسْنَدٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومریہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پھونک مارنے والے دو فرشتے ، دوسرے آسمان میں ہیں ، ان میں سے ایک کا سر مشرق میں ہے اور پاؤں مغرب میں ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان میں سے ایک کا سر مغرب میں ہے اور پاؤں مشرق میں ہے اور وہ دونوں انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں کب صور میں پھونک مارنے کا حکم ہو ، تو وہ اُس میں پھونک مار دیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے شک کے ساتھ نقل کی ہے ، اگر تو یہ ابومریہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ متصل اور مسند ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے شک کے ساتھ نقل کی ہے ، اگر تو یہ ابومریہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تو پھر یہ متصل اور مسند ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18307
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ ، وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ ؟ " . قَالَ : فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں کیسے مطمئن رہ سکتا ہوں ؟ جبکہ قرن ( یعنی صور ) سے متعلق فرشتے نے قرن کے ساتھ منہ لگایا ہوا ہے ، اُس نے اپنی پیشانی کو جھکایا ہوا ہے اور سماعت متوجہ رکھی ہوئی ہے کہ اسے کب حکم ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ بات سنی ، تو یہ بات اُن پر بہت گراں گزری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : ” ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18308
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : " فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ " ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ . " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَيْفَ نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ” جب صور میں پھونک ماری جائے گی ۔ “ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیسے مطمئن ہو سکتا ہوں ؟ جبکہ قرن ( یعنی صور ) سے متعلق فرشتے نے اپنا منہ قرن کے ساتھ لگایا ہوا ہے ، اپنی پیشانی کو جھکایا ہوا ہے اور وہ اس بات کا منتظر ہے کہ کب اسے حکم ہو اور وہ پھونک مار دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : ہم کیا پڑھیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو : ” ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اُن صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے جو کمزور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اُن صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے جو کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 18309
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ صَبَاحٍ إِلَّا وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ . وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا . وَمَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِالصُّورِ ، يَنْتَظِرَانِ مَتَى يُؤْمَرَانِ فَيَنْفُخَانِ . وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ ، هَلُمَّ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ ، أَقْصِرْ . وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ : وَيْلٌ لِلرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَوَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی صبح ہوتی ہے تو دو فرشتے پکار کر یہ کہتے ہیں : ہر عیب سے پاک ہے وہ بادشاہ جو قدوس ہے اور دو فرشتے پکار کر یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مزید عطا فرما اور خرچ نہ کرنے والے کے ( مال کو ) ضائع کر دے اور دو فرشتے صور پر تعینات ہیں ، وہ دونوں اس بات کے منتظر ہیں کہ کب انہیں حکم ہوتا ہے تو وہ پھونک مار دیں اور دو فرشتے پکار کر یہ کہتے ہیں : اے بھلائی کے طلبگار ! آگے آ جاؤ ، اے برائی کے طلبگار ! باز آ جاؤ ، اور دو فرشتے پکار کر یہ کہتے ہیں : مردوں کے لیے عورتوں کے حوالے سے بربادی ہے اور عورتوں کے لئے مردوں کے حوالے سے بربادی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب خراسانی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ، نجی بن یحیی نے کہا: ہے : یہ مستقیم الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب خراسانی ہے جو انتہائی ضعیف ہے ، نجی بن یحیی نے کہا: ہے : یہ مستقیم الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18310
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ ، وَعِنْدَهَا كَعْبٌ الْحَبْرُ ، فَذَكَرَ إِسْرَافِيلَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا كَعْبُ ، أَخْبِرْنِي عَنْ إِسْرَافِيلَ ، فَقَالَ كَعْبٌ : عِنْدَكُمُ الْعِلْمُ ، قَالَتْ : أَجَلْ . قَالَتْ : فَأَخْبِرْنِي ، قَالَ : لَهُ أَرْبَعَةُ أَجْنِحَةٍ : جَنَاحَانِ فِي الْهَوَاءِ ، وَجَنَاحٌ قَدْ تَسَرْبَلَ بِهِ ، وَجَنَاحٌ عَلَى كَاهِلِهِ ، وَالْقَلَمُ عَلَى أُذُنِهِ ، فَإِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ كَتَبَ الْقَلَمُ ، ثُمَّ دَرَسَتِ الْمَلَائِكَةُ ، وَمَلَكُ الصُّورِ جَاثٍ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهِ ، وَقَدْ نَصَبَ الْأُخْرَى ، فَالْتَقَمَ الصُّورَ مَحْنِيٌّ ظَهْرُهُ ، وَقَدْ أُمِرَ إِذَا رَأَى إِسْرَافِيلَ قَدْ ضَمَّ جَنَاحَهُ أَنْ يَنْفُخَ فِي الصُّورِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھا اُن کے پاس کعب احبار موجود تھے ، انہوں نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کعب ! تم مجھے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ ! کعب نے جواب دیا : آپ لوگوں کے پاس علم ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی ہاں ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لیکن تم مجھے بتاؤ ! تو کعب احبار نے بتایا : اُن کے چار پر ہیں ، دو پر ہوا میں ہیں ، ایک پر ان کی زینت ہے ، ایک پر ان کی کاہل نامی ( رگ کی ) جگہ پر ہے ، قلم ان کے کان پر ہے ، جب وحی نازل ہوتی ہے تو قلم لکھتا ہے اور فرشتے درس لیتے ہیں اور صور پر متعین فرشتہ وہ ایک گھٹنے کے بل جھکا ہوا ہے اور دوسرا گھٹنا اُس نے کھڑا کیا ہوا ہے ، اس نے صور کو منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے ، اُس نے اپنی پشت کو جھکایا ہوا ہے ، اُسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو دیکھے کہ انہوں نے اپنے پر ملا لیے ہیں ، تو وہ صور میں پھونک مار دے ۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔