کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: قیامت قائم ہونا اور وہ لوگ کیسے پھوٹیں گے ( یعنی کیسے دوبارہ زندہ ہوں گے )
حدیث نمبر: 18311
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ قَبْلَ السَّاعَةِ سَحَابَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مِثْلُ التُّرْسِ ، فَلَا تَزَالُ تَرْتَفِعُ فِي السَّمَاءِ ، وَتَنْتَشِرُ حَتَّى تَمْلَأَ السَّمَاءَ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَيْنِ يَنْشُرَانِ الثَّوْبَ فَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَمْدُرُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي مِنْهُ شَيْئًا أَبَدًا ، وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ نَاقَتَهُ فَلَا يَشْرَبُهُ أَبَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت سے پہلے تم لوگوں پر ایک سیاہ رنگ کا بادل آئے گا جو مغرب کی طرف سے آئے گا اور ڈھال کی طرح کا ہو گا ، وہ مسلسل آسمان میں بلند ہوتا رہے گا اور پھیلتا رہے گا یہاں تک کہ آسمان کو بھر دے گا پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! تو لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے : کیا تم نے سنا ہے ؟ تو ان میں سے کچھ لوگ جواب دیں گے : جی ہاں ! وہ دوسری مرتبہ پکار کر کہے گا : اے لوگو ! اللہ کا حکم آ گیا ہے ، تو تم اس کے حوالے سے جلدبازی نہ کرو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا ہو گا اور وہ دونوں اسے سمیٹ نہیں سکیں گے ، ایک شخص اپنے حوض کو بنا رہا ہو گا اور وہ اس میں سے پانی حاصل نہیں کر پائے گا ، ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہو گا ، لیکن وہ اس کو پی نہیں سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18312
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتَقُومُ السَّاعَةُ ، وَالرَّجُلَانِ ثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ ، وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ ، وَلَتَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ قَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ لَا يَطْعَمُهَا ، وَلَتَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي مِنْهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَالرَّجُلُ قَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ لَا يَطْعَمُهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قائم ہو جائے گی اور دو آدمیوں کے درمیان کپڑا موجود ہو گا جسے وہ سمیٹ نہیں سکیں گے اور اس کا سودا نہیں کر پائیں گے ، قیامت قائم ہو جائے گی اور ایک شخص نے اپنا دودھ دوہ لیا ہو گا لیکن وہ اسے پی نہیں سکے گا ، قیامت قائم ہو جائے گی اور کسی شخص نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اُٹھایا ہو گا لیکن وہ اسے کھا نہیں سکے گا ، قیامت قائم ہو جائے گی اور کوئی شخص اپنے حوض پر گارہ لگا رہا ہو گا ، لیکن وہ اس ( حوض ) میں سے پانی حاصل نہیں کر پائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کسی شخص نے اپنا لقمہ اُٹھایا ہو گا ، لیکن وہ اسے کھا نہیں سکے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کسی شخص نے اپنا لقمہ اُٹھایا ہو گا ، لیکن وہ اسے کھا نہیں سکے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18313
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتُقَمَّصْنَ بِكُمْ قُمَاصَ الْبِكْرِ " . يَعْنِي الْأَرْضَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ تمہیں پاؤں مار کا ضرور پھینکے گی جس طرح جوان اونٹ پاؤں مارتا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ زمین ایسا کرے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18314
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجَبَ ذَنَبِهِ " . قِيلَ : وَمَا مَثَلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَثَلُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْهُ تَنْبُتُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مٹی پورے انسان کو کھا جاتی ہے ، سوائے پشت میں موجود ایک مخصوص حصے کے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی مثال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ رائی کے دانے کی مانند ہے ، اُسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18315
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَلَكَ قَوْمُ لُوطٍ إِلَّا فِي الْأَذَانِ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي الْأَذَانِ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مَعْنَاهُ عِنْدِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - : فِي وَقْتِ أَذَانِ الْفَجْرِ ، وَهُوَ وَقْتُ الِاسْتِغْفَارِ وَالدُّعَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم اذان کے وقت ہلاکت کا شکار ہوئی تھی اور قیامت بھی اذان کے وقت قائم ہو گی ۔ “ امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے ویسے اللہ بہتر جانتا ہے کہ فجر کی اذان کے وقت ایسا ہو گا اور یہ استغفار اور دعا کا وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف آدم بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف آدم بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔