کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مٹی کھا لینا ، حرام کھانے سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 18108
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبُ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبُ ثُمَّ يَأْتِي بِهِ فَيَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعُهُ فَيَأْكُلُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ التُّرَابِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص رسی لے اور پہاڑ کی طرف چلا جائے ، وہاں لکڑیاں اکٹھی کرے ، پھر انہیں اپنی کمر پر لاد کر لائے اور انہیں فروخت کر کے ( اس آمدن کے ذریعے ) کھائے ، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور آدمی مٹی لے کر اسے اپنے منہ میں ڈال لے ، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں ایسی چیز ڈالے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اُس میں مٹی والا حصہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7482)»