حدیث نمبر: 18075
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ ، فَانْظُرْ إِلَى مَا يَصِيرُ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُتَيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان کے کھانے کو دنیا کے لئے مثال بنایا گیا ہے ، انسان اسے کتنا عمدہ اور مزیدار بناتا ہے اور تم یہ جائزہ لو کہ وہ آخر میں کیا بن جاتا ہے ؟ “ ۔
یہ روایت عبداللہ اور طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عتی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (531)»
حدیث نمبر: 18076
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا ضَحَّاكُ ، مَا طَعَامُكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ . قَالَ : " ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا ؟ " . قَالَ : إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” اے ضحاک ! تمہاری خوراک کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گوشت اور دودھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر وہ کیا بن جاتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : وہی جو آپ جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم میں سے جو کچھ نکلتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اُسے دنیا کے لئے مثال کے طور پر بیان کیا ہے ( یا مثال بنایا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید بن جدعان کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8138) اخرجه احمد فى المسند (452/3)»
حدیث نمبر: 18077
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ : " أَلْكُمْ طَعَامٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَلَكُمْ شَرَابٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَتُصَفُّونَهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُبَرِّدُونَهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ مَعَادَهُمَا كَمَعَادِ الدُّنْيَا ، يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى خَلْفِ بَيْتِهِ فَيُمْسِكُ عَلَى أَنْفِهِ مِنْ نَتْنِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ کھانا کھاتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ پیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ اس کو بھونتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر تم اس کو ٹھنڈا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کا جو انجام ہے ، وہ دنیا کے انجام کی مانند ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص اُٹھ اُٹھ کر اپنے گھر کے پیچھے جاتا ہے اور اس کی بدبو سے بچنے کے لئے اپنی ناک بند کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6119)»