کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارواح ، گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف تھیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 17972
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدَائِنِ فَإِذَا أَنَا بَرْجَلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خَلْقَانُ ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْزِلُهُ ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ : مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ ؟ قَالُوا : هَذَا سَلْمَانُ ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بِيضًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي وَسَاءَلَنِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا رَأَيْتَنِي فِيمَا مَضَى ، وَلَا رَأَيْتُكَ ، وَلَا عَرَفْتَنِي ، وَلَا عَرَفْتُكَ ، قَالَ : بَلَى . وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ عَرَفَ رُوحِي رُوحَكَ حِينَ رَأَيْتُكَ ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ; فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللَّهِ ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللَّهِ اخْتَلَفَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ضَعِيفَةٍ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : میں مدائن آیا ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر پرانا سا لباس تھا ، اس کے پاس ایک سرخ چمڑا تھا ، جسے وہ صاف کر رہا تھا ، اس نے توجہ کی ، جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا : اے اللہ کے بندے ! تم اپنی جگہ پر رہو ، راوی کہتے ہیں : میں کھڑا ہو گیا ، میں نے اپنے پاس موجود شخص سے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ اس نے جواب دیا : یہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں گئے ، انہوں نے سفید لباس پہنا پھر وہ تشریف لائے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مجھ سے حال احوال دریافت کیا ، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! ماضی میں نہ تو کبھی آپ نے مجھے دیکھا ہے اور نہ میں نے آپ کو دیکھا ہے ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہی ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب میں نے تمہیں دیکھا تو میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا ، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ارواح ( عالم ارواح میں ) گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف اسانید کے ہمراہ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف اسانید کے ہمراہ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17973
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ; فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ارواح گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17974
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةً بِمَكَّةَ مَزَّاحَةً ، فَنَزَلَتْ عَلَى امْرَأَةٍ شَبَهًا لَهَا ، فَبَلَغَ ذَاكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : صَدَقَ حِبِّي ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " . قَالَ : وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ فِي الْحَدِيثِ : وَلَا تُعْرَفُ تِلْكَ الْمَرْأَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ َوالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں : مکہ میں ایک خاتون تھی ، جس کے مزاج میں مزاح کا عنصر غالب تھا ، وہ اپنے جیسی ایک خاتون کے ہاں ٹھہری ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ ارشاد فرمایا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ارواح گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ ( عورت ) اُس خاتون سے واقف نہیں تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔