کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: محبت ، بغض ، اچھی تعریف اور دیگر کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17960
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمِقَةَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ شَرِيكٌ : هِيَ الْمَحَبَّةُ - وَالصِّيتُ مِنَ السَّمَاءِ ، فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ [ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ : " إِنَّ اللَّهَ يَمِقُ " يَعْنِي : يُحِبُّ " فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ " " . قَالَ : " فَتَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي الْأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ " . قَالَ : " فَيُنَادِي جِبْرِيلُ : إِنْ رَبَّكُمْ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ " . قَالَ : فَيَجْرِي لَهُ الْبُغْضُ فِي الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . قُلْتُ : قَدْ عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ ، قُلْتُ : لَمْ أَجِدْهُ فِي الْأَطْرَافِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مقۃ ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۔ ( شریک نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد محبت ہے ) اور ذکر آسمان سے آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبرائیل سے فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ، تو وہ اعلان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تو ( اے فرشتو ! ) تم بھی اس سے محبت کرو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر وہ محبت زمین میں نازل ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے تو وہ جبرائیل سے فرماتا ہے : میں فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، تم بھی اسے ناپسند کرو : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل اعلان کرتے ہیں : تمہارا پروردگار فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہے ، تو تم بھی اسے ناپسند کرو : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اس شخص کے لیے زمین میں ناپسندیدگی جاری کر دی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے
یہ روایت ” اطراف “ میں نہیں پائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے
یہ روایت ” اطراف “ میں نہیں پائی ہے ۔
حدیث نمبر: 17961
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ صِيتٌ فِي السَّمَاءِ ، فَإِنْ كَانَ صِيتُهُ حَسَنًا [ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ ] ، وَإِنْ كَانَ صِيتُهُ فِي السَّمَاءِ سَيِّئًا وُضِعَ فِي الْأَرْضِ " . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر بندے کا آسمان میں ذکر ہوتا ہے ، اگر اس کا ذکر اچھا ہو تو اسے ( یعنی اس کے اچھے ذکر کو ) زمین میں رکھ دیا جاتا ہے اگر آسمان میں اس کا ذکر برا ہو تو اُسے بھی ( یعنی اس کے برے ذکر کو ) زمین میں رکھ دیا جاتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک روایت مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17962
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبَاوَةِ أَوْ بِالنَّبَاءَةِ يَقُولُ : " يُوشِكُ أَنْ يَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " . قَالُوا : بِمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” نباوہ “ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ” نباۃ “ کے مقام پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کی شناخت ہو جائے گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھی تعریف یا بری تعریف کے ذریعے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17963
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ . وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ ، فَقَدْ أَسَأْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں نے جو کام کیا ہے وہ اچھا ہے یا برا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو اس کا مطلب ہو گا تم نے اچھا کام کیا ہے ، اور جب تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو : تم نے برا کام کیا ہے ، تو اس کا مطلب ہو گا ، تم نے برا کام کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17964
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا : مَرْحَبًا . فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ . وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا : قَحْطًا . فَقَحْطًا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ الْأَكْبَرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ یہ کہیں : خوش آمدید ! تو اس شخص کو اس وقت بھی خوش آمدید کہا: جائے گا جس دن وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اور جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ کہیں : پرے رہو ! تو قیامت کے دن بھی اسے پرے کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعمر ضریر اکبر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعمر ضریر اکبر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17965
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَمْلَأَ اللَّهُ مَسَامِعَهُ مِمَّا يُحِبُّ " . قِيلَ : فَمَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَمْلَأَ اللَّهُ مَسَامِعَهُ مِمَّا يَكْرَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اہل جنت کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص جو اس وقت تک نہ مرے ، جب تک اللہ تعالی اس کی سماعتوں کو اس چیز کے ذریعے نہ بھر دے جو وہ پسند کرتا ہے ، عرض کی گئی : اہل جہنم کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ شخص ، جو اُس وقت تک نہ مرے جب تک اللہ تعالٰی اس کی سماعتوں کو اس چیز کے ذریعے نہ بھر دے ، جسے وہ شخص ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباس بن جعفر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباس بن جعفر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔