حدیث نمبر: 17946
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ ؟ فَقَالَ : " كُلُّ تَقِيٍّ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : آل محمد کون ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہر پرہیزگار شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ( یعنی آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ) ” اس کے ساتھی صرف پرہیزگار لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ابی مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ابی مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17947
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزِيدُهُ ذَا شَرَفٍ عِنْدَهُ ، وَلَا يَنْقُصُهُ إِلَّا التَّقْوَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ : " كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ " . وَأَحَادِيثُ فِي الْأَدَبِ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ ، وَفِي أَثْنَائِهَا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " التَّقْوَى هَهُنَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شرف زیادہ ہونا ، یا کم ہونا صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمارہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کا کرم اس کا تقویٰ ہوتا ہے ۔ “ اسی طرح کتاب الادب میں ، مسلمان کے حق کے بارے میں روایات گزری ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تقویٰ یہاں ہوتا ہے “ آپ نے اپنے مبارک سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمارہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کا کرم اس کا تقویٰ ہوتا ہے ۔ “ اسی طرح کتاب الادب میں ، مسلمان کے حق کے بارے میں روایات گزری ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تقویٰ یہاں ہوتا ہے “ آپ نے اپنے مبارک سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔