کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جس پر دنیا کی غربت اور آخرت کا عذاب اکٹھے ہو جائیں
حدیث نمبر: 17934
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَشْقَى الْأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا ، وَعَذَابُ الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ : فِي أَحَدِهِمَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي الْأُخْرَى أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سب سے زیادہ بدنصیب وہ شخص ہو گا ، جس پر دنیا کی غربت اور آخرت کا عذاب اکٹھے ہو جائیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ دوسری سند میں ایک راوی أحمد بن طاہر بن حرملہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ دوسری سند میں ایک راوی أحمد بن طاہر بن حرملہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔