حدیث نمبر: 17858
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ وَعَسَلٍ ، فَلَمَّا وَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ بَكَى وَانْتَحَبَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ بِهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْنَا : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا الْبُكَاءِ ؟ ! قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ رَأَيْتُهُ يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ شَيْئًا ، وَلَا أَرَى شَيْئًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الَّذِي أَرَاكَ تَدْفَعُ لَا أَرَى شَيْئًا ؟ ! قَالَ : " الدُّنْيَا تَطَوَّلَتْ لِي ، فَقُلْتُ : إِلَيْكَ عَنِّي ، فَقَالَتْ لِي : أَمَا إِنَّكَ لَسْتَ بِمُدْرِكِي " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَشَقَّ عَلَيَّ ، وَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ خَالَفْتُ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَحِقَتْنِي الدُّنْيَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ الزَّاهِدُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا كَانَ فَوْقَهُ ثِقَةٌ ، وَدُونَهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، انہوں نے پینے کے لیے کچھ مانگا تو پانی اور شہد لایا گیا ، جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پکڑایا گیا ، تو وہ رو پڑے ، اور شدید روئے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید انہیں کوئی چیز لاحق ہوئی ہے ، حالانکہ ہم نے ان سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھا: تھا ، جب وہ فارغ ہوئے ، تو ہم نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! آپ روئے کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : ” ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا اسی دوران میں نے آپ کو دیکھا کہ جیسے آپ کسی چیز کو پرے کر رہے ہیں ، لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ وہ کیا چیز ہے جس کو آپ پرے کر رہے ہیں اور مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میری طرف آئی ، تو میں نے کہا: مجھ سے دور رہو ، تو اس نے مجھ سے کہا: آپ میرے دام میں نہیں آئیں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو یہ چیز مجھ پر گراں گزری اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے برخلاف تو نہیں کیا اور دنیا مجھے لاحق ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید زاہد ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ابن حبان میں اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات کہی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس کے اوپر والا راوی ثقہ ہوں اور اس کے نیچے والا راوی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید زاہد ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ابن حبان میں اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات کہی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس کے اوپر والا راوی ثقہ ہوں اور اس کے نیچے والا راوی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔