حدیث نمبر: 17803
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، أَلَّا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا ، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ شُعَيْبٍ الْقَسْمَلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ أَسَانِيدِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبدالرحمن ! دنیا میٹھی ، سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں اپنا نائب بنایا ہے ، تاکہ اس چیز کو ظاہر کر دے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ؟ خبردار ! دنیا سے بچ کے رہنا اور عورتوں سے بچ کے رہنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن شعیب قسملی ہے اس کی اسانید میں سے ، ایک کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن شعیب قسملی ہے اس کی اسانید میں سے ، ایک کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17804
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ مال سرسبز ، میٹھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17805
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهَا ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ ! " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا میٹھی سرسبز ہے ، جو شخص کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا اس شخص کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی ، اور نفسانی خواہشات کے کئی طلبگار ایسے ہوتے ہیں ، قیامت کے دن انہیں صرف آگ ملے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17806
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، أَلَا فَاتَّقُوا النِّسَاءَ ، وَاتَّقُوا الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں نائب بنائے گا ، تاکہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ؟ خبردار ! تم عورتوں سے بچ کے رہنا ، اور تم دنیا سے بچ کے رہنا !“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17807
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا ، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ، فَاحْذَرُوا الدُّنْيَا ، وَاحْذَرُوا النِّسَاءَ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں نائب بنائے گا ، تاکہ اس بات کو ظاہر کر دے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ تو تم دنیا سے بچ کے رہنا ! تم عورتوں سے بچ کے رہنا ! خبردار ! قیامت کے دن ، ہر عہد شکن کے لئے اس کی سرین کے پاس مخصوص جھنڈا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17808
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا ، وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا فَمَثَلُهُ كَالَّذِي يَأْكُلُ ، وَيْلٌ لِلْمُتَخَوِّضِ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک دنیا میٹھی سرسبز ہے ، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا ، اس شخص کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی ، اور جو شخص ناحق طور پر اسے حاصل کرے گا ، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو کھاتا ہے ( اور سیر نہیں ہوتا ہے ) اللہ تعالیٰ کے مال اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کے بارے میں ، ناحق امید رکھنے والوں کے لئے قیامت کے دن جہنم کے عذاب کی بربادی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17809
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ كَانَ غَيْرَ مُبَارَكٍ لَهُ فِيهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، جس شخص کو ہم اس میں سے اپنی رضامندی کے بغیر کچھ دیں گے ، تو اس شخص کے لیے اس میں برکت نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17810
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ - قَالَ يَحْيَى : ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ - بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ مال سرسبز ، میٹھا ہے ، جو شخص اس کو لے گا ( یحیی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میرے استاد نے اس کے آگے کچھ الفاظ نقل کئے تھے ، لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا تھے ؟ ) تو شخص کے لئے اس میں برکت رکھی جائے گی ، اور اللہ تعالیٰ کے مال ، اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کے بارے میں ، کچھ لوگ ناحق امید رکھتے ہیں ، انہیں قیامت کے دن آگ نصیب ہو گی ۔ “ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17811
وَعَنْ مَيْمُونَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنِ اتَّقَى فِيهَا وَأَصْلَحَ فِي ذَلِكَ ، أَلَا وَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ ، فَبُعْدُ النَّاسِ كَبُعْدِ الْكَوْكَبَيْنِ : أَحَدُهُمَا يَطْلُعُ بِالْمُشْرِقِ ، وَالْآخَرُ يَغِيبُ بِالْمَغْرِبِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ عَنْهُ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، جو شخص اس کے بارے میں پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اس کو ٹھیک رکھے گا ( شاید اصل متن میں کچھ الفاظ نقل نہیں ہوئے ) خبردار ! اس کی مثال ایسے کھانے والے کی مانند ہے ، جو سیر نہیں ہوتا ہے ، لوگوں کے درمیان اتنی دوری ہوتی ہے ، جتنی دو ستاروں کے درمیان دوری ہوتی ہے ، جن دونوں میں سے ایک مشرق میں طلوع ہوتا ہے اور دوسرا مغرب میں غروب ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17812
وَعَنْ عَمْرَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهَا ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَلْقَاهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عمرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا میٹھی ، سرسبز ہے ، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس میں برکت رکھے گا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کے بارے میں ، کچھ ناحق طلبگار ہیں ، جنہیں قیامت کے دن جہنم نصیب ہو گی ، جب وہ لوگ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔