کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خوشحال شخص کے لئے ، اس کے مال وغیرہ کے حوالے سے کس چیز کا اندیشہ ہوتا ہے ؟
حدیث نمبر: 17797
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ الشَّيْطَانُ - لَعَنَهُ اللَّهُ - : لَنْ يَسْلَمَ مِنِّي صَاحِبُ الْمَالِ مِنْ إِحْدَى ثَلَاثٍ ، أَغْدُو عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَرُوحُ بِهِنَّ : أَخْذُهُ مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ ، وَإِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، وَأُحَبِّبُهُ إِلَيْهِ فَيَمْنَعُهُ مِنْ حَقِّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان یہ کہتا ہے : مالدار شخص تین میں سے کسی ایک چیز کے حوالے سے مجھ سے محفوظ نہیں رہتا ، میں صبح و شام وہ چیزیں اس کے پاس لے کے جاتا ہوں ، وہ مال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرتا ہے ، اسے ناحق طور پر خرچ کرتا ہے ، اور میں مال کو اس کے نزدیک محبوب کر دیتا ہوں ، تو وہ اس مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (288)»
حدیث نمبر: 17798
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَبْعَثُ أَشَدَّ أَصْحَابِهِ وَأَقْوَى أَصْحَابِهِ إِلَى مَنْ يَصْنَعُ الْمَعْرُوفَ فِي مَالِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان اپنے سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ قوی ساتھی کو اس شخص کی طرف بھیجتا ہے ، جو اپنے مال کے حوالے سے بھلائی کا کام کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11536)»
حدیث نمبر: 17799
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ عَدُوَّكَ الَّذِي إِنْ قَتَلْتَهُ كَانَ نُورًا ، وَإِنْ قَتَلَكَ دَخَلْتَ الْجَنَّةَ ، وَلَكِنَّ أَعْدَى عَدُّوِكَ وَلَدُكَ ، الَّذِي خَرَجَ مِنْ صُلْبِكَ ، ثُمَّ أَعْدَى عَدُوِّكَ مَالُكَ الَّذِي مَلَكَتْ يَمِينُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تمہارا دشمن وہ نہیں ہے کہ جسے اگر تم قتل کر دو ، تو یہ چیز تمہارے لئے نور بن جائے ، یا اگر وہ تمہیں قتل کر دے ، تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ ، بلکہ تمہاری سب سے بڑی دشمن ، تمہاری اولاد ہے جو تمہاری پشت سے نکلی ہے ، اور تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا مال ہے ، جس کے تم مالک ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17800
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَلَا أَرَاهُمَا إِلَّا مُهْلِكِيكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِ هَذَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دینار اور درہم ، ان دونوں نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کر دیا ، اور ان دونوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ تمہیں بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الزکوة میں گزر چکی ہے جو اسی نوعیت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17800
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، ولہ شاہد
حدیث نمبر: 17801
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " الْفَقْرَ تَخَافُونَ - أَوِ الْعَوَزَ - أَوَ تُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا ; فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ عَلَيْكُمْ فَارِسَ وَالرُّومَ ، وَتُصَبُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يَزِيغَكُمْ بَعْدَ أَنْ زِغْتُمْ إِلَّا هِيَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تمہیں غربت کا اندیشہ ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : ” حاجتمندی کا اندیشہ ہے ) ، یا تمہیں دنیا کے حوالے سے پریشانی ہے ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے فارس اور روم کو فتح کر دے گا اور تم پر دنیا کو اُنڈیل دیا جائے گا ، یہاں تک کہ اگر اس کے بعد تم بھٹکے ، تو وہی ( یعنی دنیا ) تمہیں بھٹکائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے اگرچہ وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/18)»
حدیث نمبر: 17802
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنَا لِفِتْنَةِ السَّرَّاءِ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ فِتْنَةِ الضَّرَّاءِ ، إِنَّكُمْ قَدِ ابْتُلِيتُمْ بِفِتْنَةِ الضَّرَّاءِ فَصَبَرْتُمْ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں تنگدستی کے فتنے کے مقابلے میں ، خوشحالی کے فتنے کے بارے میں زیادہ خوف ہے تمہیں تنگ دستی کی آزمائش کا شکار کیا گیا ، تو تم نے صبر سے کام لیا اور دنیا سرسبز و میٹھی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا فرد ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3612) اخرجه أبو يعلى فى المسند (780) أخرجه احمد فى المسند (24/6)»