حدیث نمبر: 17643
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : " الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ " الْآيَةَ . قَالَ : نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَاهُ عَلَيْهِمْ زَمَانًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا : الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا . الْآيَةَ . فَتَلَاهُ عَلَيْهِمْ زَمَانًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ حَدَّثْتَنَا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : " اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا " الْآيَةَ . كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ . قَالَ خَلَّادٌ : وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ ذَكَّرَتْنَا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : " أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ نَحْوَهُ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَزِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ غَيْرُ خَلَّادٍ ، هَذَا أَقْدَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” الٓرٰ ، یہ کتاب مبین کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے عمدہ ترین واقعہ بیان کریں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نازل ہوا ، آپ ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے یہ واقعہ سناتے رہے ، پھر لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں کوئی بات سنائیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا : ” الٓرٰ ، یہ کتاب مبین کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے عربی میں قرآن نازل کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے یہ تلاوت کرتے رہے ، پھر لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں کوئی بات بیان کریں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا : ” اللہ تعالیٰ نے سب سے خوبصورت بات نازل کی ہے ، جو کتاب ( کی شکل میں ) ہے ، ( جو نظم وغیرہ کے حوالے سے ) ایک دوسرے سے مشابہت رکھنے والے ( مضامین پر مشتمل ہے ) ۔ “ یعنی ہر صورتحال میں لوگوں کو قرآن کے بارے میں حکم دیا گیا ۔ خلاد نامی راوی بیان کرتے ہیں : دیگر لوگوں نے یہ بات زائد نقل کی ہے : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں نصیحت کریں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے ، اور جو حق نازل ہوا ہے ، اس کے لیے جھک جائیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو عنقزی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف خلاد صفار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور یہ خلاد بن مسلم کے علاوہ ہے ، یہ مقدم ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو عنقزی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف خلاد صفار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور یہ خلاد بن مسلم کے علاوہ ہے ، یہ مقدم ہے ۔