کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی ماں ، اپنی اولاد کے لئے مہربان ہوتی ہے
حدیث نمبر: 17609
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ ، فَلَمَّا رَأَتْ أَمُّهُ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ : ابْنِي ، ابْنِي ، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ ، قَالَ : فَخَفَضَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " وَلَا اللَّهُ يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ اصحاب کا گزر ہوا ، راستے میں ایک بچہ موجود تھا ، جب اس بچے کی ماں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آ رہے ہیں ، تو اسے اپنے بچے کے بارے میں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں ، وہ لوگ اس بچے کو روند نہ دیں ، تو وہ عورت دوڑتی ہوئی آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی : میرا بیٹا ، میرا بیٹا ، اس نے تیزی سے آ کر اس بچے کو پکڑ لیا ، حاضرین نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پرسکون کیا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندے کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17610
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا هُوَ بِصَبِيٍّ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، ضُمَّ الصَّبِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَالٌّ . فَجَاءَتْ أُمُّهُ فَأَخَذَتِ ابْنَهَا، فَجَعَلَتْ تَضُمُّهُ إِلَيْهَا، وَتَرْشُفُهُ وَتَبْكِي، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتَرَوْنَ هَذِهِ رَحِيمَةً بِوَلَدِهَا؟ . فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: وَاللَّهِ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِالْمُسْلِمِينَ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا». ¤ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَائِدٌ: أَبُو الْوَرْقَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. ¤ ، وَيَأْتِي حَدِيثُ عُمَرَ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْبَعْثِ. ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، راستے میں ایک بچہ نظر آیا ، جو رو رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس بچے کو پکڑ لو ، کیونکہ یہ گمشدہ ہے ، اسی دوران اس بچے کی ماں آ گئی اور اس نے اس بچے کو لے لیا ، اس نے بچے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اسے ہلاتے ہوئے چومنے لگی اور رونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے بچے کے بارے میں رحم کرنے والی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنی یہ عورت اپنے بچے کے لئے ( رحم کرنے والی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوالورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ، دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوالورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ، دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔