کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰٰ کا بڑے گناہوں کی مغفرت کر دینا ، اور اس کی رحمت کی وسعت کا بیان
حدیث نمبر: 17605
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - لَا يَتَعَاظَمُهُ ذَنْبٌ غَفَرَهُ : إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَتَلَ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَأَتَى رَاهِبًا فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ لَهُ : قَدْ أَسْرَفْتَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ . ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . قَدْ أَسْرَفْتَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ . ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ قَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ هَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ أَسْرَفْتَ ، وَمَا أَدْرِي وَلَكِنْ هَهُنَا قَرْيَتَانِ : قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا : نَصْرَةُ ، وَالْأُخْرَى يُقَالُ لَهَا : كَفْرَةُ ، فَأَمَّا نَصْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ الْجَنَّةِ ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ ، وَأَمَّا كَفْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ ، فَانْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ نَصْرَةَ ، فَإِنْ ثَبَتَّ فِيهَا ، وَعَمِلْتَ مِثْلَ أَهْلِهَا ، فَلَا تَشُكُّ فِي تَوْبَتِكَ . فَانْطَلَقَ يُرِيدُهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَسَأَلَتِ الْمَلَائِكَةُ رَبَّهَا عَنْهُ ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَاكْتُبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا . فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى نَصْرَةَ بِقِيدِ أُنْمُلَةٍ ، فَكُتِبَ مِنْ أَهْلِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بھی گناہ کی مغفرت کر دینا بڑی بات نہیں ہے ، تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے 98 افراد کو قتل کیا تھا ، وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے اس سے کہا: تم نے بڑی زیادتی کی ( یعنی تمہارے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ) وہ شخص اُٹھ کر راہب کے پاس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 99 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: جی نہیں ! تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، وہ شخص اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 100 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، مجھے نہیں معلوم ( کہ اس کا حکم کیا ہو گا ؟ ) البتہ یہ ہے کہ یہاں دو بستیاں ہیں ، ایک بستی کا نام ” بصرہ “ ہے اور دوسری بستی کا نام ” کفرہ “ ہے ، جہاں تک ” بصرہ“ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ اہل جنت کا سا عمل کرتے ہیں اور اس بستی میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں رہ سکتا جہاں تک ” کفرہ “ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے لوگ اہل جہنم کے سے عمل کرتے ہیں ، اور وہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں رہ سکتا ، تو تم ” بصرہ “ کے رہنے والوں کی طرف چلے جاؤ ، اگر تم وہاں ٹھہر گئے ، اور وہاں کے لوگوں کی مانند عمل کرنے لگے ، تو تمہیں اپنی توبہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہو گا ، وہ شخص اس بستی کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، جب وہ دونوں بستیوں کے درمیان پہنچا ، تو اُسے موت نے آ لیا ، فرشتوں نے اپنے پروردگار سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا : تو پروردگار نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ؟ اور پھر اسے اس بستی والوں میں نوٹ کر لینا ، تو فرشتوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ چند پوروں کے فاصلے جتنا ” بصرہ “ نامی بستی کے زیادہ قریب تھا ، تو اس کا شمار اُس بستی والوں میں کیا گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 17606
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ ظُلْمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَهُ . وَأَتَى آخَرَ فَقَالَ : إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلَّهَا ظُلْمًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : إِنْ حَدَّثْتُكَ عَلَى أَنَّ اللَّهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ كَذَبْتُكَ ، هَهُنَا قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ فَائْتِهِمْ تَعَبَّدِ اللَّهَ مَعَهُمْ . فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَقَالَ : قِيسُوا مَا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ أَقْرَبُ فَهُوَ مِنْهُمْ ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأُنْمُلَةٍ فَغُفِرَ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبد رب بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا ( یعنی گناہ کا ارتکاب کیا ) اس کی ملاقات دوسرے شخص سے ہوئی ، تو پہلے شخص نے بتایا کہ اس نے 99 قتل کیے ہیں ، اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، تو کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ دوسرے شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پہلے شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ پہلا شخص ایک اور فرد کے پاس آیا ، اس نے بتایا کہ میں نے 100 قتل کیے ہیں اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس فرد نے کہا: اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتا ہے ، تو میں تمہیں یہ غلط کہوں گا ، یہاں کچھ لوگ ہیں ، جو عبادت کرتے ہیں ، تو ان کے پاس جاؤ اور ان کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، وہ شخص ان لوگوں کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، راستے میں وہ مر گیا ، رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اکٹھے ہوئے ( کہ اس کو اپنے قبضے میں لیں ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، اس فرشتے نے یہ کہا: تم دونوں جگہوں کے درمیان والے حصے کو ناپ لو ، یہ دونوں میں سے ، جس کے زیادہ قریب ہو گا ، ان میں سے ایک شمار ہو گا ، تو انہوں نے یہ بات پائی کہ وہ شخص توبہ کرنے والوں کے عبادت خانے کے چند پوروں جتنا زیادہ قریب تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبد رب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبد رب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17607
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زَمْعَةَ الْبَلَوِيَّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا ، وَأَتَى يَوْمًا مَسْجِدَ الْفُسْطَاطِ ، فَقَامَ فِي الرَّحْبَةِ ، وَقَدْ كَانَ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَعْضُ التَّشْدِيدِ ، فَقَالَ : لَا تُشَدِّدُوا عَلَى النَّاسِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا ، فَذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَ الرَّاهِبَ . ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ آخَرَ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ : لَا . فَقَتَلَهُ . ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الثَّالِثِ فَقَالَ : إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا مِنْهُمْ رَاهِبَانِ ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ عَمِلْتَ شَرًّا ، وَلَئِنْ قُلْتُ : إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِغَفُورٍ رَحِيمٍ لَقَدْ كَذَبْتُ ، فَتُبْ إِلَى اللَّهِ . فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَا أُفَارِقُكَ بَعْدَ قَوْلِكَ ، فَلَزِمَهُ عَلَى أَنْ لَا يَعْصِيَهُ ، فَكَانَ يَخْدِمُهُ فِي ذَلِكَ ، فَهَلَكَ رَجُلٌ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ قَبِيحٌ ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا ، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ ، وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ حَسَنٌ ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَضَحِكَ ضَحِكًا شَدِيدًا فَأَنْكَرَ أَصْحَابُهُ ذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا إِلَى رَأْسِهِمْ فَقَالُوا : كَيْفَ يَأْوِي إِلَيْكَ هَذَا قَاتِلُ النُّفُوسِ وَقَدْ صَنَعَ مَا رَأَيْتَ ؟ ! فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ وَأَنْفُسِهِمْ ، فَأَتَى إِلَى صَاحِبِهِمْ مَرَّةً مِنْ ذَلِكَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَكَلَّمَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَوْقِدْ تَنُّورًا ، فَفَعَلَ ثُمَّ أَتَاهُ ، فَأَخْبَرَهُ : أَنْ قَدْ فَعَلَ . فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَلْقِ نَفْسَكَ فِيهَا ، فَلَهَا عَنْهُ الرَّاهِبُ ، وَذَهَبَ الْآخَرُ فَأَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ ، ثُمَّ اسْتَفَاقَ الرَّاهِبُ فَقَالَ : إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ بِقَوْلِي ، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ حَيًّا فِي التَّنُّورِ يَعْرَقُ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ التَّنُّورِ فَقَالَ : مَا يَنْبَغِي أَنْ تَخْدِمَنِي ، وَلَكِنْ أَنَا أَخْدِمُكَ ، أَخْبِرْنِي عَنْ بُكَائِكَ عَنِ الْمُتَوَفَّى الْأَوَّلِ ، وَعَنْ ضَحِكِكَ عَنِ الْآخَرِ . قَالَ : أَمَّا الْأَوَّلُ فَلَمَّا دُفِنَ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الشَّرِّ ، فَذَكَرْتُ ذُنُوبِي فَبَكَيْتُ . وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الْخَيْرِ فَضَحِكْتُ . وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقیس ، جو بنو جمح کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوزمعہ بلوی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے ، یہ بیعت رضوان میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں اور انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، وہ ایک دن ” فسطاط “ کی مسجد میں تشریف لائے اور صحن میں کھڑے ہو گئے ، انہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ بعض مسائل میں سختی کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو سختی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے 97 افراد کو قتل کر دیا ، پھر وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 97 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: جی نہیں ! اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے بھی یہ جواب دیا : جی نہیں ! اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ تیسرے راہب کے پاس گیا اور بولا: میں نے 99 افراد کو قل کیا ہے ، جن میں سے دو راہب بھی تھے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا: تم نے برا کام کیا ہے ، لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا نہیں ہے ، تو میری یہ بات غلط ہو گی ، تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ! اس شخص نے کہا: تمہاری اس بات کے بعد اب میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، اس کے بعد وہ اس راہب کے ساتھ رہنے لگا ، اس شرط پر کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا ، وہ اس کی خدمت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک دن ایک شخص مر گیا ، اس کی مذمت بیان کی گئی تھی ، جب اس شخص کو دفن کر دیا گیا ، تو وہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھ کبر بہت رویا ، پھر ایک اور شخص کا انتقال ہوا ، اس کی تعریفیں کی گئی تھیں ، جب اس شخص کو دفن کیا گیا ، تو ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھا اور بہت زیادہ ہنسا ، اس کے ساتھیوں کو اس پر اعتراض ہوا ، وہ لوگ اپنے سربراہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور بولے : یہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) آپ کے پاس کیسے رہ سکتا ہے ؟ جبکہ اس نے کئی لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے ، اور اب اس نے جو کچھ کیا ہے ، وہ آپ نے دیکھ لیا ہے ، تو اس راہب کے اور اس کے ساتھیوں کے دل میں اس شخص کے حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، ایک مرتبہ وہ شخص ان کے سربراہ کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا ساتھی بھی تھا ، اس نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے راہب سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ راہب نے کہا: تم جاؤ اور تنور دہکاؤ ! اس شخص نے ایسا ہی کیا ، پھر اس نے آ کر راہب کو اس بارے میں بتایا کہ وہ ایسا کر چکا ہے ، اس راہب نے کہا: تم جاؤ اور خود کو اس تنور میں ڈال دو ! راہب اس شخص کے حوالے سے غافل ہوا ، وہ شخص گیا اور اس نے خود کو تنور میں ڈال دیا ، پھر جب راہب کو یاد آیا ، تو اس نے کہا: میرا خیال ہے ، اس شخص نے میرے کہنے پر ، اپنے آپ کو تنور میں ڈال دیا ہو گا ، پھر وہ راہب گیا ، تو اس نے اس شخص کو پایا کہ وہ تنور میں زندہ موجود ہے ، اور اسے پسینہ آ رہا ہے ، راہب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے تنور سے باہر نکالا اور بولا: اب یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میری خدمت کرو ، بلکہ اب میں تمہاری خدمت کروں گا ، لیکن تم مجھے یہ بتاؤ ! کہ تم پہلے فوت ہونے والے شخص پر روئے کیوں تھے ؟ اور دوسرے والے پر ہنسے کیوں تھے ؟ اس شخص نے بتایا : جہاں تک پہلے فرد کا تعلق ہے ، تو جب اسے دفن کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ جو بری صورتحال اس پر ڈالی جا رہی ہے ، تو مجھے اپنے گناہوں کا خیال آ گیا اور میں رونے لگا ، جہاں تک دوسرے فرد کا تعلق ہے ، تو میں نے دیکھا کہ اس پر بھلائی ڈالی جا رہی ہے ، تو میں ہنسنے لگا ، وہ شخص بعد میں بنی اسرائیل کے اکابرین ( یعنی بڑے عبادت گزاروں ) میں ایک شمار ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17608
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَتْ قَرْيَتَانِ : إِحْدَاهُمَا صَالِحَةٌ ، وَالْأُخْرَى ظَالِمَةٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْقَرْيَةِ الظَّالِمَةِ يُرِيدُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ ، فَأَتَاهُ الْمَوْتُ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ، فَاخْتَصَمَ فِيهِ الْمَلَكُ وَالشَّيْطَانُ ، فَقَالَ الشَّيْطَانُ : وَاللَّهِ ، مَا عَصَانِي قَطُّ ، فَقَالَ الْمَلَكُ : إِنَّهُ خَرَجَ يُرِيدُ التَّوْبَةَ ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا أَنْ يُنْظَرَ إِلَى أَيِّهِمَا أَقْرَبُ ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ بِشِبْرٍ ، فَغُفِرَ لَهُ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ : قَرَّبَ اللَّهُ إِلَيْهِ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الَّذِي أَمَرَ وَلَدَهُ : أَنْ يُحْرِقُوهُ إِذَا مَاتَ، فِي بَابِ مَنْ خَافَ مِنْ ذُنُوبِهِ ، فِي أَوَائِلِ كِتَابِ التَّوْبَةِ ، وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ عَجِيبَةٌ فِي أَبْوَابِ الشَّفَاعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” دو بستیاں تھیں ، ان میں سے ایک نیک تھی اور دوسری ظالم تھی ، ایک شخص نیک بستی کی طرف جانے کے ارادے کے ساتھ ظالم بستی سے نکلا ، جہاں اللہ کو منظور تھا ، وہاں اُسے موت نے آ لیا ، اس کے بارے میں فرشتے اور شیطان کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، شیطان نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے کبھی میری نافرمانی نہیں کی ، فرشتے نے کہا: لیکن یہ توبہ کے ارادے سے نکلا تھا ، تو ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا گیا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب تھا ؟ تو فرشتوں نے یہ بات پائی کے وہ نیک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا ، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی ۔ “ معمر بیان کرتے ہیں : میں نے کسی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی کے قریب کر دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے وہ حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : ” ایک شخص نے اپنی اولاد کو یہ تلقین کی تھی کہ جب وہ مر جائے تو وہ اولاد اسے جلا دے ۔ “ یہ کتاب التوبہ کے آغاز میں ، اس باب میں ذکر ہوئی ہے ، باب : جو شخص اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہو ۔ اس روایت کا ایک اور عجیب طریق شفاعت سے متعلق ابواب میں آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے وہ حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : ” ایک شخص نے اپنی اولاد کو یہ تلقین کی تھی کہ جب وہ مر جائے تو وہ اولاد اسے جلا دے ۔ “ یہ کتاب التوبہ کے آغاز میں ، اس باب میں ذکر ہوئی ہے ، باب : جو شخص اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہو ۔ اس روایت کا ایک اور عجیب طریق شفاعت سے متعلق ابواب میں آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔