کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
حدیث نمبر: 17611
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا خَلَقَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَخَلَقَ مَا يَغْلِبُهُ ، وَخَلَقَ رَحْمَتَهُ تَغْلِبُ غَضَبَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے ، تو اس نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے ، جو اس ( پہلی والی ) پر غالب آ جائے ، اس نے اپنی رحمت کو پیدا کیا ہے ، جو اس کے غضب پر غالب آ جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3255)»
حدیث نمبر: 17612
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، أَيُصَلِّي رَبُّكَ - جَلَّ ذِكْرُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : مَا صَلَاتُهُ ؟ قَالَ : سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا تمہارا پروردگار صلوۃ پڑھتا ہے ، اس کا ذکر جلیل القدر ہے ، اور اس کی بزرگی بلند و برتر ہے ، جبرائیل نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اس کی صلوٰۃ کیا ہے ؟ جبرائیل نے جواب دیا : ” ہر عیب سے پاک ہے ، پاکیزگی والا ہے ، میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (43) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (114)»
حدیث نمبر: 17613
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمُونَ قَدْرَ رَحْمَةِ اللَّهِ لَاتَّكَلْتُمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَلَيْهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مقدار کے بارے میں جان لو ، تو تم اس پر تکیہ کر لو ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3256)»
حدیث نمبر: 17614
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ عَقَلَهَا ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى رَاحِلَتَهُ ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا ، ثُمَّ رَكِبَهَا ثُمَّ نَادَى : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، لَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " لَقَدْ حَظَرْتَ ، رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ، إِنِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلَائِقُ : جِنُّهَا ، وَإِنْسُهَا ، وَبَهَائِمُهَا ، وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ؟ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي أُبَيٍّ عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا ، اس نے اپنی سواری کو بٹھایا ، پھر اسے باندھ دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو وہ شخص اپنی سواری کے پاس آیا اس کی بندش کو کھولا اس پر سوار ہوا ، اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا: اے اللہ ! تو مجھ پر اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحم فرما اور ہم پر رحم کرنے میں ، کسی کو شریک نہ کرنا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟ کیا تم نے سنا نہیں ؟ جو اس نے کہا: ہے ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہم نے اس کی بات سنی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے بنائے ہیں اور ان میں سے ایک حصہ نازل کیا ہے ، جس کی وجہ سے مخلوق ، یعنی جنات ، انسان ، جانور وغیرہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور رحمت کے ننانوے حصے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ، تو تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟ “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1667) اخرجه احمد فى المسند (312/4)»
حدیث نمبر: 17615
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ : بَلَغَنِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِائَةَ رَحْمَةٍ ، وَإِنَّهُ قَسَّمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ ، وَادَّخَرَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكْمِلُهَا مَائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ، جن میں سے ایک رحمت ، اُس نے اہل زمین کے درمیان تقسیم کی ہے ، اور وہ ان سب کے لئے کفایت کر گئی ہے ، اور رحمت کے 99 حصے اس نے اپنے پاس سنبھال کے رکھے ہیں ، جو اس نے اپنے دوستوں پر رحمت کے لئے رکھے ہیں رحمت کا جو ایک حصہ اس نے اہل زمین کے درمیان تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے لے کر اپنے پاس موجود 99 حصوں کے ساتھ ملائے گا اور ایک سو حصے مکمل کر لے گا ، اور یہ قیامت کے دن اُس کے دوستوں کے لئے ہوں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (514/2)»
حدیث نمبر: 17616
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (514/2)»
حدیث نمبر: 17617
وَرَوَى عَنْ خِلَاسٍ قَالَ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
خلاس کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (514/2)»
حدیث نمبر: 17618
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ مِثْلَهُ . ¤ وَرِجَالُ الْمُرْسَلَاتِ ، وَمُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔ ” مرسل “ روایات کے رجال اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ” مسند “ روایت کے رجال ، یہ سب ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (514/2)»
حدیث نمبر: 17619
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَرَحْمَةٌ بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا ، وَادَّخَرَ لِأَوْلِيَائِهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے بنائے ہیں ، ان میں سے ایک حصہ ، اس کی مخلوق کے درمیان ہے ، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور 99 حصے اُس نے اپنے دوستوں کے لئے سنبھال کے رکھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مخیس بن تمیم ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (417/19)»
حدیث نمبر: 17620
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَسَّمَ رَبُّنَا رَحْمَتَهُ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهَا جُزْءًا فِي الْأَرْضِ ، فَهُوَ الَّذِي يَتَرَاحَمُ بِهِ النَّاسُ ، وَالطَّيْرُ ، وَالْبَهَائِمُ ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ مِائَةُ رَحْمَةٍ إِلَّا رَحْمَةً وَاحِدَةً لِعِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ غَيْرُ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے پروردگار نے رحمت کے 100 اجزاء کیے ہیں ، اُن میں سے ایک جزء زمین میں نازل کیا ہے ، اور اسی ایک جزء کی وجہ سے لوگ اور پرندے اور جانور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، رحمت کے بقیہ 99 حصے پروردگار کے پاس ہیں ، جو قیامت کے دن اس کے بندوں کے لئے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے ، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اسحاق کے علاوہ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17621
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، رَحْمَةٌ مِنْهَا قَسَمَهَا بَيْنَ الْخَلَائِقِ ، وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے کیے ہیں ، ان میں سے ایک حصہ مخلوق کے درمیان تقسیم کیا ہے ، اور ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3475) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10047)»
حدیث نمبر: 17622
وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالشَّامِ فَقَالَ لِي : أَنْتَ الْفَرَزْدَقُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَنْتَ الشَّاعِرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَمَّا إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ لَقِيتَ قَوْمًا يَقُولُونَ : لَا تَوْبَةَ لَكَ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَقْطَعَ رَجَاءَكَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
فرزدق بن غالب بیان کرتے ہیں : شام میں ، میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم فرزدق ہو ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : تم شاعر ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : اگر تم زندہ رہ گئے ، تو تمہارا سامنا ایسے لوگوں سے ہو گا ، جو یہ کہیں گے : تمہارے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، لیکن تم اس بات سے بچ کے رہنا کہ اللہ کی رحمت سے ، تمہاری امید منقطع ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (610)»