کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مسلمانوں میں سے ، جس کی عمر طویل ہو ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 17545
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو تمہارے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن کی عمریں طویل ہوں ، اور اعمال اچھے ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 17546
وَفِي رِوَايَةٍ : " أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا " . بَدَلَ : " أَعْمَالًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں : ” اچھے اعمال “ کی جگہ یہ الفاظ ہیں : ” جن کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17547
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، إِذَا سَدَّدُوا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ ٹھیک رہیں ( یعنی نیکی پر عمل کرتے رہیں اور برائی سے بچتے رہیں ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17548
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ " . قَالَ : فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ ، وَسَاءَ عَمَلُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس کی عمر طویل ہو اور اس کا عمل اچھا ہو ، اس نے دریافت کیا : لوگوں میں کون شخص زیادہ برا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی عمر طویل ہو ، اور اس کا عمل برا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17549
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَأَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ : " أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17550
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا فِي الْإِسْلَامِ إِذَا سَدَّدُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جن کی عمریں اسلام میں طویل ہوں اور وہ ٹھیک راہ پر ہوں ( یعنی وہ نیکیاں کرتے رہیں اور برائیوں سے بچتے رہیں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17551
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يَضِنُّ بِهِمْ عَنِ الْفَنَاءِ ، وَيُطِيلُ أَعْمَارَهُمْ فِي حُسْنِ الْعَمَلِ ، وَيُحَسِّنُ أَرْزَاقَهُمْ ، وَيُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ ، وَيَقْبِضُ أَرْوَاحَهُمْ فِي عَافِيَةٍ عَلَى الْفُرُشِ ، وَيُعْطِيهِمْ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ الْوَرَّاقُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ موت نہیں دینا چاہتا ، اللہ تعالیٰ اچھے عمل میں ، اُن کی عمریں طویل کرتا ہے اور انہیں عمدہ رزق عطا فرماتا ہے ، اور عافیت والی زندگی عطا کرتا ہے ، اور عافیت کی حالت میں بستر پر ان کی روح قبض کرتا ہے ، اور انہیں شہداء کا مقام عطا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد واسطی وراق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد واسطی وراق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17552
وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ : قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ : يَا طَاعُونُ ، خُذْنِي إِلَيْكَ ، فَقَالُوا : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلَّمَا طَالَ عُمْرُ الْمُسْلِمِ كَانَ لَهُ خَيْرًا ؟ " . قَالَ : بَلَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے ! لوگوں نے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” مسلمان کی عمر جتنی بھی لمبی ہو ، یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا ہے “ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17553
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلِيٍّ - حَيٍّ مِنْ قُضَاعَةَ - أَسْلَمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا ، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً ، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : فَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الشَّهِيدِ ، فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ ، فَأَصْبَحْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ ، وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ سُنَّةٍ ؟ " . قُلْتُ : هَذَا مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ كَمَا تَرَاهُ ، إِنَّمَا لِطَلْحَةَ فِيهِ رُؤْيَةُ الْمَنَامِ ، وَلِطَلْحَةَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قضاعہ قبیلے کی ایک شاخ ” بلی “ سے تعلق رکھنے والے دو افراد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر مسلمان ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے جام شہادت نوش کر لیا اور دوسرا فرد اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا ، پھر ( اس کا بھی انتقال ہو گیا ) سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں ، جنت کو دیکھا کہ ان دونوں میں سے جس شخص کا انتقال بعد میں ہوا تھا اسے شہید سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا ، میں اس بات پر حیران ہوا ، اگلے دن صبح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا اس ( بعد میں انتقال کرنے والے فرد ) نے اُس ( پہلے شہید ہو جانے والے فرد ) کے بعد رمضان کے روزے نہیں رکھے ، اور چھ ہزار رکعات ادا نہیں کیں ، اور اتنی اتنی سنت رکعات ادا نہیں کیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا ۔ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا ۔ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17554
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَكْفِينِيهِمْ ؟ " . قَالَ طَلْحَةُ : أَنَا ، قَالَ : فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا ، فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا آخَرَ فَخَرَجَ فِيهِ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ . قَالَ طَلْحَةُ : فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ . قَالَ : فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ ، وَتَكْبِيرِهِ ، وَتَهْلِيلِهِ " . قُلْتُ : لِطَلْحَةَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي التَّعْبِيرِ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ فَوَصَلَ بَعْضَهُ ، وَأَرْسَلَ أَوَّلَهُ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ فَقَالَا : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَلْحَةَ ، فَوَصَلَاهُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون شخص ان کے بارے میں میری کفایت کرے گا ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں وہ لوگ سیدنا طلحہ کے ہاں ٹھہر گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، ان میں سے ایک شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے جام شہادت نوش کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جنگی مہم روانہ کی ، تو ان میں سے دوسرا شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے بھی جام شہادت نوش کر لیا ، ان میں سے تیسرا فرد بستر مرگ پر فوت ہوا ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان تینوں افراد کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں میرے پاس موجود ہیں ، میں نے دیکھا کہ جو شخص بستر مرگ پر فوت ہوا تھا ، وہ اُن سے آگے ہے اور اس کے بعد اس شخص کا مرتبہ ہے ، جو بعد میں شہید ہوا تھا ، اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا ، اس کا مرتبہ سب سے بعد میں تھا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس حوالے سے الجھن کا شکار ہوا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں اس پر کس حوالے سے حیرانگی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی فرد ، اس مؤمن سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ، جسے مسلمان ہونے کے عالم میں زندگی دی گئی ہو ، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی ، اس کی کبریائی اور اس کی معبودیت بیان کرے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے ” کتاب التعبیر “ میں نقل کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے کچھ حصے کو ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے ابتدائی حصے کو ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، ان دونوں کا یہ کہنا ہے ، یہ عبداللہ بن شداد کے حوالے سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو ان دونوں نے اسے اس کی مانند موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ان کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے کچھ حصے کو ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے ابتدائی حصے کو ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، ان دونوں کا یہ کہنا ہے ، یہ عبداللہ بن شداد کے حوالے سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو ان دونوں نے اسے اس کی مانند موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ان کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17555
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ : " الْمَوْلُودُ حَتَّى يَبْلُغَ الْحِنْثَ مَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ كُتِبَتْ لِوَالِدِهِ - أَوْ لِوَالِدَيْهِ - وَمَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ وَلَا عَلَى وَالِدَيْهِ ، فَإِذَا بَلَغَ الْحِنْثَ جَرَى عَلَيْهِ الْقَلَمُ ، أُمِرَ الْمَلَكَانِ اللَّذَانِ مَعَهُ أَنْ يَحْفَظَا ، وَأَنْ يُشَدِّدَا ، فَإِذَا بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَمَّنَهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَايَا الثَّلَاثَةِ : الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، فَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ خَفَّفَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ ، فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَاتِهِ ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَشَفَّعَهُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ أَرْذَلَ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي صِحَّتِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، فَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ جب تک بالغ نہیں ہو جاتا ، وہ جو بھی اچھائی کرتا ہے ، اس کا اجر اس کے باپ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اس کے ماں باپ کے لیے نوٹ کیا جاتا ہے ، اور بچہ جو بھی برائی کرتا ہے ، وہ برائی نہ اُس بچے کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، نہ اس کے ماں باپ کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، جب وہ بچہ بالغ ہو جاتا ہے ، تو اس پر قلم کے احکام جاری ہوتے ہیں ، اور اس کے ساتھ موجود محافظ فرشتوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ حفاظت کریں اور سختی سے کام لیں ، پھر جب وہ فرد مسلمان ہونے کے عالم میں چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے تین قسم کی آزمائشوں سے محفوظ کر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع نصیب کرتا ہے ، جیسے وہ پسند کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، جب وہ اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں نوٹ کرواتا ہے اور اس کی برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اسے اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت نصیب کرتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہوتا ہے ، اور جب وہ رذیل ترین عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تاکہ وہ علم ہو جانے کے بعد لاعلم ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی مانند اجر و ثواب نوٹ کرتا ہے ، جو بھلائی کا عمل وہ تندرستی کے زمانے میں کیا کرتا تھا ، لیکن وہ جو برائی کرتا تھا ، اس کو نوٹ نہیں کیا جاتا ۔ “
حدیث نمبر: 17556
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ : " فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس مسلمان کو اسلام میں ( یعنی مسلمان ہونے کے عالم میں ) عمر عطا کی جائے ( اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ) جب وہ اسلام میں ستر سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے ، اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 17557
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ اسلام میں ستر سال کا ہو جائے تو آسمان والے اور زمین والے اُس سے محبت کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 17558
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَى اللَّهِ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ ، فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، وَشُفِّعَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ " . رَوَاهَا كُلَّهَا أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ 60 سال کا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی پسند کے مطابق اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا نصیب کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ اللہ کی زمین میں اللہ کا قیدی ہوتا ہے ، اور اس کے اہل خانہ کے بارے میں اس کی شفاعت قبول ہو گی ۔ “ یہ تمام روایات امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 17559
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَابَةً يُحِبُّهُ عَلَيْهَا " . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے رجوع نصیب کرتا ہے اور اس وجہ سے اس ( بندے ) سے محبت کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17560
وَرَوَى بَعْدَهُ بِسَنَدِهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مِثْلَهُ . وَرِجَالُ إِسْنَادِ ابْنِ عُمَرَ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ كَثِيرٍ ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ، وَفِي الْآخَرِ يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ جِدًّا . وَفِي الْآخَرِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ هَذِهِ الطَّرِيقِ ثِقَاتٌ . وَفِي إِسْنَادِ أَنَسٍ الْمَوْقُوفِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
اس کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ، سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی روایت کی سند کے رجال میں سے ، بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک میں ایک راوی یاسین زیات ہے ، ایک سند میں ایک راوی یوسف بن ابوذرہ ہے ، اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ، ایک سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اس طریق کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ” موقوف “ روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17561
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَرْبَعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْوَاعًا مِنَ الْبَلَايَا : الْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ : كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ أَنْوَاعًا مِنَ الْبَلَاءِ وَالْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ وَحَنْقَ الشَّيْطَانِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ خَمْسِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس کو اللہ تعالیٰ اسلام میں ، چالیس سال کی زندگی دیدے ( یعنی جو مسلمان ہونے کے عالم میں 40 سال کا ہو جائے ) اللہ تعالیٰ اس سے مختلف قسم کی آزمائشوں کو پھیر دیتا ہے ، جیسے جذام اور برص ۔ ( یہاں عبدالملک نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) اللہ تعالیٰ اس سے مختلف قسم کی آزمائشوں کو روک دیتا ہے جسے جذام اور برص اور شیطان کا غضب ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 50 سال کی زندگی دیدے ، اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا ۔ “
حدیث نمبر: 17562
وَفِي رِوَايَةٍ : " هَوَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ ، وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ : " رَزَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى حُسْنَ الْإِنَابَةِ إِلَيْهِ " وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سَبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ ثَمَانِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ مَحَا اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ ، وَكَتَبَ حَسَنَاتِهِ " . ¤ قَالَ أَنَسٌ فِي حَدِيثِهِ : " كَتَبَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ ، وَلَمْ يَكْتُبْ سَيِّئَاتِهِ ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ تِسْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ : " وَشُفِّعَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کے لیے حساب کو آسان کر دے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 60 سال کی زندگی دیدے ، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز کی طرف رجوع کی توفیق نصیب کرے گا ، جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ۔ ( یہاں ابوضمرہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف اچھے طریقے سے رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرے گا ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں ستر سال کی زندگی عطا کر دے ، آسمان والے اور زمین والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 80 سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کی نیکیوں کو نوٹ کر لے گا ۔ “ ( انس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ” اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو نوٹ کرے گا اور اس کی برائیوں کو نوٹ نہیں کرے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں نوے سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا اسیر ہو گا ، اور قیامت کے دن اپنے اہل خانہ کی شفاعت کرنے والا ہو گا ۔ “ ( انس بن عیاض نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ” قیامت کے دن اس کے اہل خانہ کے بارے میں ، اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17563
وَعَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ إِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً خَفَّفَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ ، وَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ ، وَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا بَلَغَ ثَمَانِينَ سَنَةً ثَبَّتَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ ، وَمَحَا سَيِّئَاتِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ سَنَةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَشَفَّعَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَكُتِبَ فِي السَّمَاءِ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَزْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان بندہ ، جب پچاس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو ہلکا کر دیتا ہے ( شاید یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کا کام کرنا آسان کر دیتا ہے ) اور جب وہ 60 سال کی عمر تک پہنچتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا کرتا ہے ، اور جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے ، تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسّی سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو برقرار رکھتا ہے ، اور اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے ، اور جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے اہل خانہ کے بارے میں اس کی شفاعت کو قبول کرتا ہے ، اور اس کے لئے آسمان میں یہ نوٹ کر لیا جاتا ہے : یہ زمین میں اللہ کا قیدی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ازدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ازدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17564
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا بَلَغَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ خَمْسِينَ سَنَةً صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ : الْجُنُونَ ، وَالْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً مُحِيَتْ سَيِّئَاتُهُ ، وَكُتِبَتْ حَسَنَاتُهُ ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ سَنَةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذَنْبَهُ ، مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ سِبْطَ ابْنِ سَعْدٍ الْقَرَظِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ كَمَا قَالَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مسلمان شخص پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی آزمائشیں پھیر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے ، تو اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ کا قیدی ہوتا ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی ، سیدنا عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اگر محمد بن عمار انصاری ، سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہو ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ، جیسا کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی ، سیدنا عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اگر محمد بن عمار انصاری ، سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہو ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ، جیسا کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17565
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا بَلَغَ الْعَبْدُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ وَأَبْلَغَ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندہ ساٹھ سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے عمر کے بارے میں عذر فراہم کر دیا اور اسے بھرپور عمر عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔