کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مومن کی عمر طویل ہونے اور اس کے موت کی آرزو کرنے کی ممانعت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17541
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ ، وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تَمَنَّ الْمَوْتَ ، إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرًا لَكَ ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا اسْتَغْنَيْتَ خَيْرًا لَكَ ، لَا تَمَنَّ الْمَوْتَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جو بیمار تھے ، انہوں نے موت کی آرزو کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سیدنا عباس ! اے اللہ کے رسول کے چچا ! آپ موت کی آرزو نہ کریں ، کیونکہ اگر آپ اچھائی کرنے والے ہوں گے ( تو طویل عمر ہونے کی صورت میں ) آپ کی اچھائیوں میں مزید اضافہ ہو گا ، اور یہ آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ برائی کرنے والے ہوں گے ، تو آپ کو مہلت دیدی جائے اور آپ رجوع ( یعنی توبہ ) کر لیں ، تو یہ آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ، تو آپ موت کی آرزو ہرگز نہ کریں ۔
حدیث نمبر: 17542
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنْ كُنْتَ مُسِيئًا ; فَإِنْ تُؤَخِّرْ تُسْتَعْتَبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ; فَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْقُرَشِيَّةُ أَوِ الْفِرَاسِيَّةُ فَقَدِ احْتُجَّ بِهَا فِي الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَتِ الْخَثْعَمِيَّةَ فَلَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر آپ برائی کرنے والے ہوں ، آپ کو مہلت دے دی جائے ، اور آپ اپنی برائی سے رجوع کر لیں ، تو یہ آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہند بنت حارث نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اگر تو یہ ” قریشیہ “ یا ” فراسیہ “ ہے ، تو ” صحیح “ میں اس سے استدلال کیا گیا ہے ، اور اگر یہ ” خثعمیہ “ ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہند بنت حارث نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اگر تو یہ ” قریشیہ “ یا ” فراسیہ “ ہے ، تو ” صحیح “ میں اس سے استدلال کیا گیا ہے ، اور اگر یہ ” خثعمیہ “ ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17543
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُمَنَّوُا الْمَوْتَ ; فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ ، وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْإِنَابَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” موت کی آرزو نہ کرو ، کیونکہ مطلع ( شاید اس سے مراد ، مرنے کے بعد والی زندگی ہے ، یا قیامت مراد ہے ) کی ہولناکی شدید ہے ، اور سعادت مندی میں یہ بات شامل ہے کہ بندے کی عمر طویل ہو ، اور اللہ تعالیٰ اسے رجوع ( یعنی توبہ کی توفیق ) نصیب کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17544
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا وَرَقَقْنَا ، فَبَكَى سَعْدٌ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ، فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي مُتُّ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَعْدُ ، أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ ؟ " . فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا سَعْدُ ، إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ ، وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَإِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلنَّارِ ، فَبِئْسَ الشَّيْءُ تَتَعَجَّلُ إِلَيْهِ " . ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی ، دلوں کو نرم کرنے والی باتیں بیان کیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت روئے ، انہوں نے کہا: اے کاش ! میں مر چکا ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! کیا تم میری موجودگی میں موت کی آرزو کر رہے ہو ؟ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے سعد ! اگر تم جنت کے لیے پیدا ہوئے ہو ، تو تمہاری عمر جتنی بھی طویل ہو گی ، تمہارا عمل جتنا بھی اچھا ہو گا ، وہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔ “ یہی روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور اگر تم جہنم کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو وہ ایک بری چیز ہے ، جس کی طرف تم جلدی چلے جاؤ گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔