حدیث نمبر: 17499
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ شِبْرًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَتَاهُ يَمْشِي أَتَاهُ يُهَرْوِلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ” ذراع “ قریب ہوتا ہے ، اور جو شخص ایک ” ذراع “ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ” باع “ قریب ہوتا ہے ، جو شخص چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اُس کی طرف جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17500
وَعَنْ شُرَيْحٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا ابْنَ آدَمَ ، قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ ، وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلُ إِلَيْكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
شریح بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، ایک صاحب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم میرے لیے کھڑے ہو جاؤ ، میں چل کر تمہاری طرف آؤں گا ، تم میری طرف چل کر آؤ ، میں دوڑ کر تمہاری طرف آؤں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریح بن حارث کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریح بن حارث کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17501
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شِبْرًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَقْبَلَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَاشِيًا أَقْبَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ مُهَرْوِلًا ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن نعیم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ” فسطاط “ میں منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ ایک ” ذراع “ اس کے قریب ہوتا ہے ، اور جو شخص ایک ” ذراع “ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ ایک ” باع “ اُس کے قریب ہوتا ہے ، اور جو شخص چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے ، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے ، اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے ، اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17502
وَعَنْ سَلْمَانَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ نَافِعٍ الْأُرْسُوقِيِّ ، وَالسَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مرفوع روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ” ذراع “ اُس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ” ذراع “ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ” باع “ اُس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔