حدیث نمبر: 17487
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ ذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ ، قَالَ : فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغَفَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید کا قائل تھا ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے جلا دینا اور مجھے کوئلہ بنا دینا ، پھر مجھے پیس دینا اور پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو اس دن مجھے دریا میں بہا دینا ، اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت کیا : تم نے جو کیا تھا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “
حدیث نمبر: 17488
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِسْنَادُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17489
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ : إِنْ فَعَلْتُمْ مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ ، أَوْرَثْتُكُمْ مَالًا كَثِيرًا ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : إِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ فَارْتَقُوا فَوْقَ قُلَّةِ جَبَلٍ فَذَرُونِي ; فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ قَدَرَ عَلِيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي ، فَفُعِلَ ذَلِكَ بِهِ ، فَاجْتَمَعَ فِي يَدَيِ اللَّهِ فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَاذْهَبْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص تھا ، جس کے پاس بہت سا مال تھا ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: میں تمہیں ، جو حکم دوں گا ، اگر تم ویسا کرو گے تو میں تمہیں بہت سا مال دوں گا ، اہل خانہ نے کہا: ٹھیک ہے ، اس نے کہا: جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے جلا دینا پھر تم مجھے پیس دینا ، پھر جب ہوا چل رہی ہو ، تو تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جانا اور مجھے اُڑا دینا ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تنگی کا شکار کیا ، تو وہ میری مغفرت نہیں کرے گا ، اس کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، پھر اس کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، تو پروردگار نے فرمایا : تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 17490
وَفِي رِوَايَةٍ : وَكَانَ الرَّجُلُ نَبَّاشًا فَغُفِرَ لَهُ لِخَوْفِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِسَنَدَيْنِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک شخص کفن چور تھا ، تو اس کے خوف کی وجہ سے اس کی مغفرت ہو گئی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17491
قَالَ فِي آخِرِهِ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَقَعَ فِي يَدِ اللَّهِ فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ؟ قَالَ : مَخَافَتُكَ ، قَالَ : قَدْ غَفَرْتُ لَكَ " . وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرَوَى بَعْضَهُ مَرْفُوعًا أَيْضًا بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الزَّعْرَاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوا ، اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا : تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہاری مغفرت کر دی ۔ “ اس روایت کی سند منقطع ہے ۔ انہوں نے اس روایت کا کچھ حصہ متصل سند کے ساتھ مرفوع روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17492
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ : انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ أَنْ يَحْرِقُوهُ حَتَّى يَدْعُوَهُ حُمَمًا ، ثُمَّ اطْحَنُوهُ ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمٍ رَاحَ ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَخَافَتُكَ ، قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ بِهَا ، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ " . قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " إِلَّا التَّوْحِيدَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ سَنَدِ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي سَنَدِ ابْنِ سِيرِينَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، حسن بصری اور ابن سیرین نے بھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا ، البتہ وہ توحید کا قائل تھا ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: ہم اس بات کا خیال رکھنا کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم لوگ مجھے جلا دینا ، یہاں تک کہ کوئلہ بنا دینا ، پھر مجھے پیسں دینا اور پھر ہوا والے دن میں مجھے اُڑا دیا ، جب وہ شخص مر گیا تو گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پروردگار نے فرمایا : میں نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “ حالانکہ اس شخص نے توحید کے علاوہ کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” توحید کے علاوہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جبکہ ابن سیرین کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17493
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، أَعْطَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَالًا وَوَلَدًا ، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا ، فَبَقِيَ حَتَّى ذَهَبَ عُمْرٌ ، وَبَقِيَ عُمْرٌ يُذْكَرُ ، فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا ، دَعَا بَنِيهِ فَقَالَ : يَا بَنِيَّ ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونِي ؟ قَالُوا : خَيْرَهُ يَا أَبَانَا ، قَالَ : وَاللَّهِ ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا قَالَ : أَمَا لَا فَإِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَذُرُّونِي " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ : " اسْحَقُونِي ، ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الرِّيحِ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ : " فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ يَا رَبَّاهُ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسْمَعُكَ كَرَاهِيَةً " ، قَالَ يَزِيدُ : " أَسْمَعُكَ رَاهِبًا ، فَتِيبَ عَلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد عطا کئے ہوئے تھے ، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کوئی کام نہیں کرتا تھا ، وہ اسی طرح کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس کی عمر رخصت ہو گئی ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اسے یہ خیال آیا کہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھلائی پیش ہی نہیں کی ہے ، اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور بولا: اے میرے بیٹو ! تم مجھے کیسا باپ جانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ ہمارے بہترین باپ ہیں ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! تم میں سے جس کے پاس بھی میرا جو مال ہے ، وہ میں تم سے واپس لے لوں گا ، یا پھر یہ ہے کہ تم نے وہ کرنا ہے جو میں تمہیں حکم دوں گا ، پھر اس نے ان بچوں سے پختہ عہد لیا اور یہ کہا: میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے آگ میں ڈال دینا ، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو تم مجھے اُڑا دینا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنے زانوں پر رکھ کر یہ فرمایا : تم مجھے پیس دینا اور اُڑا دینا ، تاکہ میں اللہ تعالیٰ سے بچ سکوں ، اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، رب محمد کی قسم ہے ! جب وہ مر گیا ، تو اسے پہلے سے زیادہ اچھی شکل و صورت ( شاید اچھی جسمانی حالت مراد ہے ) میں لایا گیا ، اور اس کے پروردگار کے سامنے پیش کیا گیا ، تو پروردگار نے دریافت کیا : تم آگ میں کیوں گئے ؟ اس نے جواب دیا : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، پروردگار نے فرمایا : میں نے سنا کہ تم اس بات کو ناپسند کرتے ہو ۔ ( یہاں یزید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) میں نے تمہیں سنا کہ تم بچنا چاہتے تھے ، تو اس کی توبہ قبول کر لی گئی ۔ “
حدیث نمبر: 17494
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : مِنْ مَخَافَتِكَ ، قَالَ : فَتَلَقَّاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پروردگار نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو کیا ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پروردگار نے اُس ( یعنی مغفرت ) کے ہمراہ اُس سے ملاقات کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17495
وَعَنْ سَلْمَانَ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوُ حَدِيثٍ قَبْلَهُ وَمَتْنِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي فَذَرُونِي ; فَإِنَّ رَبِّي إِنْ قَدِرَ عَلِيَّ يُعَذِّبْنِي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ ، فَجُمِعَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ : مَا حَمْلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : خَشْيَتُكَ أَيْ رَبِّ ، فَغُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ نَافِعٍ الْأُرْسُوقِيِّ ، وَالسَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، فَأَحَالَهُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ الَّذِي فِي الصَّحِيحِ ، قَالَ مَثَلَهُ وَلَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں ، جو اس سے پہلے گزری ہے ، تاہم ان کے متن کے الفاظ یہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا ، اسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد میں کشادگی عطا کی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے یہ کہا: کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے جلا دینا اور جب میں کوئلہ بن جاؤں ، تو تم مجھے پیس کر مجھے اُڑا دینا ، کیونکہ اگر میرے پروردگار نے مجھ پر ق ابوپا لیا ، تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ ویسا عذاب وہ تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا ، اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو اس کے وجود کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، اے میرے پروردگار ! تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کی نسبت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ اس حدیث کی طرف کر دی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ کہا: ہے : یہ اس کی مانند ہے ، انہوں نے اس کا متن نقل نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن نافع ارسوقی اور سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کی نسبت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ اس حدیث کی طرف کر دی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ کہا: ہے : یہ اس کی مانند ہے ، انہوں نے اس کا متن نقل نہیں کیا ۔