حدیث نمبر: 17496
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَجْعَلْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا ; فَإِنْ أَصْبَحَ ذَهَبًا اتَّبَعْنَاكَ ، فَدَعَا رَبَّهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا ، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ ، قَالَ : " بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے یہ دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے ، اگر وہ سونے کا بن گیا ، تو ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے دعا کی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے : اگر آپ چاہیں ، تو صفا پہاڑ ان کے لیے سونے کا بن جائے گا ، لیکن اس کے بعد ان میں سے جس شخص نے کفر کیا ، میں اسے ایسا عذاب دوں گا ، جو میں نے تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہو گا ، اور اگر آپ چاہیں ، تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : توبہ اور رحمت کے دروازے ( کو میں اختیار کرتا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12736)»
حدیث نمبر: 17497
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ سِنِينَ ] ( وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ) ، ثُمَّ نَزَلَتْ : إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرِحَ فَرَحًا قَطُّ أَشَدَّ فَرَحًا مِنْهُ بِهَا ، وَبِـ : ( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ چند سال تک اس آیت کی تلاوت کرتے رہے : ” اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں اور وہ اس جان کو قتل نہیں کرتے ہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ زنا نہیں کرتے ہیں ۔ “ پھر یہ آیت نازل ہو گئی : ” البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی بات پر اتنا زیادہ خوش نہیں دیکھا ، جتنا آپ اس آیت کے نزول پر اور اس ( آگے والی آیت کے نزول پر ) خوش ہوئے تھے : ” بے شک ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔