حدیث نمبر: 17481
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزِلُوا عِبَادِيَ الْعَارِفِينَ ، الْمُوَحِّدِينَ ، الْمُذْنِبِينَ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُنْزِلُهُمْ بِعِلْمِي فِيهِمْ ، وَلَا تَكَلَّفُوا مِنْ ذَلِكَ مَا لَمْ تُكَلَّفُوا ، وَلَا تُحَاسِبُوا الْعِبَادَ دُونَ رَبِّهِمْ - عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) تم لوگ میرے ان بندوں کو جو عارف ہیں ، توحید کے قائل ہیں اور گناہگار ہیں ، انہیں جنت یا جہنم میں نہ ٹھہراؤ ! یہاں تک کہ میں اُن کے بارے میں اپنے علم کے مطابق انہیں ٹھہراؤں گا ، اور تم اس حوالے سے اس چیز کا خود کو پابند نہ بناؤ ، جس کا تمہیں مکلف نہیں کیا گیا ہے ، اور لوگوں کے پروردگار کو چھوڑ کر اُن لوگوں کو محاسبہ نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17482
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتِ الْمُوجِبَاتُ مِثْلَ قَوْلِهِ : ( إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا ) ، وَمِثْلَ قَوْلِهِ : ( الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا ) ، وَمِثْلَ قَوْلِهِ : ( وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ) ، قَالَ : كُنَّا نَشْهَدُ عَلَى مَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا أَنَّهُ فِي النَّارِ ، فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ ) كَفَفْنَا عَنِ الشَّهَادَةِ ، وَخِفْنَا عَلَيْهِمْ بِمَا أَوْجَبَهُ اللَّهُ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عِصْمَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب واجب کرنے والی آیات نازل ہوئیں ، جیسے یہ آیت ہے : ” بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے طور پر کھاتے ہیں ۔ “ یا یہ آیت ہے : ” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ۔ “ یا یہ آیت ہے : ” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے گا تو اس کا بدلہ جہنم ہو گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ گواہی دیا کرتے تھے کہ جو شخص ان میں سے کسی کام کا ارتکاب کر لے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو اس کے بعد ہم گواہی دینے سے رک گئے اور ہم ان لوگوں کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو گئے اس چیز کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے واجب قرار دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعصمہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعصمہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17483
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ : إِنَّهُ فِي النَّارِ ، وَنَقُولُ لِمَنْ أَصَابَ كَبِيرَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَيْهَا : إِنَّهُ فِي النَّارِ ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) فَلَمْ نُوجِبْ لَهُمْ ، كُنَّا نَرْجُو لَهُمْ وَنَخَافُ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ بُرَيْدَةَ السَّيَّارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم مومن کو قتل کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کہا: کرتے تھے کہ جب وہ مر جائے گا تو جہنم میں جائے گا اور جو شخص کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو اور پھر وہ اسی حال میں مر جائے ، اس کے بارے میں ہم یہ کہتے تھے کہ وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم ان لوگوں کے لئے کوئی چیز واجب نہیں کرتے تھے اور ہم ان کے لیے امید رکھتے تھے اور ان کے بارے میں اندیشے کا بھی شکار تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مغیرہ ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، انہوں نے اس کو ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں ایک راوی عمر بن بریدہ سیاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے حوالے سے
یہ روایت مسلم بن خالد زنگی سے منقول ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مغیرہ ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، انہوں نے اس کو ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں ایک راوی عمر بن بریدہ سیاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے حوالے سے
یہ روایت مسلم بن خالد زنگی سے منقول ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17484
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا نُوجِبُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى نَزَلَتْ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) قَالَ : فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُوجِبَ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ النَّارَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : ” ہم کبیرہ گناہ کے مرتکبین افراد کے لئے ( یعنی جہنم ) واجب قرار دیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کر دیا کہ ہم توحید کے قائل افراد میں سے کسی ایک کے لئے جہنم کو واجب قرار دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء کلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء کلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17485
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُصَلِّي ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَوَطِئَ عَلَى رَقَبَتِهِ ، فَقَالَ الَّذِي تَحْتَهُ : وَاللَّهِ ، لَا يُغْفَرُ لَكَ أَبَدًا ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : تَأَلَّى عَلَيَّ عَبْدِي أَنْ لَا أَغْفِرَ لِعَبْدِي ; فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا ، ایک اور شخص اس کے پاس آیا ، اور اس نے اس کی گردن پر پاؤں رکھ دیا ، تو جو شخص پاؤں کے نیچے تھا اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ تعالی تمہاری کبھی مغفرت نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے میرے بارے میں یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں اپنے دوسرے بندے کی مغفرت نہیں کروں گا ؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17486
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَا تَعْجَلُوا بِمَدْحِ النَّاسِ وَلَا بِذَمِّهِمْ ; فَإِنَّكَ أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْ أَخِيكَ شَيْئًا الْيَوْمَ يُعْجِبُكَ لَعَلَّهُ أَنْ يَسُوءَكَ غَدًا ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُ الْيَوْمَ شَيْئًا يَسُوءُكَ لَعَلَّهُ يُعْجِبُكَ غَدًا ، وَإِنَّ النَّاسَ يَغْتَرُّونَ ، وَإِنَّمَا يَغْفِرُ اللَّهُ الذُّنُوبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ يَوْمَ يَلْقَاهُ مِنْ أُمِّ وَاحِدٍ فَرَشَتْ لَهُ بِأَرْضِ فَيْءٍ ثُمَّ لَمَسَتْ ، فَإِنْ كَانَتْ شَوْكَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي بَابِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ، یا اُن کی مذمت کرتے ہوئے جلدبازی سے کام نہ لو ! کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ آج تمہیں اپنے بھائی کی طرف سے کوئی ایسی چیز نظر آ رہی ہو ، جو تمہیں اچھی لگ رہی ہو ، اور یہ ہو سکتا ہے کہ کل وہ تمہیں بری لگے ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں آج اس کی طرف سے کوئی چیز بری لگ رہی ہو ، اور کل کو وہ اچھی لگنے لگے ، لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، جب بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہو گا ، جتنا کسی شخص کی ماں مہربان ہوتی ہے ، جو زمین پر اپنے بچے کے لیے بچھونا بچھاتی ہے ، اور پھر اس پر ہاتھ پھیر کر دیکھتی ہے کہ اگر اس میں کوئی کانٹا ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُس کے ہاتھ پہ لگ جائے ، اور اگر کوئی ڈنک مارنے والا جانور ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُسے ڈنک مار لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔