کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کی دعا کا بیان ، جسے کوئی پریشانی یا غم لاحق ہوتا ہے
حدیث نمبر: 17445
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَجًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَذَهَابَ غَمِّي " ، مَكَانَ : " هَمِّي " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو اور وہ یہ پڑھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَجًا» ” اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا فیصلہ نافذ ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں ہر اس اسم کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا اسم ہے ، اور جس کو تو نے اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو تعلیم دیا ہے ، یا جس کا تعلق اس علم غیب سے ہے ، جو تیرے پاس ہے ( میں ایسے ہر اسم کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میری غم کی جلا اور میری پریشانی کی رخصتی ( کا سبب ) بنا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کے غم کی جگہ اسے کشادگی نصیب کر دے گا ۔ “
لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جو شخص بھی ان کے بارے میں سنتا ہے ، اس کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” میری پریشانی “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میرے غم ۔ “ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے ، اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن