کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز کا بیان ، جو بندے سے مؤخر ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 17224
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ يَدْعُو اللَّهَ ، وَهُوَ يُحِبُّهُ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيلُ ، اقْضِ لِعَبْدِي هَذَا حَاجَتَهُ وَأَخِّرْهَا ; فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَدْعُو اللَّهَ ، وَهُوَ يُبْغِضُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيلُ ، اقْضِ لِعَبْدِي هَذَا حَاجَتَهُ وَعَجِّلْهَا ; فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور وہ اس سے محبت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرے اس بندے کی حاجت پوری کر دینا ، لیکن اسے مؤخر کرو ، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز سنوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اسی طرح کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرے اس بندے کی حاجت پوری کر دو ، اور اسے جلدی پورا کرنا ، کیونکہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز سنوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12011)»
حدیث نمبر: 17225
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَطْلُبُ الْحَاجَةَ فَيَزْوِيهَا اللَّهُ عَنْهُ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ ، فَيَتَّهِمُ النَّاسَ ظَالِمًا لَهُمْ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَسَعُنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ کوئی حاجت طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس ( حاجت ) کو اس بندے سے پھیر دیتا ہے ، کیونکہ ایسا کرنا اس بندے کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، اور پھر وہ لوگوں کے ساتھ ظلم کرتے ہوئے کہتا ہے : کون میرے کام آیا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوصباح ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً