کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دعا ( کی قبولیت کا اثر ظاہر ہونے ) کے بارے میں ، جلدی کرنے کا ناپسندیدہ ہونا
حدیث نمبر: 17200
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ ! قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ مسلسل بھلائی پر رہتا ہے ، جب تک وہ جلدبازی نہیں کرتا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! وہ کیسے جلدبازی کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ یہ کہتا ہے : میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی ، لیکن اس نے میری دعا قبول ہی نہیں کی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسبی ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسبی ہے ، وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17201
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدَعْوَةٍ إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهَا ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا ، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمِ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يُعَجِّلْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا اسْتِعْجَالُهُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ ( وَدَعَوْتُ ) فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِذًا نُكْثِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَكْثَرُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ اسْتِعْجَالِ الدُّعَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روئے زمین پر جو بھی مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ یا تو وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، یا اس کی مانند کوئی برائی اس سے روک لیتا ہے ، جبکہ اس شخص نے کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کی ہو ، اور جب تک وہ جلدبازی کا مظاہرہ نہ کرے ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کے جلدبازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ یہ کہے : میں نے دعا کی ، میں نے دعا کی لیکن وہ قبول ہی نہیں ہوئی ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تو ہمیں بکثرت ایسا ( یعنی دعا ) کرنا چاہیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( فضل و کرم کے حوالے سے ) سب سے زیادہ کثرت والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے دعا کے بارے میں جلدبازی والے حصے سے متعلق اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے دعا کے بارے میں جلدبازی والے حصے سے متعلق اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔