کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے ، وہ ایک زبردست پناہ حاصل کرتا ہے
حدیث نمبر: 17170
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ - قُلْتُ : صَوَابُهُ ابْنُ مَوْهَبٍ : أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اذْهَبْ قَاضِيًا ، قَالَ : أَوَتَعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ؟ ( قَالَ : اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ ) ، قَالَ : أَوَتَعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ؟ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ ، قَالَ : لَا تَعْجَلْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ " . ( قَالَ : نَعَمْ ) . قَالَ : إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا ، قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بَيْنَ النَّاسِ بِجَوْرٍ دَخَلَ النَّارَ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ أَنْ يَنْقَلِبَ كَفَافًا " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ ، رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ عُثْمَانَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن وہب بیان کرتے ہیں : ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ درست لفظ ” عبداللہ بن موہب “ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ قاضی کا عہدہ سنبھال لیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا آپ مجھے معاف نہیں رکھیں گے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جائیں اور لوگوں کے درمیان قاضی کے طور پر فیصلے دیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین ! کیا آپ مجھے معاف نہیں رکھیں گے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ آپ جائیں اور فیصلے کریں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جلدی نہ کریں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہے ، وہ زبردست پناہ حاصل کر لیتا ہے ۔ “ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کے لئے کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ جبکہ آپ کے والد قاضی کے طور پر فیصلے دیا کرتے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص قاضی ہو اور لوگوں کے درمیان ظلم کے مطابق فیصلہ دے ، تو وہ اہل جہنم میں سے ہو گا ، اور جو شخص قاضی ہو اور جاہل ہونے کے طور پر فیصلہ دے ، تو وہ اہل جہنم میں سے ہو گا ، اور جو قاضی ہو اور عالم بھی ہو ، اور حق کے مطابق ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) عدل کے مطابق فیصلہ دے ، تو وہ یہ درخواست کرے گا کہ اُسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ عبداللہ بن موہب کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے اس کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف