کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مجلس کے کفارہ کا بیان
حدیث نمبر: 17159
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ إِنْسَانٍ يَكُونُ فِي مَجْلِسٍ فَيَقُولُ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ " . فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن الہاد نے اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر کا یہ بیان نقل کیا ہے : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو انسان کسی محفل میں موجود ہو اور پھر وہ وہاں سے اُٹھتے وقت یہ پڑھ لے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور ہر طرح کی حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص نے اس محفل میں ، جو ( کوتاہی کی ہو گی ) اُس کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
( راوی کہتے ہیں : ) میں نے یہ حدیث یزید بن خصیفہ کو بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند حدیث مجھے بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6673) اخرجه احمد فى المسند (450/3)»
حدیث نمبر: 17160
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ يَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” محفل کا کفارہ یہ ہے : کہ آدمی یہ پڑھ لے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3123)»
حدیث نمبر: 17161
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . ثُمَّ يَقُولُ : " إِنَّهَا كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفل سے اُس وقت تک نہیں اُٹھتے تھے جب تک آپ یہ نہیں پڑھ لیتے تھے : «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : یہ اُس چیز کا کفارہ ہوتا ہے جو محفل میں ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (260) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4445)»
حدیث نمبر: 17162
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ بَعْدَ أَنْ يَقُومَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَلَيْسَ فِي الْكَبِيرِ : " بَعْدَ أَنْ يَقُومَ " . ، وَفِيهِمَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” محفل کا کفارہ یہ ہے : کہ آدمی اُٹھنے کے بعد یہ پڑھ لے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اُٹھنے کے بعد “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10333)»
حدیث نمبر: 17163
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِذَا قُمْنَا مِنْ عِنْدِكَ أَخَذْنَا فِي أَحَادِيثِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " إِذَا جَلَسْتُمْ تِلْكَ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَخَافُونَ فِيهَا ( عَلَى أَنْفُسِكُمْ ) فَقُولُوا عِنْدَ مُقَامِكُمْ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ ، يُكَفِّرْ عَنْكُمْ مَا أَصَبْتُمْ فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم آپ کے پاس سے اُٹھتے ہیں ، تو ہم زمانہ جاہلیت کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اس طرح کی محافل میں بیٹھو ، جن میں تمہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہو ( کہ کہیں تم سے کوئی غلط بات سرزد نہ ہو گئی ہو ) تو تم اُٹھتے وقت یہ پڑھ لیا کرو :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبُ إِلَيْكَ» ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم تیری بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو تم نے اس محفل میں جو غلطی کی ہو گی وہ ختم ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (970)»
حدیث نمبر: 17164
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، تُبْ عَلَيَّ وَاغْفِرْ لِي ، يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ لَغَطٍ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ ، وَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” محفل کا کفارہ یہ ہے کہ آدمی اُس وقت تک نہ اُٹھے ، جب تک وہ یہ نہ پڑھ لے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، تُبْ عَلَيَّ وَاغْفِرْ لِي»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میری توبہ قبول فرما لے اور میری مغفرت کر دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : آدمی کو یہ کلمات تین مرتبہ پڑھنے چاہیے ، اگر اس محفل کے دوران کوئی لغزش ہو گئی ہو ، تو یہ اس کا کفارہ بن جائیں گے ، اور اگر وہ محفل ذکر کی ہو گی ، تو یہ اس ( ذکر پر ) پر مہر بن جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1587)»
حدیث نمبر: 17165
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، فَقَالَهَا فِي مَجْلِسِ ذِكْرٍ كَانَ الطَّابَعُ يُطْبَعُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَالَهَا فِي مَجْلِسِ لَغْوٍ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھے :
«سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : اگر آدمی ذکر کی محفل میں ان کلمات کو پڑھ لے گا ، تو یہ کلمات مہر ہوں گے ، جو اس ذکر پر لگ جائے گی ، اور جو شخص لغویات کی محفل میں انہیں پڑھ لے گا ، تو یہ اس کے لئے کفارہ بن جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1586)»
حدیث نمبر: 17166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” محفل کا کفارہ یہ ہے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع بن عطار ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17167
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهُ عَنْهُنَّ فَقَالَ : " أُمِرْتُ بِهِنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے :
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17168
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ " . فَقَرَأَ : ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے ، کثرت کے ساتھ یہ پڑھا کرتے تھے :
« سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، پھر آپ نے یہ سورت تلاوت کی :
﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [النصر : 1]
” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح