کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بعض اوقات کوئی سواری ، اپنے سوار سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والی ہوتی ہے
حدیث نمبر: 17156
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابٍّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " ارْكَبُوهَا سَالِمَةً ، وَدَعُوهَا سَالِمَةً ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا ، وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو اپنی سواریوں پر ٹھہرے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم ان پر اس وقت سواری کرو جب یہ سلامتی والے ہوں ، اور تم انہیں ایسی حالت میں چھوڑو کہ یہ سلامتی والے ہوں ، اور تم راستوں اور بازاروں میں آپس میں ، بات چیت کرنے کے لئے انہیں کرسی نہ بناؤ ، کیونکہ بعض اوقات کوئی سواری اپنے سوار سے بہتر ہوتی ہے اور ( وہ سواری ) اُس ( یعنی سوار ) سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (439/3)»