حدیث نمبر: 17129
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَابَ أَحَدًا هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ قَطُّ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَذَهَابَ غَمِّي " . مَكَانَ " هَمِّي " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو ، اور وہ یہ پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے حوالے ( یعنی وسیلے ) سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور جو تو نے خود اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کا علم تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دیا ہے ، یا جس کے حوالے سے تو نے ترجیح کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی ذات کے ساتھ اس کو مخصوص رکھا ، اور وہ غیب کے علم سے تعلق رکھتا ہے ( اس کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : کہ ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی کا باعث بنا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پریشانی کو ختم کر دے گا ، اور اس کے غم کی جگہ خوشی نصیب کر دے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جو بھی ان کلمات کے بارے میں سنتا ہے ، اُس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” پریشانی “ کی جگہ لفظ ” غم “ نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے حوالے ( یعنی وسیلے ) سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا ہے ، اور جو تو نے خود اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کا علم تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دیا ہے ، یا جس کے حوالے سے تو نے ترجیح کا معاملہ کرتے ہوئے اپنی ذات کے ساتھ اس کو مخصوص رکھا ، اور وہ غیب کے علم سے تعلق رکھتا ہے ( اس کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : کہ ) تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی کا باعث بنا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پریشانی کو ختم کر دے گا ، اور اس کے غم کی جگہ خوشی نصیب کر دے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جو بھی ان کلمات کے بارے میں سنتا ہے ، اُس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” پریشانی “ کی جگہ لفظ ” غم “ نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17130
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَلْيَدْعُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي " . ¤ قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَغْبُونَ لَمَنْ غَبَنَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، قَالَ : " أَجَلْ " . قَالَ : " فَقُولُوهُنَّ ، وَعَلِّمُوهُنَّ ; فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ وَعَلَّمَهُنَّ الْتِمَاسَ مَا فِيهِنَّ أَذْهَبَ اللَّهُ كَرْبَهُ ، وَأَطَالَ فَرَحَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کو پریشانی یا غم لاحق ہو ، اسے ان کلمات کے ہمراہ دعا کرنی چاہیے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، جو تو نے خود اپنا نام رکھا ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا جس کے بارے میں تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی علم عطا کیا یا جس کو تو نے غیب میں اپنے پاس رکھا ( میں اُس کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی بنا دے ۔ “
ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص نقصان والا ہو گا ، جسے ان کلمات کے حوالے سے نقصان ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم انہیں پڑھو اور ان کی تعلیم دو ! کیونکہ جو شخص انہیں پڑھے گا اور ان میں موجود برکات کے حصول کے لیے ان کی تعلیم دے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کی خوشی کو طویل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجَلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي»
” اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں تجھ سے ہر اس اسم کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، جو تیرا ہے ، جو تو نے خود اپنا نام رکھا ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا جس کے بارے میں تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی علم عطا کیا یا جس کو تو نے غیب میں اپنے پاس رکھا ( میں اُس کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں : ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کی جلاء اور میری پریشانی کی رخصتی بنا دے ۔ “
ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص نقصان والا ہو گا ، جسے ان کلمات کے حوالے سے نقصان ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم انہیں پڑھو اور ان کی تعلیم دو ! کیونکہ جو شخص انہیں پڑھے گا اور ان میں موجود برکات کے حصول کے لیے ان کی تعلیم دے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کی خوشی کو طویل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17131
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلِمَاتُ الْمَكْرُوبِ : اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پریشان حال شخص کے ( لئے پڑھنے کے مناسب ) کلمات یہ ہیں :
«اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ»
” اے اللہ ! تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں ، تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ، مجھے میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، تو میرے سارے معاملات کو ٹھیک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
«اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ»
” اے اللہ ! تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں ، تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ، مجھے میری ذات کے سپرد نہ کرنا ، تو میرے سارے معاملات کو ٹھیک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17132
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَنَحْنُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِذَا نَزَلَ بِكُمْ كَرْبٌ ، أَوْ جُهْدٌ ، أَوْ لَأْوَاءٌ ، فَقُولُوا : اللَّهُ اللَّهُ رَبُّنَا لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا ، ہم لوگ اُس وقت گھر میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اولاد عبدالمطلب ! جب تمہیں کوئی پریشانی یا مشکل یا تکلیف لاحق ہو ، تو تم یہ پڑھو :
«اللَّهُ اللَّهُ رَبُّنَا لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
” اللہ ، اللہ ہمارا پروردگار ہے ، اور ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن عبداللہ ابویحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«اللَّهُ اللَّهُ رَبُّنَا لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
” اللہ ، اللہ ہمارا پروردگار ہے ، اور ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن عبداللہ ابویحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17133
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَفَرٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ : " هَلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا ، أَوْ مَوْلَانَا ، قَالَ : " إِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمْ هَمٌّ ، أَوْ لَأْوَاءٌ ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے یہ فرمایا : کیا تمہارے ساتھ تمہارے علاوہ کوئی اور بھی ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے ، یا ہمارا ایک غلام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص کو پریشانی یا تکلیف لاحق ہو ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ” اللہ ، اللہ ، میرا پروردگار ہے ، میں کسی کو اُس کا شریک قرار نہیں دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17134
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْقَى وَيَفْنَى كُلُّ شَيْءٍ ، عُوفِيَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پڑھ لے :
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْقَى وَيَفْنَى كُلُّ شَيْءٍ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز سے پہلے تھا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز کے بعد ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہمیشہ باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ شخص پریشانی اور غم سے عافیت میں آ جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن بکار ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْقَى وَيَفْنَى كُلُّ شَيْءٍ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز سے پہلے تھا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہر چیز کے بعد ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جو ہمیشہ باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ شخص پریشانی اور غم سے عافیت میں آ جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن بکار ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔