حدیث نمبر: 17128
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ قَالَ : قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُ قَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا ، وَآمِنَ رَوْعَاتِنَا " . ¤ قَالَ : فَضَرَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَ أَعْدَائِنَا بِالرِّيحِ ، هَزَمَهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِالرِّيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ ، إِلَّا أَنَّ فِي نُسْخَتِي مِنَ الْمُسْنَدِ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهُوَ فِي الْبَزَّارِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی چیز ہے ، جسے ہم پڑھ لیں ؟ کیونکہ دل حلق تک آ چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں !
«اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا ، وَآمِنَ رَوْعَاتِنَا» ” اے اللہ ! ہمارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، اور ہماری پریشانی کو امان نصیب فرما ۔ “
راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے دشمن پر ہوا بھیج دی ، اور اُس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، بزار کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، تاہم میرے پاس موجود ” مسند “ کے نسخے میں یہ بات تحریر ہے ،
یہ روایت ربیح بن ابوسعید کے حوالے سے ، ان کے والد سے منقول ہے ، جبکہ مسند بزار میں ، یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔
«اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا ، وَآمِنَ رَوْعَاتِنَا» ” اے اللہ ! ہمارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی فرما ، اور ہماری پریشانی کو امان نصیب فرما ۔ “
راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے دشمن پر ہوا بھیج دی ، اور اُس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، بزار کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، تاہم میرے پاس موجود ” مسند “ کے نسخے میں یہ بات تحریر ہے ،
یہ روایت ربیح بن ابوسعید کے حوالے سے ، ان کے والد سے منقول ہے ، جبکہ مسند بزار میں ، یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔