کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: زاد سفر میں ، کس چیز کے ذریعے ، برکت حاصل ہوتی ہے ؟
حدیث نمبر: 17112
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبُّ يَا جُبَيْرُ إِذَا خَرَجْتَ فِي سَفَرٍ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَمْثَلِ أَصْحَابِكَ هَيْئَةً ، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا ؟ " . فَقُلْتُ : نَعَمْ . بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : فَاقْرَأْ هَذِهِ السُّوَرَ الْخَمْسَ : ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) ، وَ ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) ، وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، وَ ( قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ) ، وَ ( قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) ، وَافْتَتِحْ كُلَّ سُورَةٍ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَاخْتِمْ قِرَاءَتَكَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . ¤ قَالَ جُبَيْرٌ : وَكُنْتُ غَنِيًّا كَثِيرَ الْمَالِ ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ [ مَعَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ ] فِي سَفَرٍ ، فَأَكُونُ أَبَذَّهُمْ هَيْئَةً ، وَأَقَلَّهُمْ زَادًا ، فَمَا زِلْتُ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَأْتُ بِهِنَّ أَكُونُ مِنْ أَحْسَنِهِمْ هَيْئَةً ، وَأَكْثَرِهِمْ زَادًا ، حَتَّى أَرْجِعَ مِنْ سَفَرِي [ ذَلِكَ ] . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے جبیر ! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو ؟ کہ جب تم سفر پر نکلو ، تو تم ہیئت کے اعتبار سے اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ مثالی ہو ، اور زاد سفر کے اعتبار سے سب سے زیادہ کثرت والے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرو : سورہ کافرون ، سورۂ نصر ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس ، اور ان میں سے ہر ایک سے پہلے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھ لیا کرو ، اور اپنی قرأت کا اختتام ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے ذریعے کرنا ۔ “ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خوشحال تھا ، کثیر مال والا تھا ، پہلے جب میں ان لوگوں کے ساتھ نکلتا تھا ، جن کے بارے میں اللہ کو منظور ہوتا تھا کہ میں ان کے ساتھ سفر پر جاؤں ، تو میری ہیئت ان میں سب سے زیادہ بری ہوتی تھی ، اور زاد سفر سب سے زیادہ کم ہوتا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان سورتوں کی تعلیم دی ، تو میں نے انہیں پڑھنا شروع کیا ، تو میری یہ حالت ہو گئی کہ میں ظاہری ہیئت کے اعتبار سے ان میں سب سے زیادہ عمدہ ہوتا تھا ، اور زاد سفر کے اعتبار سے سب سے زیادہ کثرت والا ہوتا تھا ، یہاں تک کہ میں اس سفر سے واپس آ جاتا ( یعنی پورے سفر کے دوران یہ صورتحال رہتی تھی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔