کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16704
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَا عِيسَى ، إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدَكَ أُمَّةً ، إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ ، حَمِدُوا وَشَكَرُوا ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ ، احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا ، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ . قَالَ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ هَذَا لَهُمْ ، وَلَا حِلْمَ ، وَلَا عِلْمَ ؟ ! قَالَ : أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَوَّارٍ ، وَأَبِي حَلْبَسٍ : يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجوں گا اگر انہیں وہ چیز نصیب ہو گی جسے وہ پسند کرتے ہوں ، تو وہ اس بات پر حمد کریں گے اور شکر کریں گے اور اگر انہیں وہ صورتحال لاحق ہو جسے وہ ناپسند کرتے ہوں تو وہ اس بارے میں ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر سے کام لیں گے ، حالانکہ ان میں حلم اور علم نہیں ہو گا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! انہیں یہ چیز کیسے نصیب ہو گی ؟ جبکہ نہ حلم ہو گا اور نہ علم ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے حلم اور اپنے علم میں سے اُنہیں عطا کروں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن سوار اور ابوحلبس یزید بن میسرہ کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2845) اخرجه احمد فى المسند (450/6)»
حدیث نمبر: 16705
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا حَظُّكُمْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ، وَقَدْ صَحَّحَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں انبیاء کرام میں سے تم لوگوں کا حصہ ہوں اور تم لوگ اُمتوں میں سے میرا حصہ ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوحبیبہ طائی کا معاملہ مختلف ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ ایک حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، اور ابن حبان میں اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16705
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2847)»
حدیث نمبر: 16706
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ ، وَعُبَيْدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَغَرِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ ، وَفِي عُبَيْدٍ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتہ نہیں چلتا کہ اُس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟ “” “” ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حسن بن قزعہ اور عبید بن سلیمان اغر کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ، عبید کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2843)»
حدیث نمبر: 16707
وَعَنْ عَمَّارٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أُمَّتِي كَالْمَطَرِ ، يَجْعَلُ اللَّهُ فِي أَوَّلِهِ خَيْرًا ، وَفِي آخِرِهِ خَيْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے ابتدائی حصے میں بھی بھلائی رکھی ہے ، اور اس کے آخری حصے میں بھی بھلائی رکھی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2844)»
حدیث نمبر: 16708
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَسَنَدُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ . وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْنَادٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند حسن ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس سے زیادہ عمدہ سند کے ساتھ روایت نقل نہیں کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16709
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے یا آخری حصہ ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16710
وَعَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16711
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي : مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ ؟ قُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّي ، هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا نُخْزِيكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ ، . ¤ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا ، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ . ¤ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ : ادْعُ تُجَبْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ : أَوَمُعْطِيَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - سُؤْلِي ؟ قَالَ : مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا فَخْرَ ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا ، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَبَ ، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي ، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ ، وَالنَّصْرَ ، وَالرُّعْبَ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا ، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ ، وَطَيَّبَ لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا ، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ جب ہم نے یہ گمان کیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے میں آپ کی جان قبض ہو گئی ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں اُن کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے کرے ، وہ تیری مخلوق ہیں اور تیرے بندے ہیں ، پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے یہی بات عرض کی ، پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں غمگین نہیں کریں گے ۔ “
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” پروردگار نے مجھے یہ بتایا : میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والی ستر ہزار افراد ہوں گے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید ستر ہزار ہوں گے ، اور ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “
پھر اُس ( پروردگار ) نے مجھے پیغام بھیجا اور فرمایا :
” تم دعا مانگو ! وہ قبول ہو گی ، تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اس کے قاصد سے کہا: کیا میں جو مانگوں گا ؟ میرا پروردگار مجھے وہ دے گا ؟ قاصد نے کہا: اس نے مجھے آپ کی طرف اسی لیے بھیجا ہے تاکہ وہ آپ کو وہ چیز دے ( یعنی جو آپ مانگیں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں یہ بات فخر کے اظہار کے لئے نہیں کہہ رہا ، میرے پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کی : کہ اس نے میرے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ، اور اب میں زندہ اور صحیح ہونے کے طور پر چلتا ہوں ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میری اُمت بھوک کا شکار نہیں ہو گی ، اور وہ مغلوب نہیں ہو گی ، اور اس نے مجھے کوثر عطا کی ، یہ جنت کی نہر ہے ، جو بہتی ہوئی میرے حوض میں آتی ہے ۔
اور اس نے مجھے غلبہ مدد اور رعب عطا کیا ، جو میری اُمت کے آگے ایک مہینے کی مسافت تک ہو گا ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میں انبیاء کرام میں سے ، جنت میں سب سے پہلے داخل ہوؤں گا اور اس میں میرے لئے اور میری اُمت کے لیے مال غنیمت کو پاکیزہ ( یعنی حلال ) قرار دیا اور اس نے ہمارے لیے بہت سی ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا ، جن کے حوالے سے اُس نے ہم سے پہلے لوگوں پر سختی کی تھی ، اور اس نے ہم پر حرج کو لازم قرار نہیں دیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (393/5)»
حدیث نمبر: 16712
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي الْبَارِحَةَ لَدُنْ هَذِهِ الْحُجْرَةِ حَتَّى لَأَنَا أَعْرِفُ بِالرَّجُلِ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِصَاحِبِهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُرِضَ عَلَيْكَ مَنْ خُلِقَ مِنْهُمْ ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُخْلَقْ ؟ قَالَ : " صُوِّرُوا لِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا أَعْرَفُ بِالْإِنْسَانِ مِنْهُمْ مِنَ الرَّجُلِ بِصَاحِبِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرے سامنے اس حجرے میں میری اُمت کو پیش کیا گیا ، یہاں تک کہ میں اُن میں سے ہر ایک شخص کو اس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : یا رسول اللہ ! یہ تو آپ کے سامنے وہ لوگ پیش کیے گئے جو اُن میں سے پیدا ہو چکے ہیں ، تو ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کی شکلیں میرے سامنے پیش کی گئیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں ان میں سے کسی شخص کو اُس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا کوئی شخص اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16712
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3054)»
حدیث نمبر: 16713
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّتُهُ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : " كُنْتَ هَاهُنَا هَلْ سَمِعْتَ " . قُلْتُ : نَعَمْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی اُمت کو پیش کیا گیا ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا تھا ، جب آپ فارغ ہوئے اور میری طرف متوجہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہاں تھے ؟ کیا تم نے سنا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (148 و 3540)»
حدیث نمبر: 16714
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمَّتِي فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى - أَوْ عَدَدِ الْمَطَرِ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زمین میں میری امت کی تعداد کنکریوں کی تعداد ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ بارش کے قطروں کی تعداد سے زیادہ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ابوحاتم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16715
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا وَبَعْضُهَا فِي النَّارِ ، وَبَعْضُهَا فِي الْجَنَّةِ ، إِلَّا أُمَّتِي كُلُّهَا فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر امت کا کچھ حصہ جہنم میں جائے گا اور کچھ حصہ جنت میں جائے گا ، البتہ میری امت کا معاملہ مختلف ہے ، وہ سب جنت میں جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن حجاج بن رشدین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16715
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (648) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط “ (1858)»
حدیث نمبر: 16716
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، مُتَابٌ عَلَيْهَا ، تَدْخُلُ قُبُورَهَا بِذُنُوبِهَا ، وَتَخْرُجُ مِنْ قُبُورِهَا لَا ذُنُوبَ عَلَيْهَا ، يُمَحَّصُ عَنْهَا بِاسْتِغْفَارِ الْمُؤْمِنِينَ لَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت ، امت مرحومہ ہے ، ان پر فضل کیا جائے گا ، وہ اپنے گناہوں کے ہمراہ اپنی قبروں میں داخل ہوں گے ، اور جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اہل ایمان کے ، ان کے لیے دعائے مغفرت کی وجہ سے ، اُن کے گناہوں کو ختم کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن طاہر بن حرملہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16716
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1900)»
حدیث نمبر: 16717
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَنَّةُ حُرِّمَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى أَدْخُلَهَا ، وَحُرِّمَتْ عَلَى الْأُمَمِ حَتَّى تَدْخُلَهَا أُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت انبیاء کرام کے لیے اُس وقت تک حرام ہے جب تک ” میں “ اُس میں داخل نہیں ہو جاتا اور دوسری امتوں کے لیے ، اُس وقت تک حرام ہے ، جب تک میری امت اُس میں داخل نہیں ہو جاتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ہیں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16717
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (946)»
حدیث نمبر: 16718
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْجَنَّةُ مُحَرَّمَةٌ عَلَى جَمِيعِ الْأُمَمِ حَتَّى أَدْخُلَهَا أَنَا وَأُمَّتِي الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت تمام امتوں کے لیے حرام ہے ، جب تک ” میں “ اور میری امت یکے بعد دیگرے اُس میں داخل نہیں ہو جاتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16718
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16719
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَقْسَمْتُ لَبَرَرْتُ ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَبْلَ سَابِقِ أُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عبدیمانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں قسم اٹھا لوں تو میں سچا ہوؤں گا کہ میری اُمت سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16720
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُمَّتِهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ عَلَى طَاعَتِكَ ، وَحُطَّ مِنْ وَرَائِهِمْ بِرَحْمَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا: ” اے اللہ ! تو ان کے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف لے آ ! اور اُن کے بعد والوں کو اپنی رحمت کے ذریعے گھیر لے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16720
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (377) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4791)»
حدیث نمبر: 16721
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنَ الْأُمَمِ أُمَّةٌ ضُرِبَ لَهُمْ مَثَلٌ ، كَمَثَلِ أُجَرَاءَ ائْتَجَرَهُمْ رَجُلٌ يَعْمَلُونَ لَهُ يَوْمًا كُلَّهُ ، وَجَعَلَ لَهُمْ قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ سَئِمُوا ، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ : حَاسِبْنَا فَحَاسَبَهُمْ ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطٍ ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى اللَّيْلَةِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَبَايَعَهُ قَوْمٌ آخَرُونَ ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ سَئِمُوا ، قَالُوا : حَاسِبْنَا فَحَاسَبَهُمْ ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطِ نِصْفُ قِيرَاطٍ ، وَأَحَبَّ الرَّجُلُ أَنْ يُقْضَى لَهُ قَبْلَ اللَّيْلِ ; فَائْتَجَرَ قَوْمًا عَلَى أَنْ يُكْمِلُوا لَهُ مَا غَبَرَ مِنْ عَمَلِهِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ " . فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونُوا أَنْتُمْ صَاحِبَ الْقِيرَاطَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
” امتوں میں سے ایک امت کے لئے یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ اُن کی مثال ایسے مزدوروں کی مانند ہے ، جنہیں کوئی شخص مزدور رکھتا ہے کہ وہ مزدور سارا دن اس کے لئے کام کریں گے اور وہ ان مزدوروں کو ایک ایک قیراط دے گا ، پھر وہ مزدور کام کرنا شروع کرتے ہیں یہاں تک کہ جب دوپہر ہوتی ہے تو وہ تھک جاتے ہیں ، وہ اس شخص سے کہتے ہیں تم ہمارے ساتھ حساب کر لو ! وہ ان کے ساتھ حساب کرتا ہے تو ان مزدوروں کے حصے میں نصف قیراط آتا ہے ، وہ شخص یہ کہتا ہے : کون رات تک میرے لیے کام کرے گا اسے ایک ایک قیراط دیا جائے گا ، تو کچھ دوسرے لوگ اس کے ساتھ سودا طے کر لیتے ہیں اور کام کرتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کے قریب کا وقت ہوتا ہے تو وہ تھک جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : تم ہمارے ساتھ حساب کر لو وہ ان کے ساتھ حساب کرتا ہے ، تو ان لوگوں کو نصف ، نصف قیراط ملتا ہے ۔
وہ شخص یہ چاہتا ہے کہ رات ہونے سے پہلے اُس کا کام پورا ہو جائے ، تو وہ ایک قوم کو مزدور رکھتا ہے ، اس شرط پر کہ وہ باقی رہ جانے والا کام اُسے رات تک مکمل کر دیں اور انہیں دو دو قیراط ملیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے امید ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ دو دو قیراط وصول کرنے والے ہوؤ گے ( یعنی تم لوگ عمل تھوڑا کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تمہیں زیادہ اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16721
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7054)»
حدیث نمبر: 16722
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، مُعَافَاةٌ ; فَاسْتَقِيمُوا وَخُذُوا طَاقَةَ الْأَمْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُمت مرحومہ ہو ، جس کو معاف کیا گیا ہے ، تو تم لوگ ٹھیک رہو اور معاملے کی طاقت کو پکڑو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن لاحق ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 16723
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِأَبِي بُرْدَةَ : حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِيكَ فِيهِ أَحَدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مُقَدِّسَةٌ ، مُبَارَكَةٌ ، مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّمَا عَذَابُهُمْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا بِالْفِتَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا الْقَاسِمُ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن داؤد خولانی بیان کرتے ہیں : میں نے عمر بن عبدالعزیز کو ابوبردہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ! جس میں آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کوئی اور واسطہ نہ ہو ، تو ابوبردہ نے بتایا : میں نے اپنے والد ( یعنی سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت پاک ، برکت والی اور رحم یافتہ ہے ، قیامت کے دن ان پر عذاب نہیں ہو گا ، اُن کا عذاب دنیا میں اُن کے درمیان فتنوں کے ذریعے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک میں ایک شخص قاسم ہے جو حمص کا رہنے والا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن قیس سکونی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16724
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتُمْ أَشْبَهُ الْأُمَمِ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ سَمْتًا ، وَسِمَةً ، وَهَدْيًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چال چلن اور طور طریقوں کے حوالے سے تم بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی امت ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16725
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُذِنَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السُّجُودِ ، فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُمْ : ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ ، قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءً لَكُمْ مِنَ النَّارِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوقات کو جمع کرے گا ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدہ کرنے کی اجازت دے گا ، تو وہ لوگ اس کی بارگاہ میں طویل سجدہ کریں گے ، پھر ان سے کہا: جائے گا : تم لوگ اپنے سر اٹھاؤ ! کیونکہ ہم نے تمہاری تعداد جتنے لوگوں کو جہنم سے تمہارا فدیہ قرار دیدیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابوالمساور ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16725
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 16726
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةٌ ، أُمَّتِي مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ ، فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اُن میں سے میری امت کی 80 صفیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن غصن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں بقیہ احادیث ، جنت کی صفت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، جن میں اس امت سے تعلق رکھنے والے بکثرت افراد کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہو گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16726
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف