کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ان لوگوں کے بارے میں جو منقول ہے ، جو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائیں گے لیکن انہوں نے آپ کو دیکھا نہیں ہو گا
حدیث نمبر: 16689
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَقَالَ : " أَنْبَئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، يَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا ، بَلْ غَيْرُهُمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ . قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمْ اللَّهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِالشَّهَادَةِ ، بَلْ غَيْرُهُمْ " . ¤ قَالُوا : فَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ ، يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھے ان کے بارے میں بتاؤ جو ایمان کے اعتبار سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہوں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور انہیں یہ حق ہے کہ وہ ایسے ہوں ، ان کے لئے اس بارے میں کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مقام عطا کیا ہے بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انبیاء ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور نبوت کے ذریعے عزت عطا کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ، ان کے لیے اس بارے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مرتبہ و مقام عطا کیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ شہداء ہوں گے جنہوں نے انبیاء کے ساتھ شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ان کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے حوالے سے عزت عطا کی ہو ، بلکہ ان کے علاوہ اور لوگ ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ جو ابھی مردوں کی پشتوں میں ہیں اور میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے ، یہ لوگ ایمان کے حوالے سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (160)»
حدیث نمبر: 16690
- وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَخْبَرُونِي بِأَعْظَمِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهُمْ مَعَ قُرْبِهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ ، بَلْ غَيْرُهُمْ ؟ " . قَالُوا : الْأَنْبِيَاءُ ، قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ ، بَلْ غَيْرُهُمْ " . قَالُوا : فَأَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " قَوْمٌ يَأْتُونَ بَعْدَكُمْ ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً - أَوْ أَعْظَمُ الْخَلْقِ إِيمَانًا - عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ وَقَالَ : الصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ الْمَرْفُوعِ حَسَنٌ ، الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم مجھے یہ بتاؤ کہ قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عظمت والی مخلوق کون سی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ وہ اپنے پروردگار کے قریب ہیں ، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی ، نبی ( ہوں گے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے بلکہ ان کے علاوہ اور ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ ہمیں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - ایمان کے اعتبار سے ، وہ سب سے زیادہ عظمت والے ہوں گے ۔ “ وہ فرماتے ہیں : درست یہ ہے کہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور زید بن اسلم سے منقول ہے ، امام بزار کی نقل کردہ مرفوع روایت کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی منہال بن ابجر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2839)»
حدیث نمبر: 16691
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ كَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! " . قَالُوا : النَّبِيُّونَ ، قَالَ : " النَّبِيُّونَ يُوحَى إِلَيْهِمْ ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! " . قَالُوا : الصَّحَابَةُ ، قَالَ : " الصَّحَابَةُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوَّمَ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ فَيَجِدُونَ كِتَابًا مِنَ الْوَحْيِ ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَتَّبِعُونَهُ ، فَهُمْ أَعْجَبُ النَّاسِ إِيمَانًا - أَوِ الْخَلْقِ إِيمَانًا - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ، قُلْتُ : فِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، فَوَثَّقَهُ قَوْمٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کون سی مخلوق ایمان کے حوالے سے زیادہ حیران کن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی ! نبی ( ہوں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انبیاء کی طرف وحی ہوتی ہے ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( ہوں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صحابہ ، انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ حیران کن وہ لوگ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے اور وہ وحی سے متعلق کتاب پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی پیروی کریں گے وہ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ مخلوق میں سب سے زیادہ حیران کن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے کی ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے حوالے سے
یہ روایت غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2840)»
حدیث نمبر: 16692
وَعَنْ صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جُمُعَةَ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ ، وَمَعَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ يَوْمَئِذٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ خَرَجْنَا مَعَهُ لِنُشِيِّعَهُ ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ : إِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ جَائِزَةً ، وَحَقًّا أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا : هَاتِ - رَحِمَكَ اللَّهُ - فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَاشِرُ عَشْرَةٍ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مَنْ قَوْمٍ أَعْظَمُ مِنَّا أَجْرًا ؟ آمَنَّا بِكَ وَاتَّبَعْنَاكَ . قَالَ : " مَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ ! يَأْتِيكُمُ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ . بَلَى قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ ، يَأْتِيهِمْ كِتَابٌ بَيْنَ لَوْحَيْنِ ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَاخْتُلِفَ فِي رِجَالِهِ . ¤
محمد محی الدین
صالح بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوجمعہ انصاری ہمارے پاس بیت المقدس تشریف لائے تاکہ وہ وہاں نماز ادا کریں اس وقت ہمارے ساتھ رجاء بن حیوہ بھی موجود تھے جب وہ واپس جانے لگے تو ہم ان کی مشایعت کے لئے ان کے ساتھ چلنے لگے ، جب ہم نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے فرمایا تمہارا میرے ذمہ حصہ اور حق ہے کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! آپ بیان کیجیے ، تو انہوں نے بتایا : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ہمارے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سمیت دس افراد تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی قوم ہے جسے ہم سے زیادہ اجر ملے گا جب کہ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ہم نے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس حوالے سے تمہارے لئے کیا رکاوٹ تھی ؟ جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ، آسمان سے وحی تمہارے پاس آتی ہے ، بلکہ ایک قوم ہو گی جو تمہارے بعد آئے گی ، ان کے پاس دو لوچوں کے درمیان موجود کتاب آئے گی ، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مختلف فیہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3540)»
حدیث نمبر: 16693
وَعَنْ أَبِي جُمُعَةَ قَالَ : تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا ؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ ، وَجَاهَدْنَا مَعَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناشتہ کیا ہمارے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ہم سے بہتر بھی ہو گا ؟ جبکہ ہم نے آپ کے ہمراہ اسلام قبول کیا اور آپ کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! ایک قوم ہے ، جو میرے بعد آئے گی ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16693
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1559) اخرجه احمد فى المسند (106/4)»
حدیث نمبر: 16694
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ : أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَخْبَرَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ - أَوْ يَخْرُجُونَ - بَعْدِي ، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ يَرَانِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلَمْ يُسَمِّ التَّابِعِيَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ وہ میرے بعد آئیں گے ، ان میں سے کوئی شخص یہ خواہش کرے گا کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مال کو دیدیتا اور اس کے عوض میں اس نے میری زیارت کر لی ہوتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (156/5)»
حدیث نمبر: 16695
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِرُؤْيَتِي أَهْلَهُ وَمَالَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ایک قوم آئے گی ، ان میں سے کوئی ایک شخص یہ خواہش کرے گا کہ اس نے میری زیارت کے لئے فدیے کے طور پر اپنے اہل خانہ اور مال کو دے دیا ہوتا ۔ “ ( یعنی کاش اس کے بس میں ہوتا کہ وہ یہ فدیہ ادا کر کے میری زیارت کا شرف حاصل کر لیتا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2841)»
حدیث نمبر: 16696
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ حُبًّا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّنْ رَآهُ ، أَوْ مِنْ عَامَّةِ مَنْ رَآهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ أَخُو عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِ الْبَزَّارِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اللہ کی قسم ! تم لوگ اُن لوگوں سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہو ، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، ان میں سے زیادہ تر لوگوں ( کے مقابلے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، تم زیادہ محبت کرتے ہو ) ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داود حرانی ہے ، جو عبدالغفار کا بھائی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام بزار کی سند کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2842)»
حدیث نمبر: 16697
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : أنَتُمْ أَصْحَابِي وَلَكَنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَلَفْظُهُ : " وَمَتَى أَلْقَى إِخْوَانِي ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " . ¤ وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى مُحْتَسِبٌ : أَبُو عَائِذٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْفَضْلِ بْنِ الصَّبَاحِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ جِسْرٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْتَسِبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کر لیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے ، جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں :
” میں کب اپنے بھائیوں سے ملوں گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” بلکہ تم میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔ “
امام ابویعلیٰ کے رجال میں ایک راوی محتسب ابوعائذ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فضل بن صباح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ” جسر “ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ” محتسب “ کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3390) اخرجه احمد فى المسند (155/3)»
حدیث نمبر: 16698
وَبِسَنَدِ أَبِي يَعْلَى إِلَى أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى كَمَا تَقَدَّمَ حَسَنٌ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ فِيهِ جِسْرٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ کی سند کے ساتھ ، یہ بات منقول ہے : سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہ دیکھا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ” جسر “ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3391) اخرجه احمد فى المسند (155/3)»
حدیث نمبر: 16699
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، قَالَ : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي " . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَمَا طُوبَى ؟ قَالَ : " شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے آپ کی زیارت کی اور وہ آپ پر ایمان لایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا اور اس کے لیے مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہ دیکھا ہو ، اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : طوبیٰ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں موجود ایک درخت ہے ، جس کی مسافت 100 سال کی ہے ، اور اہل جنت کے کپڑے اس کی ٹہنیوں سے نکلتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16699
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1374) اخرجه احمد فى المسند (71/3)»
حدیث نمبر: 16700
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي . سَبْعَ مَرَّاتٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَيْمَنَ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لیے مبارکباد ہے جس نے میری زیارت کی اور جو مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہیں دیکھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف أحمد بن مالک اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8009) اخرجه احمد فى المسند (248/5)»
حدیث نمبر: 16701
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَعَ رَاكِبَانِ ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ : " كِنْدِيَّانِ مَذْحَجِيَّانِ " . حَتَّى إِذَا أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِِجٍ قَالَ : فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ " . فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ، مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ " . قَالَ : فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران دو سوار سامنے آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ دونوں کندی اور مذحجی ہیں ، یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کے پاس آ گئے تو ان کا تعلق مذحج قبیلے سے تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تاکہ آپ کی بیعت کرے ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ کو دیکھے ، آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے تو اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا ، پھر دوسرا شخص آگے آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لئے آپ کا ہاتھ پکڑا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا ، اور واپس چلا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (152/4)»
حدیث نمبر: 16702
وَعَنْ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَلَمْ يَرَكَ وَصَدَّقَكَ وَلَمْ يَرَكَ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُمْ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُمْ ، أُولَئِكَ مِنَّا ، أُولَئِكَ مَعَنَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ بَيْهَسٌ الثَّقَفِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعمره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو اور وہ آپ کی تصدیق کرے ، اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے لئے مبارکباد ہے اور ان کے لیے مزید مبارکباد ہے ، وہ لوگ ہم میں سے ہیں اور وہ لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بیہس ثقفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16703
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ أَدْرَكَنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَقَنِي ، وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُدْرِكْنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي ، وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُدْرِكْنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ پائے اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ نہ پائے ، اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ نہ پائے اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16703
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف