حدیث نمبر: 16727
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ إِلَّا مَنْ أَبَى ، أَوْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ ! فَقَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ عَصَانِي دَخَلَ النَّارَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم سب لوگ ضرور جنت میں داخل ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو انکار کر دے ، یا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایسی سرکشی کا اظہار کرے ، جس طرح اونٹ سرکشی کرتا ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کون جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میری اطاعت کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16728
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن خالد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، تو خالد نے اُن سے اُس سب سے نرم کلمہ کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار ! تم سب لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال “” “” صحیح “” “” کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال “” “” صحیح “” “” کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16729
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّكُمْ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ . قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : " لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى " كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم سب جنت میں جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے ، جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اسے معجم کبیر میں ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس اُمت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس طرح کوئی برا ( یعنی سرکش ) اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس ( یعنی جہنم ) میں صرف کوئی بدنصیب ہی جائے گا ۔ “ اس سے مراد یہی ہے کہ وہ اس چیز کو جھٹلا دے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ، اور وہ اُس سے منہ موڑنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اسے معجم کبیر میں ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس اُمت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس طرح کوئی برا ( یعنی سرکش ) اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس ( یعنی جہنم ) میں صرف کوئی بدنصیب ہی جائے گا ۔ “ اس سے مراد یہی ہے کہ وہ اس چیز کو جھٹلا دے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ، اور وہ اُس سے منہ موڑنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16730
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا يُوجَدُ فِيهَا رَاحِلَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهُوَ الصَّحِيحُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں کی مثال ایسے 100 اونٹوں کی مانند ہے جن میں سے سواری کے قابل کوئی نہیں ملتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے کہا: ہے : اسے معمر نے زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح امام طبرانی نے بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے کہا: ہے : اسے معمر نے زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح امام طبرانی نے بیان کیا ہے ۔