کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مصر اور اہل مصر کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16678
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْصَى عِنْدَ وَفَاتِهِ فَقَالَ : " اللَّهَ اللَّهَ فِي قِبْطِ مِصْرَ ، فَإِنَّكُمْ سَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ ، وَيَكُونُونَ لَكُمْ عُدَّةً وَأَعْوَانًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وصال کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مصر کے قبطیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ، اللہ سے ڈرتے رہنا ، عنقریب تم ان لوگوں پر غالب آ جاؤ گے اور وہ لوگ تمہاری تعداد میں اضافے کا باعث بنیں گے اور اللہ کی راہ میں تمہارے مددگار بن جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (265/23)»
حدیث نمبر: 16679
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا فُتِحَتْ مِصْرُ فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا ; ، فَإِنَّ لَهُمْ دَمًا وَرَحِمًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب مصر فتح ہو جائے تو تم قبطیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ! کیونکہ ان کے ساتھ خون اور رحم کا رشتہ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (61/19)»
حدیث نمبر: 16680
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً " . يَعْنِي أَنَّ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ كَانَتْ مِنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ان کے لیے ذمہ ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا تعلق اُن سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (62/19)»
حدیث نمبر: 16681
وَعَنْ أَبِي هَانِئٍ : حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ - وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ - وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ وَغَيْرَهُمَا يَقُولَانِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ قُوَّةٌ لَكُمْ ، وَإِبْلَاغٌ إِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ " . يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوہانی حمید بن ہانی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوعبدالرحمن خولی رضی اللہ عنہ ، جن کا نام عبداللہ بن یزید ہے ، اور سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے علاوہ دیگر افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جن کے سر گھنگریالے بالوں والے ہوں گے ، تم ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو ! کیونکہ وہ تمہارے لیے اللہ کے اذن کے تحت قوت بن جائیں گے اور تمہیں دشمن تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مصر کے قبطی تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (141/3)»
حدیث نمبر: 16682
وَعَنْ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِصْرَ سَتُفْتَحُ فَانْتَجِعُوا خَيْرَهَا ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا دَارًا ; فَإِنَّهُ يُسَاقُ إِلَيْهَا أَقَلُّ النَّاسِ أَعْمَارًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُطَهِّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ يُونُسَ : مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رباح لخمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مصر عنقریب فتح ہو جائے گا ، تم وہاں سے بھلائی حاصل کرنا ، لیکن تم اسے رہائش گاہ نہ بنا لینا کیونکہ اس کی طرف اُن لوگوں کو لے کر جایا جائے گا ، جن کی عمریں کم ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطہر بن ہیثم ہے ابوسعید بن یونس کہتے ہیں : وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4625)»