کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ’’ ابدال “ کے بارے میں جو منقول ہے ، اور یہ کہ وہ شام میں ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 16671
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيٍّ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : لَا ; إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْبُدَلَاءُ بِالشَّامِ ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا ، يُسْتَقَى بِهِمُ الْغَيْثُ ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ الْمِقْدَادِ ، وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل شام کا ذکر کیا گیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت عراق میں تھے ، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ ان پر لعنت کیجئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابدال شام میں ہوں گے ، وہ چالیس افراد ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی ایک فرد انتقال کر جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے فرد کو لے آئے گا ، اُن کی وجہ سے بارش نازل ہو گی ، اُن کے وسیلے سے دشمن کے خلاف مدد مانگی جائے گی اور اُن کی وجہ سے اہل شام سے عذاب کو پھیر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریح بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریح بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 16672
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو زَرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابدال اس امت میں ہوں گے ، وہ تیس افراد ہوں گے ، وہ سیدنا خلیل الرحمن علیہ السلام کی مانند ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی فرد فوت ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا فرد لے آئے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عبدالواحد بن قیس کا معاملہ مختلف ہے اسے عجلی اور ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ان دونوں کے علاوہ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عبدالواحد بن قیس کا معاملہ مختلف ہے اسے عجلی اور ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ان دونوں کے علاوہ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 16673
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ بِهِمْ تَقُومُ الْأَرْضُ ، وَبِهِمْ تُمْطَرُونَ ، وَبِهِمْ تُنْصُرُونَ " . قَالَ قَتَادَةُ : إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَسَنُ مِنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُمَرَ ، وَالْبَزَّارُ عَنْ عَنْبَسَةَ الْخَوَاصِّ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں مسلسل 30 افراد ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے زمین قائم رہے گی اور اُن کے وسیلے سے بارش نازل کی جائے گی اور ان کے وسیلے سے مدد کی جائے گی ۔ “ قتادہ کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ حسن اُن لوگوں میں سے ایک ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بزار کے حوالے سے عنبسہ خواص سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بزار کے حوالے سے عنبسہ خواص سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16674
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَخْلُوَ الْأَرْضُ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِثْلَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ ، فَبِهِمْ تُسْقَوْنَ ، وَبِهِمْ تُنْصَرُونَ ، مَا مَاتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ آخَرَ " . ¤ قَالَ سَعِيدٌ : وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ : لَسْنَا نَشُكُّ أَنَّ الْحَسَنَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین ایسے 40 افراد سے خالی نہیں ہو گی ، جو سیدنا خلیل الرحمن علیہ السلام کی مانند ہوں گے ، ان کی وجہ سے تم لوگوں کو سیراب کیا جائے گا ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی ، جب ان میں سے کوئی ایک فرد فوت ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا لے آئے گا ۔ “ سعید نامی راوی کہتے ہیں : میں نے قتادہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ حسن ان لوگوں میں سے ایک ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16675
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ ، يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِمْ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْأَبْدَالُ " . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ لَمْ يُدْرِكُوهَا بِصَلَاةٍ ، وَلَا بِصَوْمٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِمَ أَدْرَكُوهَا ؟ قَالَ : " بِالسَّخَاءِ ، وَالنُّصْحِيَّةِ لِلْمُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ثَابِتِ بْنِ عَيَّاشٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْكَلْبِيِّ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں ہر وقت چالیس ایسے افراد ہمیشہ رہیں گے جن کے دل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دل کی مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے اہل زمین سے ( عذاب وغیرہ کو ) پرے کرے گا ، انہیں ابدال کہا: جائے گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ نماز یا روزہ یا صدقہ کی وجہ سے اس مقام تک نہیں پہنچیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ کسی وجہ سے اس مقام تک پہنچیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سخاوت کی وجہ سے اور مسلمانوں کی خیرخواہی کی وجہ سے ( وہ اس مقام تک پہنچیں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے ثابت بن عیاش احدب کے حوالے سے ابورجاء کلبی سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے ثابت بن عیاش احدب کے حوالے سے ابورجاء کلبی سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16676
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مِصْرُ سَبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ، فَأَخْرَجَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَأْسَهُ مِنْ بُرْنُسٍ ثُمَّ قَالَ : يَا أَهْلَ مِصْرَ ، لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فِيهِمُ الْأَبْدَالُ ، فَبِهِمْ تُنْصَرُونَ ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، وَشَهْرٌ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب مصر فتح ہوا اور لوگوں نے اہل شام کو قیدی بنا لیا ، تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں سے اپنا سر باہر نکالا اور پھر یہ فرمایا : اے اہل مصر ! تم اہل شام کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان میں ” ابدال “ ہوتے ہیں ، ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے ، اور ان کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس میں ایک راوی شہر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس میں ایک راوی شہر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔