کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل یمن کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16618
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَقِطَعِ السَّحَابِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ : وَمِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً : " إِلَّا أَنْتُمْ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اہل یمن تمہارے پاس آئیں گے جو بادل کے ٹکڑوں کی مانند ( نفع رساں ) ہیں ، اور وہ اہل زمین کے سب سے بہتر لوگ ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) آپ کے پاس موجود افراد میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور ہم میں سے ؟ ( یعنی ہم میں سے بھی کچھ لوگ بہتر ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں ارشاد فرمایا : البتہ تمہارا معاملہ مختلف ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (82/4)»
حدیث نمبر: 16619
وَفِي رِوَايَةٍ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَأَنَّهُمُ السَّحَابُ ، هُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ فَقَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ كَلِمَةً ضَعِيفَةً : " إِلَّا أَنْتُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِلَّا نَحْنُ . وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مکہ کے راستے میں ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اس دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئیں گے ، وہ بادلوں کی مانند ( نفع رساں ) ہوں گے اور وہ روئے زمین پر موجود لوگوں میں بہترین ہوں گے ، تو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ ( یعنی کیا ہم روئے زمین کے سب سے بہتر لوگ نہیں ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں ارشاد فرمایا : ” البتہ تمہارا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : البتہ ہمارا معاملہ مختلف ہے ۔ “ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے ، اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار کی اسناد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2838) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1549) اخرجه احمد فى المسند (84/4)»
حدیث نمبر: 16620
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَخْرُجُ مِنْ عَدَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ " . ¤ قَالَ الْمُعْتَمِرُ : أَظُنُّهُ قَالَ : فِي الْأَعْمَاقِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " مِنْ عَدَنَ أَبْيَنَ " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُنْذِرٍ الْأَفْطَسِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عدن سے بارہ ہزار لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں گے اور وہ میرے اور اُن کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بہتر ہوں گے ۔ “ معتمر نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اعماق میں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” معدن ابین سے ۔ “ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف منذر افطس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2415) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11029)»
حدیث نمبر: 16621
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ : " لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي ، وَقَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيقَةً قُلُوبُهُمْ ، يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ مَرَّتَيْنِ ، فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصَاكَ ، ثُمَّ يَفِيئُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تُبَادِرَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا ، وَالْوَلَدُ وَالِدَهُ ، وَالْأَخُ أَخَاهُ ، فَانْزِلْ بَيْنَ الْحَيَّيْنِ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ قُطَيْبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے کہ آئندہ تمہارا گزر میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو ، میں تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ، جن کے دل نرم ہیں اور وہ حق کے لیے دو مرتبہ لڑائی کرتے ہیں ، تم اس شخص کے ساتھ مل کر جنگ کرنا ، جو اُن میں سے تمہاری اطاعت کرے گا ، اور اُس کے خلاف جنگ کرنا جو تمہاری نافرمانی کرے گا ، پھر وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے یہاں تک کہ ( یعنی اسلام قبول کرنے کے حوالے سے ) عورت اپنے شوہر پر ، اولاد اپنے والد پر اور بھائی ، بھائی پر سبقت لے جائے گا ، تم دو قبیلوں سکون اور سکاسک کے درمیان ٹھہرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ البتہ یزید بن قطیب نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (235/5)»
حدیث نمبر: 16622
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، قَوْمٌ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ ، حَسَنَةٌ طَاعَتُهُمْ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٌ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر “ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ، اور اہل یمن آ گئے جو ایسے لوگ ہیں ، جن کے دل صاف ہیں ، اور جن کی فرمانبرداری عمدہ ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا ) ایمان ، یمانی ہے ، سمجھ بوجھ یمانی ہے اور دانائی یمانی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ بن مسلم حنفی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2837) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2505)»
حدیث نمبر: 16623
وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ بِسْطَامٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرُوا حَاجَّ الْيَمَنِ وَمَا يَصْنَعُونَ فِيهِ ، فَسَبَّهُمْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الْيَمَنِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " زَيْنُ الْحَاجِّ أَهْلُ الْيَمَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، فِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
حیان بن بسطام ہذلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے یمن کے حاجیوں کا ذکر کیا اور حج کے دوران اُن کے طرز عمل کا ذکر کیا ، حاضرین میں سے کسی نے ان لوگوں کو برا کہا: تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم لوگ اہل یمن کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حاجیوں کی زینت اہل یمن ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں کچھ ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 16624
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَهُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ ، وَإِنْ بَعُدَ مِنْهُمُ الْمَرْبَعُ ، وَيُوشِكُ أَنْ يَأْتُوكُمْ أَنْصَارًا وَأَعْوَانًا ، فَآمُرُكُمْ بِهِمْ خَيْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان یمانی ہے اور وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میری طرف آئیں گے ، اگرچہ جگہ دور ہے اور عنقریب وہ لوگ مددگار اور معاون بن کر تمہارے پاس آئیں گے ، تو میں تمہیں ان کے بارے میں بھلائی کا حکم دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 16625
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا ، وَأَنْجَعُ طَاعَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " وَأَسْمَعُ طَاعَةً " . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل یمن سب سے زیادہ نرم دل والے اور سب سے زیادہ اچھے طریقے سے اطاعت کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں ۔ “ اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (298/17) اخرجه احمد فى المسند (154/4)»
حدیث نمبر: 16626
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ قَالَ : أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِيهِ أَحَدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ عُرْوَةَ بْنَ رُوَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عروه بن رویم بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس پاس تشریف لائے ، جو اس وقت دمشق میں موجود تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ ان کے پاس آئے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور اس حدیث میں آپ کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور نہ ہو ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایمان یمنی ہے اور اس طرح لخم اور جذام کی طرف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عروہ بن رویم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 16627
وَعَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ يَمَانٌ ، وَالْحِكْمَةَ يَمَانِيَّةٌ ، وَأَجِدُ نَفَسَ رَبِّكُمْ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
شبیب ابوروح بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ ! آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کیجئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے ، اور میں اپنے پروردگار کی ( یعنی رحمت کا ) جھونکا یمن کی طرف پاتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (541/2)»
حدیث نمبر: 16628
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَمُضَرُ عِنْدَ أَذْنَابِ الْإِبِلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان یمنی ہے اور مضر ( قبیلے کے لوگ ) اونٹوں کی دموں کے پاس ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10055)»
حدیث نمبر: 16629
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ مِنْ مَغَازِيهِ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَأَتَيْنَاهُ فِيهِ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَالْحِكْمَةُ هَاهُنَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنگ میں شرکت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، جب ہم اس دوران آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کئے اور یہ ارشاد فرمایا : ” ایمان یمنی ہے اور حکمت ، ادھر لخم اور جذام کی طرف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عروہ بن رویم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (402) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (242/22)»
حدیث نمبر: 16630
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَمُضَرُ عِنْدَ أَذْنَابِ الْإِبِلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایمان یمنی ہے اور مضر ( قبیلے کے لوگ ) اونٹوں کی دموں کے پاس ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/17)»
حدیث نمبر: 16631
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِيمَانُ يِمَانٌ فِي حِنْدِسٍ وَجُذَامَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَحَدِ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایمان یمنی ہے اور حندس اور جذام ( نامی قبیلوں ) میں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، البتہ میں نے اس کا کسی صحابی سے سماع نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 16632
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ : كَنْزَ فَارِسَ ، وَالرُّومِ ، وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ ، وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ ، يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ ، وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَهَا ثَلَاثًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے ہوئے تھے ، آپ کے اصحاب آپ کے پاس اکٹھے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج رات مجھے اللہ تعالیٰ نے دو خزانے عطا کیے ہیں ، اہل فارس کا خزانہ اور اہل روم کا خزانہ اور اس نے دو بادشاہوں کے ذریعے میری مدد کی ہے ، جو حمیر کے سفید فام لوگ ہیں ، ویسے بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، وہ لوگ آئیں گے اور اللہ کا مال حاصل کریں گے اور اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہمام شعبانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 16633
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ ; فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ فَقَالَ : " لَا " . ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ، يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَهُمْ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ فَارِسَ وَالرُّومَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَرُّوا بِكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ، وَيَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَإِنَّهُمْ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ " . ¤ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ ، فَقَدْ صَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں ، کیونکہ وہ لوگ زبردست لڑاکے ہیں ، اور ان کی تعداد زیادہ ہے ، اور ان کے قلعے مضبوط ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں پر لعنت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب وہ ( یعنی اہل یمن ) تمہارے پاس سے گزریں گے ، تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے ، انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں ، یعنی اہل فارس اور اہل روم پر لعنت کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اہل یمن تمہارے پاس سے گزریں گے تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے اور انہوں نے اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔ “ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے اور بقیہ نامی راوی نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (123/17) اخرجه احمد فى المسند (184/4)»
حدیث نمبر: 16634
وَعَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْفَهْمِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ مِنْ ثِيَابِ الْمَعَافِرِ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَعَنَ اللَّهُ هَذَا الثَّوْبَ ، وَلَعَنَ مَنْ يَعْمَلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَلْعَنْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثور فہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، وہاں ایک ” معافری ( یعنی یمنی ) کپڑا لایا گیا ، تو ابوسفیان نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کپڑے پر لعنت کرے اور اس شخص پر بھی لعنت کرے ، اسے بناتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ان لوگوں پر لعنت نہ کرو ! کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (310/22) اخرجه احمد فى المسند (305/4)»
حدیث نمبر: 16635
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ جُلُوسٌ ، فَأَوْسَعْنَا لَهُ فَجَلَسَ ، وَقَالَ : " أَيْنَ أَصْحَابِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ ، وَهُمْ مِنِّي ؟ وَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، وَيَدْخُلُونَهَا مَعِي ؟ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا قَالَ : " نَعَمْ . أَهْلُ الْيَمَنِ الْمُطَرَّحِينَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ ، الْمَدْفُوعُونَ عَنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَمْ يَقْضِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ فِيهِمْ خِلَافٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ يَتَضَمَّنُ بَعْضُهَا أَهْلَ الْيَمَنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ کے لئے گنجائش بنائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے وہ اصحاب کہاں ہیں کہ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں ، میں جنت میں داخل ہوؤں گا تو وہ میرے ساتھ اُس میں داخل ہوں گے ۔ “ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیں گے ؟ ( کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ) ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ اہل یمن ہیں ، جنہیں زمین میں دور کر دیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے دروازوں سے پرے کر دیا جاتا ہے اور ان میں سے کوئی ایک فرد مرتا ہے تو اس کی خواہش اس کے سینے میں ہی رہ جاتی ہے ، جسے وہ پوری نہیں کر سکا ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے عربوں کے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن کے ضمن میں اہل یمن کا ذکر بھی ہوا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16635
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف