کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اہل حجاز ، جزیرہ عرب ، اور طائف کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16608
عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ إِبْلِيسَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسُيُّ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابلیس اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب کی سرزمین پر اس کی عبادت کی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر احمسی ہے ، جس کو عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر احمسی ہے ، جس کو عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16609
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا : " أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اُس کی عبادت کی جائے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16610
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَشَرَةُ أَبْيَاتٍ بِالْحِجَازِ أَبْقَى مِنْ عِشْرِينَ بَيْتًا بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حجاز کے دس گھر ، شام میں بیس گھروں سے زیادہ باقی رہنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16611
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٌ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ أَهْلِ الْحِجَازِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دلوں کی سختی اور مزاج کی تیزی ، اہل مشرق میں ہے اور ایمان یمنی ہے اور سکینت اہل حجاز میں ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اہل حجاز کے تذکرے کے اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اہل حجاز کے تذکرے کے اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16612
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَأَهْلُ مَكَّةَ ، وَأَهْلُ الطَّائِفِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ إِخْرَاجُ أَهْلِ الْكُفْرِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالملک بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن میں اپنی اُمت کے جن لوگوں کی سب سے پہلے شفاعت کروں گا وہ اہل مدینہ اہل مکہ اور اہل طائف ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الجہاد میں
یہ روایت گزر چکی ہے کہ جزیرہ عرب سے کافروں کو نکال دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الجہاد میں
یہ روایت گزر چکی ہے کہ جزیرہ عرب سے کافروں کو نکال دیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 16613
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنْ قَدْ رَضِيَ بِمُحَقَّرَاتٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اُس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی راضی ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16614
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ ، وَلَكِنْ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ تمہاری طرف سے چھوٹی چیزوں سے بھی راضی ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16615
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ بَرَّأَ اللَّهُ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ مَا لَمْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس جزیرے کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے تاوقتیکہ ستارے انہیں گمراہ نہ کریں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16616
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مُحْتَضِنًا ابْنَيِ ابْنَتِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ ، إِنَّكُمْ تُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ وَجٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ " . ¤ وَقَالَ سُفْيَانُ : آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الطَّائِفُ ، قَالَ الشَّاعِرُ : ¤ لَأَطَأَنَّكُمْ وَطْأَةَ الْمُتَادَلِ . وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا أَعْلَمُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیده خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے اپنے دونوں نواسوں کو گود میں اُٹھایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اللہ کی قسم ! تم ( یعنی انسان کی اولاد ) بزدل اور کمزور بنا دیتے ہو ، البتہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عطا کئے ہوئے پھول ہو ، اور بے شک آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ” وج “ کے مقام پر ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے اس روایت میں ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : وہ آخری روندنا ہو گا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار اس کو روند دے گا ۔ “ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری غزوہ کیا تھا وہ غزوہ طائف تھا ، شاعر نے کہا: ہے : ” میں تم لوگوں کو یوں روند دوں گا ، جس طرح کوئی زخمی روندتا ہے ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز نامی راوی نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے اس روایت میں ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : وہ آخری روندنا ہو گا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار اس کو روند دے گا ۔ “ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری غزوہ کیا تھا وہ غزوہ طائف تھا ، شاعر نے کہا: ہے : ” میں تم لوگوں کو یوں روند دوں گا ، جس طرح کوئی زخمی روندتا ہے ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز نامی راوی نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 16617
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ : أَنَّهُ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ وَجٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” اولاد ( آدمی کو ) کنجوس اور بزدل بنا دیتی ہے اور آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ” وج “ کے مقام پر ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ آخری روندنا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار روندے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے ” وج “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ آخری روندنا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار روندے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔